• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فریقین میں تکنیکی ماہرین کی سطح پر بھی گفتگو ہوئی، مذاکرات کا مجموعی ماحول مثبت

اسلام آباد، واشنگٹن، تہران (رانا غلام قادر، اے ایف پی، جنگ نیوز) امریکا اور ایران کے درمیان ہفتے کو اسلام آباد میں براہ راست مذاکرات ہوئے، پاکستان کی محنت رنگ لے آئی، دونوں ملکوں کے درمیان 47سالہ بعدیہ اعلیٰ سطح کا پہلا رابطہ ہے۔

وائٹ ہائوس نے بھی تصدیق کی ہے کہ پاکستان، امریکا اور ایران آمنے سامنے بیٹھ کر بات کررہے ہیں، جے ڈی وینس، وٹکوف، جیراڈ کشنر کے ڈھائی گھنٹے تک باقر قالیباف اور عباس عراقچی سے مذاکرات ہوئے، بات چیت میں فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی شریک تھے، دونوں جانب کے ماہرین کی ٹیم بھی معاونت کر رہی ہے۔

فریقین میں تکنیکی ماہرین کی سطح پر بھی گفتگو ہوئی، مذاکرات کا مجموعی ماحول مثبت، نتائج بھی حوصلہ افزا رہا، مذاکرات آج بھی جاری رہیں گے، ذرائع کا کہنا ہے کہ آج مذاکرات کا حتمی نتیجہ متوقع ہے۔

امریکی اور ایرانی فود نے اپنے قیام میں توسیع کر دی، مذاکرات سے قبل وزیراعظم سے جے ڈی وینس اور قالیباف کی قیادت میں امریکی و ایرانی وفود کی علیحدہ علیحدہ ملاقات ہوئی، جس میں تعمیری مذاکرات کے عزم کا خیر مقدم کیا گیا۔

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ فریقین کا مثبت رویہ خطے میں امن کیلئے سنگ میل ثابت ہوسکتا ہے، پاکستان خطے میں دیرپا امن کیلئے اپنا کردار جاری رکھنے کیلئے دونوں فریقوں کی سہولت کاری جاری رکھنے پر پرعزم ہے۔

دریں اثناء فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں نے ایرانی ہم منصب مسعود پزشکیان سے فون کرکے کہا کہ پائیدار امن کیلئے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات سے فائدہ اٹھائیں، دریں اثناء مذاکرات کےدوران ہفتے کو آبنائے ہرمز سے تیل سے لدے تین بڑے بحری جہاز گزر گئے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسلام آباد مذاکرات خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ فریقین سنہری موقع سے فائدہ اٹھائیں، برطانوی میڈیا کے مطابق بات چیت کے دوران ایرانی اور امریکی ماہرین کے درمیان ’تحریری مسودوں کا تبادلہ‘ ہوا، آبنائے ہرمز سے ’بارودی سرنگیں ہٹانے کا کام شروع کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق چھ ہفتے سے جاری جنگ کے خاتمے کیلئے اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات ہفتے شروع ہوئےجو آج ( اتوار) کو بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔ 

سفارتی ذرائع کے مطا بق امریکہ ایران مذاکرات آج بھی جاری رہیں گے۔ ذرائع کے مطا بق مذاکرات مثبت سمت میں جا رہے ہیں۔ مذاکرات میں جن نکات پر اتفاق ہوا اور جو معاہدے ہونگے، فریقین اپنی قیادت کو اس سے آگاہ کرینگے۔ 

ذرائع کے مطا بق اسلام آباد ٹالکس آج حتمی نتیجے کی طرف جائیں گی۔ قبل ازیں اسلام آباد کے نجی ہوٹل میں ایران اور امریکا کے درمیان پہلے دور میں اعلی سطح کے مذاکرات ہوئے ۔ جسکے بعد تکنیکی ماہرین کی سطح پر بات چیت کی گئی۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور اڑھائی گھنٹے جاری رہا۔ ڈھائی گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات میں پاکستانی ثالث بھی موجود تھے۔ ذرائع کے مطابق ابتدائی بات چیت مثبت رہی ہے۔ 

اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ مختصر وقفے کے دوران سہ فریقی مذاکرات آٹھ سے ساڑھے آٹھ کے درمیان دوبارہ شروع ہو ئے۔تاہم یہ طے پایا کہ مذاکرات کے عمل کو اتوار کے روز بھی جارکھا جا ئے جس کیلئے امریکی اور ایرانی وفود نے اپنے قیام میں توسیع کردی ہے۔ 

اسلام آباد میں پاکستان کی میزبانی میں امریکا اور ایران کے مذاکرات جاری ہیں اور فریقین کے درمیان دو ادوار پر مشتمل باضابطہ مذاکرات اب تک مکمل ہو چکے ہیں۔ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں، دوسرے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہِ راست مذاکرات شروع ہوئے۔ 

