• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مارگلہ … 

صدیوں پرانی کہاوت ہے ’’ادھار محبت کی قینچی ہے‘‘ قرض لینے والا کوئی شخص ہو یا ملک جب وہ کسی سے قرض لیتا ہے تو نہ صرف قرض لینے والے کی تمام شرائط من و عن قبول کرتا ہے بلکہ اپنی عزت و وقار کو بھی گروی رکھ دیتا ہے۔پاکستان پچھلے کئی برسوں سے آئی ایم ایف اور دوست ممالک کے قرضوں پر چل رہا ہے۔ کبھی ہم آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں ،کبھی دوست ممالک چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں زرمبادلہ بطور امانت رکھنے کیلئے رجوع کرتےہیںان دوست ممالک کے مالی تعاون سے پاکستان ڈیفالٹ ہونے سے بچ رہا ہے۔ پاکستان قرض کو ’’رول اوور‘‘ کرنے پر ہمیشہ ان تین ممالک کا شکرگزار رہا ہے۔ خلیجی جنگ میں امریکہ اور اسرائیل ایران پر حملہ آور ہوئے تو ایران نے جوابی طور پر متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، کویت، عمان، قطر اور بحرین سمیت ان تمام خلیجی ممالک پر میزائلوں کی بارش کر دی جن میں امریکی اڈے تھے ۔

ان حالات میں متحدہ عرب امارات کی جانب سےپاکستان کے اسٹیٹ بینک میں رکھوائے گئے تقریباً 3ارب ڈالر کی فوری واپسی کی ڈیڈ لائن دینے سے سوشل اور پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا پر غیر ضروری طور پر اسے اسکی ناراضی سے تعبیر کرنے کی کوشش کی گئی اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ ممکن ہے متحدہ عرب امارات کی جانب سے قرض کی واپسی کے پیچھے ناراضی کا بھی عمل دخل ہو لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ شیخ زید بن سلطان النہیان کے دور سے پاکستان متحدہ عرب امارات کے احسانوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے پاکستان رحیم یار خان میں متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں کی میزبانی کے فرائض سرانجام دیتا ہے انکا سرکاری پروٹوکول کیساتھ استقبال کیا جاتا ہے۔ شیخ زید بن سلطان النہیان تو پاکستان کو اپنا دوسرا گھر قرار دیتے رہے۔پاکستان کے ایٹمی قوت بننے میں جن دوست ممالک نے پاکستان کی مدد کی ان میں متحدہ عرب امارات بھی شامل ہے یہی وجہ ہے پاکستان متحدہ عرب امارات کی مہربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ شنید ہےکہ متحدہ عرب امارات نے جنوری 2026ء کے اوائل میں پاکستان کو دئیے گئے قرض کی فوری ادائیگی کا تقاضا شروع کر دیا تھا متحدہ عرب امارات جو پچھلے 6، 7سال دو ارب ڈالر قرض کو رول اوور کر رہا تھا اچانک اس کے طرز عمل میں سختی آجانا قابل فہم نہیں اس بارے میں نہ جانے کس حد تک صداقت ہے کہ متحدہ عرب امارات نے قرض کی عدم ادائیگی کی صورت میں وہاں پاکستانیوں کی ملکیتی پراپرٹی ضبط کرنیکی دھمکی دی ہے۔ جبکہ حکومت پاکستان نے اس بارے میں افواہوں کی تردید کی ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے متحدہ عرب امارات کو کم و بیش 3ارب ڈالر واپس کرنے کی تصدیق کی ہے اور اسے ایک معمول کا لین دین قرار دیا ہے اور کہا ہے یہ رقوم دو طرفہ تجارتی معاہدوں کے تحت رکھی گئی تھیں اسٹیٹ بینک آف پاکستان ان ڈپازٹس کی مدت میچور ہونے پر واپس کر رہا ہے۔ پاکستان اور یو اے ای کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات قائم ہیں جو تجارت، سرمایہ کاری ، دفاع اور عوامی روابط پر مبنی ہیں۔وفاقی وزارت خزانہ کے ترجمان نے بھی وضاحت کی ہے کہ وزارت خزانہ بیرونی ادائیگیوں کی نگرانی کر رہی ہے پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائرمستحکم ہیں جب 10اپریل 2022ء کوعمران خان کی حکومت ووٹ آئوٹ کی گئی تو اس وقت پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر خطرناک حد تک گر گئے تھے کسی بھی وقت پاکستان ڈیفالٹ کر سکتا تھا اس وقت متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور چین پاکستان کی مدد کو آئے اور پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچا لیا۔

