• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انگریز نوآبادیاتی دور میں ساندل بار کا نہری اور زرعی بندوبست شروع ہوا تو مشرقی پنجاب کے ایک ہی گائوں کی بڑی آبادی کو اس کے پرانے نام ’’بخت پور‘‘ کے ساتھ ساندل بار میں آباد کیا گیا۔ نئی آبادکاری کے دوران بھی نقل مکانی کرنیوالے کسان گھرانوں نے اپنے گروہی تشخص کو برقرار رکھا۔ افسوس کہ اپنے مویشیوں اور گھریلو اثاثہ جات کے ساتھ ان لوگوں نے اپنی سابقہ مخالفتوں کو بخت پور میں منتقل کر دیا۔ چنانچہ محکمہ مال نے اس گائوں کو دو زونوں (پتیوں) میں تقسیم کرنے کے بعد انکے نمائندوں، چوہدریوں کو نمبرداری سونپ دی۔ شرارتی افراد کے زیراثر یہ دونوں گروہ ایک گائوں میں رہنے کے باوجود بات بات پر مخالفت سے تائب نہ ہو سکے۔ وقت گزرنے کیساتھ یہ مخاصمت خونیں تصادموں کی طرف چل پڑی۔ لیکن حیرت انگیز طور پر ان تصادموں میں ہلاکتوں اور زخموں کا شکار چوہدریوں کا کام کاج کرنے والے یا دیگر ورکر کلاس کے لوگ ہی پائے جاتے۔ ایک شدید لڑائی میں چوہدری صاحب کے جوان بیٹے کی ہلاکت نے گائوں کی فضا کو شدید سوگوار کر دیا۔ قریب تھا کہ ادلے بدلے کی کارروائی مزید خون آشامی دکھاتی کہ چند خیراندیش افراد نے نہایت اخفا کے ساتھ دونوں چوہدری خاندانوں کے درمیان چند شرائط پر صلح کروا دی۔ یہ خبر چوہدری خاندانوں کے ان نیازمندوں پر بجلی بن کر گری جن کا روزگار ہی ڈیروں پر برپا ہونے والی چاپلوس اور خوشامدی محفلوں سے چل رہا تھا اور جنکے بیان کردہ خودساختہ بہادری کے قصے چوہدریوں کو ہر وقت لڑائی کیلئے تیار رکھتے۔ صلح کے بعد ایک روز گائوں کا میراثی (دادہ صاحب) اپنے گھر سے دیسی مرغ کا سالن بنا کر لایا اور ڈیرے پر اپنے گروپ کے ساتھ بیٹھے چوہدری صاحب کے سامنے مٹی کی ہنڈیا کو پھوڑ دیا۔ میراثی نے خودساختہ کہانی سنائی کہ کس طرح اس کی بیوی نے اپنے داماد کیلئے شوق سے یہ ڈش تیار کی، لیکن کھانا کھانے سے قبل آپ کے مقتول بیٹے کا اچانک خیال آ گیا تو انتہائی اُداس ہو گئی۔ چنانچہ سب لوگوں نے اس سوگواری میں کھانا کھانے سے انکار کر دیا ۔ اس مرغ گوشت کو میں ڈیرے پر لے آیا ہوں تاکہ ضائع نہ ہو اور کوئی کھا لے۔ یہ سننا تھا کہ چوہدری صاحب اور اسکے بیٹے پہلے غمگین اور پھر اشتعال میں آ گئے۔ چوہدری نے اپنے دیگر رشتہ داروں کو غیرت دلائی کہ کس آسانی سے ہم نے اپنے مقتول بیٹے کے خون پر صلح کر لی اور بھلا دیا۔ چنانچہ سب لوگ للکارا مار کر اُٹھے اور اپنے ہتھیاروں کی مدد سے مخالف گروہ پر حملہ کر کے ان کے تین افراد کو موقع پر ہلاک کر دیا اور یوں دشمنی کا طویل سلسلہ دوبارہ چل پڑا جس نے گروہوں کے مفاد پرستوں کیلئےدوبارہ راہیں کھول دیں۔یہ سچا واقعہ بیان کرنے کا مقصدیہ واضح کرنا ہے کہ لڑائی علاقائی ہو یا عالمی اس کی پشت پر بے شمار طفیلی گروہوں اور اسٹیک ہولڈرز کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں۔ صلح کی صورت میں یہ مفاد پرست عناصر جنگی تماشا کو جاری رکھنے کیلئے سازشوں کے جال تیار کرتے رہتے ہیں اور متحارب گروپوں کے صلح اجلاس سے لے کر مستقل عملدرآمد تک اس صلح کو سبوتاژ کرنے کے دَرپے رہتے ہیں۔