ذرائع کے مطابق جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے ایرانی وفد سے ملاقات کی، امریکی وفد نے محمد باقر قالیباف اور عباس عراقچی سے براہِ راست بات چیت کی، ملاقات فیلڈ مارشل عاصم منیر کی موجودگی میں ہوئی۔ 

ذرائع کا کہنا ہےکہ اس وقت دونوں وفود کے درمیان ورکنگ ڈنر جاری ہے، ورکنگ ڈنر کے بعد تیسرے مرحلےکے تکنیکی مذاکرات شروع ہوں گے، تکنیکی مذاکرات میں دونوں جانب کے سینئر حکام شریک ہونگے، مذاکرات میں تفصیلات اور باقی معاملات پر بات کی جائے گی۔ 

ذرائع کے مطابق اب تک مذاکرات کا مجموعی ماحول مثبت رہا ہے، نتائج بھی مجموعی طور پر حوصلہ افزا قرار دیئے جا رہے ہیں۔ ایران امریکہ مذاکرات دوسرے روز میں داخل ہوگئے۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات مثبت سمت میں جاری ہیں۔ 8 گھنٹوں سے جاری مذاکرات میں رات کے کھانے کا بھی وقفہ لیا گیا۔ 

مذاکرات کے دوران وفود نے اپنی اپنی قیادتوں سے بھی رابطے میں رہے۔ مذاکرات کاروں کے قریبی ذرائع کاکہنا ہے کہ مذاکرات کا ایک اور دور ممکنہ طور پر آج رات یا کل منعقد ہوگا۔ برطانوی میڈیا کے مطابق اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے دوران دوسرے دور میں تکنیکی ماہرین کی سطح پر بات چیت جاری ہے جبکہ ایرانی ذرائع کے مطابق تحریری مسودوں کا تبادلہ بھی ہوا ہے۔ 

ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا ہے کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے کا آغاز کردیا ہے۔وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق یہ سہ فریقی براہ راست مذاکرات اسلام آباد میں ہو رہے ہیں۔ یہ حالیہ روایت سے ہٹ کر ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ اس سے قبل دونوں فریقین ثالث کے ذریعے الگ الگ کمروں میں بیٹھ کر بات چیت کرتے رہے ہیں۔ 

وائٹ ہاؤس کے اہلکار کا بیان متعلقہ شعبوں کے امریکی ماہرین کی مکمل ٹیمیں اسلام آباد میں موجود ہیں۔جبکہ اضافی ماہرین واشنگٹن سے تعاون فراہم کر رہے ہیں۔ امریکا ایران مذاکرات سے قبل ازیں وزیراعظم محمد شہبازشریف نے امریکی نائب صدر کے ہمراہ آنے والے وفد سے ملاقات کے بعد ایران کے مذاکراتی وفد سے علیحدہ ملاقات کی۔ 

وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ایرانی وفد کی قیادت ایران کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کی اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے معاونت کی۔ اسلام آباد مذاکرات میں ایران کی شمولیت کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے مفاد میں بامعنی نتائج کے حصول کی جانب رفتار بڑھانے میں مدد کیلئے ثالث کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پاکستان کے مخلصانہ عزم کا اعادہ کیا۔ 

ملاقات میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی بھی موجود تھے۔ وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ملاقات کی جس میں تعمیری مذاکرات کے عزم کا خیر مقدم کیا گیا۔ 

وزیراعظم نے کہا کہ مذاکرات خطے میں پائیدار امن کی جانب اہم پیش رفت ثابت ہوں گے۔ امریکی نائب صدر کے ہمراہ خصوصی نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی موجود تھے۔وزیراعظم نے دونوں وفود کی جانب سے تعمیری انداز میں مذاکرات میں شرکت کے عزم کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ بات چیت خطے میں دیرپا امن کے قیام کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگی۔ 

وزیراعظم نے کہا کہ مذاکرات خطے میں پائیدار امن کی جانب اہم پیش رفت ثابت ہوں گے، پاکستان خطے میں دیرپا امن کیلئے اپنا کردار جاری رکھنے کیلئے دونوں فریقوں کی سہولت کاری جاری رکھنے پرپرعزم ہے۔ 

علاوہ ازیں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں نے ہفتے کے روز کہا کہ انہوں نے اپنے ایرانی ہم منصب مسعود پزشکیان پر زور دیا ہے کہ وہ ’’مستقل تناؤ میں کمی‘‘ حاصل کرنے کیلئے پاکستان میں امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کا فائدہ اٹھائیں۔

اہم خبریں سے مزید