سچ تو یہ ہے کہ جنگ سے جنگ بندی تک اور پھر ’’مذاکرات‘‘ کی میز تک ایرانی قیادت نے ’’جنگ‘‘ کو نئے معنی دے ڈالے کیونکہ یہ حملہ اس پر نہیں، اس کی تعلیم و تہذیب پرتھا، جسکی ابتدا ہی اسکول کی 170طالبات کی شہادت سے ہوئی اور امریکہ اور اسرائیل نے وہاں کی جامعات، کالجوں اور طلبہ و طالبات کو نشانہ بنایا، اس لحاظ سے یہ ایک منفرد لڑائی تھی اور پھر اس کا جواب بھی ویسا ہی آیا، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے پاور پلانٹ پر حملے کی دھمکی دی تو اسکی حفاظت کیلئے ایک فنکار نے اسی مقام پر کنسرٹ شروع کردیا۔ اسکے اہم پل پر حملے کی دھمکی دی تو لاکھوں لوگ اس کی حفاظت کیلئے وہاں پہنچ گئے اور پھر ’’بلی تھیلے سے باہر آ گئی‘‘ جب ٹرمپ نے ایران کی تہذیب کو تباہ و برباد کرنے کی دھمکی دی جو دراصل اعتراف تھا اس کی تعلیم اور تہذیب پر حملے کا۔
اس جنگ کی ابتدا ایک ایسے وقت ہوئی تھی جب ایران جوہری معاملے پر ’’مذاکرات‘‘ کررہا تھا اور دنیا کے میڈیا پر یہ خبریں چل رہی تھیں کہ ان میں خاصی پیش رفت ہوئی ہے۔ لہٰذا آج جب چھ ہفتے کی جنگ کے بعد کوئی یہ کہہ کر مذاکرات ختم کرے کہ ایران جوہری معاملے پر سمجھوتہ نہیں کررہا تو بات سمجھ سے بالاتر ہے۔ دراصل امریکہ کو ’’فیس سیونگ‘‘ نہیں مل رہی تھی اور سچ تو یہ ہے کہ زیادہ تر معاملے پر اتفاق رائے ہوگیا تھا اور جوہری معاملے پر بات کو وہیں سے شروع ہونا تھا جو جنگ سے پہلے ہوئی تھی، اسی لیے ایران نے امریکہ کو ’’غیر بھروسہ مند‘‘ قرار دیا اور جواب مانگا کہ اس پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ سمجھوتے کے قریب تھا۔ یہ کہانی بھی جلد2003ء پر عراقی حملے کی وجوہات کی طرح کھل جائیگی۔ عراق پر یہ کہہ کر حملہ کیا گیا تھا کہ وہ مہلک ہتھیاربنا رہا ہے اور اسکے ایک سال بعد امریکہ کے تین بڑے اخبارات نے اعتراف کیا کہ انکو اس جنگ میں استعمال کیا گیا ’’ڈس انفارمیشن‘‘ پھیلانے کیلئے۔ دی ٹائمز نے تو معافی بھی مانگی اپنے ریڈرزسے۔ اس جنگ کے حوالے سےفیک نیوز اورڈس انفارمیشن اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ سوشل میڈیا اور AI کا دور ہے۔ ہم تو خیر آزادی کے زمرے میں آتے ہی نہیں، مگر جس طرح غزہ کے معاملے پر مغربی میڈیا بے نقاب ہوا ہے۔
اسکی مثال جنگی تاریخ کی رپورٹنگ میں نہیں ملتی 9/11 سے لیکر عراق کی جنگ تک۔ البتہ جنگوں میں پہلی موت ہی سچ کی ہوتی ہے، پھر بھی ہزاروں صحافیوں کی ان جنگوں میں ہلاکتوں کی بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ صحافی پھر بھی سچ کو تلاش کرتے ہیں اور وقت آنے پر یہ سچ سامنے آتا ہے، جیسا کہ عراق کے حوالے سے ’’مہلک ہتھیار‘‘ رکھنے کی خبر نہ صرف غلط ثابت ہوئی بلکہ کم از کم تیس امریکی اخبار اور رسائل نے اس کا اعتراف بھی کیا کہ انہوں نے اپنے عوام کو گمراہ کیا۔
