ایک تحقیق کے مطابق 20 اور 30 سال کی درمیانی عمر میں موٹاپا ہو تو قبل از وقت موت کا خطرہ 70 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ موٹاپا کب شروع ہوتا ہے اور اس کا صحت پر اثر اس بات سے زیادہ ہوتا ہے کہ وزن کتنا بڑھتا ہے۔
یہ تحقیق سوئیڈن کے صوبے اسکانیا میں واقع لوند یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے کی، جس میں تقریباً 6 لاکھ 20 ہزار مرد و خواتین کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جن کی عمر 17 سے 60 سال کے درمیان تھی اور ان کا وزن کم از کم تین بار ناپا گیا تھا۔
یہ تحقیق بین الاقوامی طبی جریدے ای کلینیکل میڈیسن میں حال ہی میں شائع ہوئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ 20 اور 30 سال کے درمیان میں ہونے والا موٹاپا خاص طور پر خطرناک ہوتا ہے۔ وہ افراد جنہیں 17 سے 29 سال کی عمر کے درمیان موٹاپا ہوا، ان میں قبل از وقت موت کا خطرہ ان لوگوں کے مقابلے میں 70 فیصد زیادہ تھا جو زندگی بھر موٹاپے کا شکار نہیں ہوئے۔
تحقیق کے مطابق جتنی تیزی سے وزن بڑھتا ہے، اتنی ہی زیادہ موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تیزی سے وزن بڑھنے سے دل کی بیماریوں اور ذیابیطس کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔ تاہم آہستہ وزن بڑھنا بھی نقصان دہ ثابت ہوا۔ مثال کے طور پر وہ افراد جن کا وزن 17 سے 30 سال کی عمر کے دوران ہر سال تقریباً 0.4 کلوگرام بڑھا، ان میں بھی قبل از وقت موت کا خطرہ 17 فیصد زیادہ پایا گیا۔
ماہرین کے مطابق کم عمری میں موٹاپا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جسم زیادہ عرصے تک زائد چربی کے اثرات کا شکار رہتا ہے۔ جتنا زیادہ عرصہ چربی جمع رہتی ہے، اتنا ہی خون کی نالیوں، جگر اور میٹابولزم پر دباؤ بڑھتا ہے، جس سے دائمی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
کینسر کے حوالے سے مرد اور خواتین میں مختلف رجحانات دیکھنے میں آئے۔ مردوں میں کم عمری میں وزن بڑھنا کینسر سے موت کے خطرے سے زیادہ منسلک تھا، جبکہ خواتین میں وزن بڑھنے کے وقت سے قطع نظر مجموعی طور پر کینسر سے موت کا خطرہ بڑھا ہوا پایا گیا۔
ماہرین کے مطابق مینوپاز کے دوران جسمانی چربی ہارمونز پر اثر انداز ہو کر خطرات کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