ایران اور امریکہ کے مابین معاہدہ ہوا یا نہیں، لیکن ایک بات طے ہو گئی ہے کہ اب پاکستان بدل گیا ہے۔تبدیلی لانے والی اس بارات کے دلہا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ہیں جبکہ وزیر اعظم اور وزیر خارجہ ان کے شہ بالا ہیں۔یہ اتنی بڑی کامیابی ہے جسکی گونج بھارتی میڈیا سے بھی بخوبی سنائی دے رہی ہے۔تین عشرے پہلے اگر دنیا کے کسی بڑے دارالحکومت میں پاکستان کا نام لیا جاتا تو تاثر کچھ زیادہ حوصلہ افزا نہ ہوتا۔ عالمی میڈیا کی شہ سرخیاں دہشت گردی، سیاسی عدم استحکام، معاشی بے یقینی اور داخلی خلفشار کے گرد گھومتی تھیں۔ پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جاتا تھا جو ہمیشہ بحرانوں کے دہانے پر کھڑا رہتا ہے۔ خارجہ محاذ پر ہماری آواز اکثر دفاعی انداز میں سنائی دیتی اور سفارتی میدان میں ہم زیادہ تر ردعمل دینے والی ریاست کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ ہمیں امداد کے محتاج، داخلی کشمکش میں الجھا ہوا اور علاقائی سیاست میں ثانوی کردار ادا کرنے والا ملک سمجھا جاتا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان کو اپنی بقا کی جنگ لڑنے والی ریاست کے طور پر دیکھا جاتا تھا، نہ کہ امن کے معمار کے طور پر۔بین الاقوامی شناخت رکھنے والے صحافی پاکستان کے دورے کرتے اور پاکستان مخالف کتب لکھ کر دنیا کو وطن عزیز کا وہ چہرہ دکھاتے جو اس کا اصلی چہرہ نہیں تھا۔لیکن وقت کے دھارے نے کروٹ لی۔آپریشن سیندور پہلا موقع تھا جب دنیا نے پاکستان کو ایک طاقتور اور ذمہ دار ملک کے طور پر دیکھا۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دوٹوک اور واضح جواب نے نہ صرف بھارت کو دھول چاٹنے پر مجبور کیا بلکہ فیصلہ ساز ممالک کی سوچ کا دھارا بھی تبدیل ہوا اور دوسرا موقع اس وقت آیا جب پاکستان نے امریکہ اور ایران کے مابین جنگ کو جنگ بندی میں تبدیل کر دیا اور اسلام آباد میں مذاکرات کی میز سجا ڈالی۔فیلڈ مارشل کی بات واشنگٹن میں سنی گئی، تہران میں اسکا خیر مقدم ہوا،بیجنگ نے اطمینان بخش کہا،سعودی عرب نے شاباش دی اور پوری دنیا پاکستان میں سجائے گئے مذاکرات کی طرف متوجہ ہوگئی۔حالیہ ایران امریکہ مذاکرات کے بعد دنیا نے پاکستان کو ایک نئے زاویے سے دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ آج کا پاکستان صرف ایک جغرافیائی حقیقت نہیں بلکہ ایک سفارتی قوت کے طور پر ابھر رہا ہے۔ وہ ملک جو کبھی خود بحرانوں کا شکار سمجھا جاتا تھا، آج بحرانوں کو حل کرنے کی میز سجا رہا ہے۔ ایران اور امریکہ جیسی دو متحارب اور متضاد قوتوں کو ایک ہی میز پر بٹھانا معمولی بات نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی کامیابی ہے جس نے عالمی برادری کو چونکا دیا ہے۔ اب پاکستان کا ذکر ایک ذمہ دار، متوازن اور دور اندیش ریاست کے طور پر ہو رہا ہے۔ عالمی میڈیا اور سفارتی حلقے اس تبدیلی کو سراہ رہے ہیں کہ پاکستان نے نہ صرف اپنی داخلی کمزوریوں پر قابو پانے کی کوشش کی بلکہ عالمی امن کیلئے بھی عملی کردار ادا کیا۔اس شاندار تبدیلی کے پس منظر میں اگر کسی ایک شخصیت کو مرکزی کردار دیا جائے تو وہ یقیناً ہمارے فیلڈ مارشل ہیں، جنہوں نے اس سفارتی میز کو سجانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ بلاشبہ اس پورے عمل میں حکومت کے دیگر ستون بھی شامل تھے، تاہم فیلڈ مارشل کی بصیرت، ان کی حکمت عملی، اور عالمی قوتوں کے ساتھ ان کے تعلقات نے وہ فضا پیدا کی جس میں ایران اور امریکہ جیسے ممالک بات چیت پر آمادہ ہوئے۔ انہوں نے نہ صرف پس پردہ سفارتکاری کی بلکہ اعتماد سازی کے وہ پل تعمیر کیے جو اس عمل کی بنیاد بنے۔ یہ کامیابی محض ایک اتفاق نہیں بلکہ ایک مسلسل، مربوط اور سنجیدہ کوشش کا نتیجہ ہے جس کا سہرا فیلڈ مارشل کے سر جاتا ہے۔
آج جب دنیا پاکستان کو ایک نئے زاویے سے دیکھ رہی ہے تو یہ لمحہ ہمارے لیے خود احتسابی کا بھی ہے۔ جس طرح ہم نے عالمی سطح پر ایک بڑی کشیدگی کو کم میں کردار ادا کیا ہے، اسی طرح ہمیں اپنے داخلی مسائل کی طرف بھی توجہ دینی ہوگی۔ ایران اور امریکہ کے درمیان سیز فائر کرانا یقیناً ایک بڑی کامیابی ہے، مگر اس سے بھی بڑا چیلنج اپنے ہی گھر کے اندر جاری سیاسی کشمکش کو ختم کرنا ہے۔ ہماری سیاست ایک ایسے میدان جنگ کا منظر پیش کرتی ہے جہاں مکالمہ کم اور محاذ آرائی زیادہ نظر آتی ہے۔ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں اور قومی مفاد پس منظر میں چلا گیا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں قوم کی نظریں ایک بار پھر فیلڈ مارشل کی طرف اٹھتی ہیں۔ جس بصیرت اور تدبر کے ساتھ انہوں نے عالمی سطح پر امن کی راہ ہموار کی، اسی حکمت کو اگر ملکی سیاست میں بھی بروئے کار لایا جائے تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ ہمیں ایک ایسے‘‘سیاسی سیز فائر’’کی ضرورت ہے جہاں تمام فریق ایک میز پر بیٹھیں،اپنے اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں اور قومی مفاد کو ذاتی و جماعتی مفادات پر ترجیح دیں۔
اگر ایران اور امریکہ جیسے دیرینہ مخالفین بات چیت کر سکتے ہیں تو پاکستان کی سیاسی جماعتیں کیوں نہیں؟فیلڈ مارشل سے یہ توقع بجا ہے کہ وہ اس قومی ضرورت کو محسوس کریں گے اور ایک ایسے ماحول کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں گے جہاں سیاست میں شائستگی، برداشت اور مکالمہ فروغ پائے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی داخلی صفوں کو مضبوط کریں، سیاسی بنیادوں پر قائم مقدمات ختم کیے جائیں، غریب کارکنوں کو پابند سلاسل کرنے کا سلسلہ ختم کیا جائے ۔کیونکہ ایک مضبوط اندرونی ڈھانچہ ہی ہمیں عالمی سطح پر مزید باوقار بنائے گا۔ اگر ہم نے یہ موقع ضائع کر دیا تو شاید تاریخ ہمیں معاف نہ کرے۔