• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آیت اللہ علی خامنائیؒ کی اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ قربانی وہ رنگ لائی جس نے دنیا کے باطل نظاموں کا دھڑن تختہ کر دیا۔پستیوں کے اندھیرے سے نکال کر ایران کو دنیا کے نقشے پر موسیٰ ؑکے ہاتھ کی چمکتی روشنی کی مانند نمایاں کر دیا۔ آیت اللہ ؒکی بے لوث قربانی پوری اُمّت کی زکوۃ کی مانند ہے جو لازوال ہے۔ آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے شہدائے فلسطین، ایران اور لبنان کی قربانیاں یقیناً مشعل ِراہ اور حق سے وفاداری کی بہترین مثال ثابت ہوں گی۔علاوہ ازیں پاکستان کا کردار بھی وفا، حکمت¾ و دانائی کی اعلیٰ مثال کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کہ کیسے پاکستانی قیادت نے اُمّت ِمسلمہ کو دشمن کی چالوں میں پھنسنے سے بچا کر یکجہتی، بھائی چارے اور رواداری کے راستے پر گامزن کیا۔ آج پاکستان، ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کرا رہا ہے جس کے لیے اسے بہت سے اونچ نیچ دیکھنا پڑے۔ متحارب فریقین کے درمیان رابطہ کاری ویسے بھی بہت صبر آزما، فہم و فراست کی متقاضی ہوتی ہے جبکہ پاکستان کے ازلی دشمن ہندوستان اور اسرائیل سے تو یہ کڑوی گولی کسی طور نگھلی نہیں جا رہی۔ ایک طرف ہندوستانی میڈیا کی چیخیں آسمان کو چھو رہی ہیں تو دوسری جانب ممکنہ امن معاہدے اور پاکستانی کردار سے "شیطن یاہو" کانٹوں پر لوٹ رہا ہے۔ اسے خوف ہے کہ امریکہ جنگ سے باہر نکل گیا تو یہ جنگ تنہا اس کے کاندھوں پر آن پڑے گی۔اُدھر پاکستان نے انتہائی سمجھداری سے مشرقِ وسطیٰ کے عرب ممالک کو ایرانی حملوں کے جواب میں تحمل، برداشت اور بردباری پر آمادہ کیا اور واضح کیا کہ حملے ان کی سرزمین پر نہیں کیے گئے۔بلا شبہ اس عمل میں سعودی عرب کا کردار خصوصاً قابلِ تحسین ہے کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اسرائیل کی طرف سے ایرانی شکل کے ڈرون اور میزائل حملوں کے پیچھے چھپی سازش کا ادراک کرتے ہوئے صبر و برداشت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے دیا۔ سعودی عرب اگر جنگ میں کود پڑتا تو لامحالہ پاکستان کو بھی جنگ کا حصہ بننا پڑتا ہے کہ وہ سعودی عرب کا دفاعی پارٹنر ہے۔یوں بھائی بھائی آپس میں گتھم گتھا ہوجاتے اور "شیطن یاہو" تماشہ دیکھتا۔