اب آئیں موجودہ صورتحال پر۔ اس جنگ کا مختصر پس منظر یہ ہے کہ ایران پر امریکہ ، اسرائیل کا حملہ اس وقت ہوا جب ایران مذاکرات کی میز پر تھا اور وہاں سے اچھی خبریں آ رہی تھیں۔ یاد رہے کہ یہ بات چیت جوہری معاملے پر ہی تھی، جس کو آج بنیاد بناکر امریکی نائب صدر اور انکے ساتھی بنا معاہدہ واپس چلے گئے۔حقیقت یہ ہے کہ ایران پر ایٹمی ہتھیار بنانے کا بین الاقوامی فورم پر الزام لگا ہی نہیں بلکہ امریکہ وہی کھیل کھیل رہا ہے جو عراق کے معاملے پر کھیلاتھا، بس فرق یہ ہے کہ ایران نے سرنڈرنہیں کیااور نہ ہی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کسی بنکر میں پناہ لی۔ 2003ء میں عراق پر حملے کے معاملے پر اسرائیلی لابی نے امریکہ کو یہ مشورہ دیا تھا کہ عراق کے بجائے ایران پر حملہ کرکے وہاں رجیم چینج لایا جائے۔ تاہم اس وقت امریکی عزائم کچھ اور تھے۔ ان تمام سازشوں کے پیچھے دراصل اسرائیل تھا۔ جو پہلے دن سے ایرانی انقلاب کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا رہا ہے۔ لہٰذا ’’رجیم چینج‘‘ کا یہ خواب نیا نہیں، اب تو عراق کے معاملے پر بھی ٹرمپ اپنے من پسند کو صدر بنانا چاہتے ہیں۔ صدام حسین کو جس انداز میں نشانِ عبرت بنانے کی کوشش کی گئی اس نے بھی مہذب دنیا کو بے نقاب کردیا اور تمام انسانی حقوق کی تنظیمیں خاموش رہیں، جب اسکی پھانسی کے مناظر براہ راست میڈیا پر دکھائے گئے، امریکہ اور اسرائیل کی خواہش تھی کہ ایران سرنڈر کردے اور خامنہ ای اور ایرانی قیادت کسی بنکر میں مارے جائیں یا پکڑے جائیںیہ جانے بغیر کہ ایران کی تاریخ اور تہذیب تو کھڑی ہی جرات اور شہادت پر ہے۔ لہٰذا چند دن میں جنگ جیت کر دعوے کی خواہش ٹرمپ اور نیتن یاہو کی خواہش ہی رہی اور امریکہ کو مذاکرات کی میز پر آنا ہی پڑا، جسکی ابتدا ’’جنگ بندی‘‘ سے ہوئی اور یہاں سے اہم کردار پاکستان کا شروع ہوا، جو اب بھی ختم نہیں ہوا۔
وزیراعظم شہبازشریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت پوری قیادت نے اہم ترین کردار ادا کیا اور تاریخ میں پہلی بار اپنی سرزمین پر دو ایسے حریفوں کو جنگ بندی سے مذاکرات کی ٹیبل پر لائے جو دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی طرف لے جارہے تھے۔ پاکستان کی سول اور ملٹری قیادت کو اندازہ تھا کہ اگر جنگ نہ روکی تو پاکستان کو ایک انتہائی نازک فیصلہ کرنا پڑے گا۔ اس ساری صورتحال میں اپوزیشن اور مذہبی جماعتیں بھی ریاست اور حکومت کیساتھ کھڑی نظر آئیں۔ اس صورتحال نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا اور دو بدترین حریفوں نے 21 گھنٹے آمنے سامنے ایک اچھے ماحول میں گفتگو کی، اکثر معاملات پر اتفاق کیا، ماسوائے تین پر۔ تاہم مذاکرات جاری رکھنے پر غیر علانیہ اتفاق کے اشارے ملے ہیں۔ کہتے ہیں نا
راہ پر ان کو لگا لائے تو ہیں باتوں میں
اور کھل جائیں گے دو چار ملاقاتوں میں
اس ’’جنگ‘‘ سے سب سبق سیکھ سکتے ہیں اگر سیکھنا چاہیں، امریکہ بھی، اسرائیل بھی اور ایران بھی، ویسے تو ہمارے لیے بھی کئی سبق ہیں سیکھنے کے سب سے زیادہ یہ کہ قوم کیسے بنتی ہے، قیادت کیا ہوتی ہے اور سیاسی اختلاف کیسے ختم کیا جاسکتا ہے۔ اس جنگ کے بعد جو کہ ابھی ختم نہیں ہوئی، ایک بات واضح ہے کہ ایک نیا مشرقِ وسطیٰ آرڈر ابھر کر آ سکتا ہے، گریٹر اسرائیل کا خواب اب خواب رہے گا۔ ایران کے پاس شہادتوں کی لمبی فائل ہے، جبکہ امریکہ سمیت مغرب ’’ایپسٹین فائلز‘‘ میں پھنس کر رہ گیا ہے، دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