امریکہ ایران کے درمیان حالیہ سیزفائر اگرچہ امن عالم کیلئے نہایت حوصلہ افزا ہے، لیکن نہایت نازک (Fragile) بھی ہے۔ اس سیزفائر کو بے شمار خفیہ اور ہویدا حربوں سے سبوتاژ کرنے کی کوششیں شروع ہو چکی ہیں۔ اسلام آباد میں ہونے والا یہ مجوزہ معاہدہ، جنیوا معاہدہ کے بعد یقینا ًتاریخ عالم کا ایک عظیم روشن باب بن رہا ہے جسے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے سیزفائر کی کامیابی تک پہنچا دیا ہے۔موجودہ جنگی فائربندی کو مکمل صلح میں تبدیل کرنے کیلئے پاکستان اور دیگر صلح کن طاقتوں کو بے شمار مگرمچھوں کا مقابلہ کرنا پڑئیگا۔ معاہدے کی حفاظت کیلئےاور پھر اپنے انفرادی ملکی مفادات کی حفاظت کیلئے نہایت محتاط اور ہوشیار نگاہی سے کام لینا پڑئیگا تاکہ صلح کا عمل ڈی ریل نہ ہو اور پاکستان کو بلیک میل نہ کیا جا سکے۔ یہ سبوتاژ ان علاقائی عناصر سے بھی ہو سکتا ہے جو عسکری یا سیاسی ہارڈ لائنرز ہیں یا دشمن طاقتوں کے پے رول پر ہیں۔ امن میں تخریب ان بگاڑو لوگوں کی طرف سے بھی ہو سکتی ہے جنکے خیال میں یہ جنگی صلح انکے معاشی، عسکری یا گروہی مفادات کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ یہ مستقبل کے معاہدے میں سے نئی نئی درفطنیاں، خرابیاں اور توضیحات نکالیں گے جن پر پیشگی نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ معاہدے کی تمام جزیات اور تفصیلات پر فریقین کی رضا اور تسلیم لازم ہے۔ مجوزہ معاہدے کے بعد فریقین کو کسی اشتعال کی صورت میں یکطرفہ طور پرقدم اُٹھانے یا جنگ شروع کرنے سے سختی سے منع کر دیا جائے۔ ایسے یک طرفہ اقدام معاہدہ کو ختم کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔ آئرلینڈ کی دیرینہ جنگ آزادی میں آئیآراے اور کمبوڈیا کی جنگ میں ’’کھیمرراج‘‘ جھوٹی افواہوں پر بار بار اشتعال میں آ کر معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے رہےاور اپنے ہم وطنوں کی آزادی کو تاخیر میں ڈالتے رہے۔ امن دشمن قوتیں جنہیں امن نہیں بھاتا، صلح جو راہنمائوں کو بدنام کرنے کیلئے شرمناک حربے اختیار کر سکتی ہیں۔ جیسا کہ اب امریکی خاتون اول میلانیہ ٹرمپ نے بدنامِ زمانہ جیفری ایپٹسن سے تعلقات بارے نئے نئے انکشافات شروع کر دیئے ہیں۔ ناقدین کا خیال ہے کہ اس کے پیچھے بھی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی سازش کارفرما ہے تاکہ صدرِ امریکہ کو بدنام کیا جا سکے اور دبائو میں لایا جائے۔ حالیہ سیزفائر کے دوران اسرائیل کی لبنان پر شدید بمباری بھی ایسی ہی ایک کوشش ہے۔اسلئے مجوزہ معاہدہ جنگ مستقل نوعیت کا ہونا چاہئے جسکی تمام شقیں اپنی مکمل توجیہ اور توضیح کے ساتھ لکھی جائیں تاکہ بعدازاں کسی عذرِ جارحیت اور خلاف ورزی کا باعث نہ بن پائیں۔ قبل ازیں دونوں فریقین یعنی امریکہ، ایران مجوزہ معاہدہ کے بیشتر نکات پر متفق ہو چکے ہیں۔ لہٰذا ان پر اتفاق اور عمل درآمد کیلئے کوئی خوئے بدرا، کوئی بہانۂ بسیار کارفرما نہیں ہونا چاہئے۔

تازہ ترین