ایران واضح طور پر اس جنگ میں فاتح ہے۔ امریکہ اپنے تمام لاؤ لشکر، مال و اسباب، اسلحہ اور جدید ہتھیاروں سمیت مات کھا گیا! ہر فرعونِ را موسیٰ! بظاہر امریکہ کی اس شکست کے بہت سے اسباب ہیں جن میں منصوبہ بندی کا فقدان،امریکی قیادت کا ایک صفحے پر نہ ہونا،" شیطن یاہو" جیسے ازلی جھوٹے پر ٹرمپ کا اندھا اعتماد اور موساد چیف کی جھوٹی یقین دہانی کہ ایران کے زمینی حالات کے مطابق آیت آللہؒ کے بعد ایران صرف تین روز میں گھٹنے ٹیک دے گا ، ٹرمپ کی نومبر انتخابات میں اپنی لازوال کامیابی کی خواہش اور سب سے بڑھ کر اپنی عسکری طاقت و مصنوعی ذہانت کے استعمال پر غیر متزلزل یقین نظر آتا ہے۔ تاہم درحقیقت یہ شکست امریکی صدر، "شیطن یاہو" اور ان کے حواریوں کے تکبر کا نتیجہ ہے۔ ان کی خود اعتمادی کہ وہ جسے چاہیں نیست و نابود کر دیں، تباہ و برباد کریں، تہذیبیں ملیامیٹ کر دیں۔ ان کے دعوے کہ ان کے پاس دنیا کا بہترین اسلحہ ،ہتھیار اور فوجی قوت ہے جسے کوئی نیچا نہیں دکھا سکتا۔ ٹرمپ کا مشرقِ وسطیٰ کے دورے پر بادشاہوں کی طرح خراج وصول کرنا، یورپی ممالک کی تضحیک کرنا، کینیڈا، گرین لینڈ اور نیٹو کی بھد اڑانا،انہیں دھمکانا ،وینزویلا کے صدر مڈورو کو دیدہ دلیری سے اغوا کرنا جیسے متکبرانہ کرتوت شامل ہیں۔ ٹرمپ ماضی میں ٹی وی شو کرنے، اشتہاروں میں آنے اور نورا کشتی کے" ریسلنگ مینیا" جیسے پروگراموں میں شامل ہوتے تھے۔ وہ اداکاری کے شوقین ہیں اور ہر قدم پر اداکاری کا سہارا لیتے ہیں۔ ان کی بڑک سے خائف نہیں ہونا چاہیے بعینی ان کے سر تسلیمِ خم کرنے سے بھی مرعوب ہونا بے سود ہوگا۔ ایران سے بات کرنے کے لیے انہوں نے پاکستان سے خود رابطہ کیا کیونکہ واحد پاکستان ہی برادر ایران سے مکالمہ کر سکتا تھا۔ تاہم یہ ملحوظ خاطر رہے کہ ٹرمپ اور "شیطن یاہو" کے گٹھ جوڑ میں دراڑ پڑنا ممکن نہیں۔ ٹرمپ اپنے مالی مفاد کو ہر چیز پر مقدم رکھتے ہیں، انکا مذاکرات کے لیے اپنے کاروباری ساتھی وٹکوف اور داماد جیرڈکشنر کو امریکی نائب صدر کے ساتھ بھیجنا، اسٹاک مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے کھیلنے یا کسی کاروباری ڈیل کے جانب اشارہ ہے۔ جبکہ ایران میں آیت اللہ مجتبی خامنئی اور ایرانی عوام صرف 47 سال سے لگی ناجائز پابندیوں اور لاکھوں شہادتوں کا بدلہ لینے کے لیے خواہاں ہیں۔البتہ" شیطن یاہو" خود پر لگے کرپشن کے الزامات میں سزا سے بچنے کے لیے اپنے لوگوں اور ناجائز صیہونی ریاست کو داؤ پر لگائے بیٹھا ہے کہ مسلسل جنگ¾ کرتے رہنا ہی اس کے بچاؤ کی ضمانت ہے! مذاکرات کا نتیجہ خواہ کچھ بھی نکلے لیکن پاکستان نے دنیا کے امن کے لیے اپنا فرض بخوبی نبھایا ہے۔البتہ امریکی نائب صدر کے دورے کے لیے جو ساز و سامان، مواصلاتی نظام،بکتر بند قسم کی گاڑیاں اور "ویزہ آن ارائول" پر سینکڑوں مبینہ طور پر صحافی اور سیکورٹی سٹاف پاکستان میں داخل ہوئے انہیں واپس روانہ کرنا انتظامیہ کے لئےانتہائی اہم ہے۔ ماضی میں بھی امریکی جہازوں کی ٹریکنگ اور ریڈار بند کرکے، "ویزہ آن ارائیول" پر سینکڑوں نام نہاد مبینہ صحافیوں اور سیکورٹی اہلکاروں کو آنے دیا گیا تھا جن کی واپسی کا کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں کہ وہ کہاں گئے یا گئے بھی کہ نہیں۔

عارضی جنگ بندی کروانے کا سہرا تو پاکستان کے سر جاتا ہی ہے لیکن خطے کو آپس میں جنگ میں الجھنے سے باز رکھنے کا پاکستانی حکومت کا کردار قابلِ ستائش ہے۔ اسی لیے مصر، ایران اور دیگر ممالک نے اعتراف میں پاکستان کے لیے اپنی زبانوں میں ترانے جاری کئے ہیں۔ بحثیتِ پاکستانی آج ہر محب وطن پاکستانی کا سر فخر سے بلند ہے۔ اس کی وجہ پاکستان کی جوہری صلاحیت نہیں کہ وہ تو ہمیں 1998 سے ہی حاصل ہو چکی تھی بلکہ یہ ہماری غیرت و حمیت، ہماری اسلام و مسلم دوستی، ہماری قیادت کی بے لوث اور انتھک محنت کا نتیجہ ہے کہ آج ہمارے وطنِ عزیز کا نام پوری دنیا میں اونچا ہوا۔ پاکستان بلندیوں کی جانب پرواز بھر چکا ہے لہٰذا قوم کو بھی یکسو ہونے کی ضرورت ہے۔ قیادت اکیلے کچھ دیر اور کچھ دور تک ملکی مفادات کا تحفظ کر سکتی ہے لیکن دیرپا و دور رس نتائج حاصل کرنے کے لیے اصل کام قوم ہی کو کرنا پڑتا ہے۔ آج ایرانی قوم کی یکجہتی ہمارے لیے ایک استعارے کی مانند ہے کہ کیسے انہوں نے کڑے وقت میں مہنگائی اور مشکلات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنی قیادت پر اعتماد کیا اور اس کے ہاتھ مضبوط کیے۔ اب بھی وہ اپنی قیادت کے ہر فیصلے کے پیچھے کھڑے ہیں چاہے جنگ ہو یا امن،چاہے زندگی ہو یا موت!

بے محنتِ پیہم کوئی جوہر نہیں کُھلتا

روشن شَررِ تیشہ سے ہے خانۂ فرہاد!

تازہ ترین