پاکستان ان ممالک کا ہمیشہ ممنون رہے گا جنہوں نے مشکل وقت میں پاکستا ن کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم بنایا۔ اس وقت پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر21ارب ڈالر ہیں جن میں سے 16ارب ڈالر اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور پانچ ارب ڈالر کمرشل بینکوں کے پاس ہیں 16ارب ڈالر میں سے12ارب ڈالر چین، سعودی عرب کے ہیں جبکہ دو ارب ڈالر متحدہ عرب امارات کے ہیں جو وہ ہر سال رول اوور کر کے پاکستانی معیشت کو سہارادے رہا تھا متحدہ عرب امارات نے پاکستان کو ڈیڑ ھ ارب ڈالر کا قرضہ دے رکھا ہے جس میں45کروڑ ڈالر کا قرضہ بھی شامل ہے جو پاکستان نے 1996ء میں لے رکھا تھا متحدہ عرب امارات کو یہ قرض بھی اچانک یاد آگیا ہے ۔اس طرح پاکستان کے ذمہ متحدہ عرب امارات کے ساڑھے تین ارب ڈالر ہیں پاکستان رول اوور کی جانیوالی رقم پر ہر سال متحدہ عرب امارا ت کو 6 فیصدسود کی ادائیگی کرتا ہے۔

پاکستان پچھلے8سال تک ڈپازٹ واپس کرنےکی پوزیشن میں نہیں تھا لہٰذا 6فیصد سود کی ادائیگی پر ڈپازٹ رول اوورکرواتا ر ہا لیکن دسمبر2025ء کو متحدہ عرب امارات نے اچانک اسٹیٹ بینک میں ڈپازٹ کی گئی رقم کی واپسی کا تقاضا شروع کر دیا البتہ رول اوور کی مدت ایک سال کی بجائے دو دو ماہ کرتا رہا اب تو پاکستان کو اپریل کے اواخر میں ڈپازٹس واپس کرنے کا تقاضا شروع کر دیا۔ شنید ہے کہ رقم کی واپسی کا تقاضا دوستانہ نہیں ساہو کاروں جیسا تھا۔ ہم نے 8سال قبل ادھار لیا تھا کبھی تو اس رقم کو واپس کرنا ہی تھا لہٰذا اس کی ادائیگی کو خطے کی صورت حال سے نہ جوڑا جائے کچھ لوگوں کی رائے ہےکہ قرض کی ادائیگی کا تقاضا خلیجی جنگ میں پاکستان کے کردار سے الگ نہیں کیا جا سکتا ۔حیران کن بات ہے کہ متحدہ عرب امارات نے ادھار رقم کی واپسی کا تقاضا کیا تو پاکستان نے لیت ولعل سے کام لینے کی بجائے کھڑے کھڑے پیسے واپس کرنے کی یقین دہانی کرا دی عام تاثر یہ تھا 3ارب ڈالر کی ادائیگی سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو دھچکا لگے گا لیکن آئی ایم ایف کی قسط ملنے سے زر مبادلہ کے ذخائر کو سہارا مل جائیگا پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کو کسی ملک کے تابع بنانے کی بجائے اپنے قومی مفادات کو پیش نظر رکھا ہے خلیجی جنگ میں کسی ایک ملک کیساتھ کھڑا ہونے کی بجائے ثالثی کا کر دار ادا کر رہا ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بند کرا دی ہے اور پوری دنیا کی توجہ کا مرکز اسلام آبادبن گیا ہے پاکستان کو جو عزت ملی ہے اس میں تین اشخاص وزیراعظم شہباز شریف ، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور سینیٹر اسحق ڈار کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔

تازہ ترین