اسلام آباد میں ہونیوالے ایران امریکہ مذاکرات اگرچہ کسی حتمی معاہدے پر منتج نہ ہو سکے، مگر اس عمل نے عالمی سفارتکاری کے ایک نئے باب کی بنیاد رکھ دی ہے۔ ایک ایسا باب جس میں پاکستان نہ صرف میزبان بلکہ ایک فعال، بااثر اور قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر دنیا کے سامنے آیا ہے۔عالمی سفارتکاری کی تاریخ میں کئی ایسے مواقع آئے ہیں جب بظاہر ناکام نظر آنیوالے مذاکرات دراصل بڑے معاہدوں کی بنیاد ثابت ہوئے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان تقریباً نصف صدی سے جاری کشیدگی، باہمی عدم اعتماد اور حالیہ جنگی ماحول کے باوجود دونوں فریقین کا ایک میز پر آنا بذات خود ایک غیر معمولی پیش رفت ہے،جس کا سہرا بلاشبہ پاکستان کے سر جاتا ہے۔
اگرچہ مذاکرات کے اختتام پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا کہ کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا، اور ایران نے امریکی شرائط کو تسلیم نہیں کیا، لیکن اسکے ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کیا کہ کئی اہم نکات پر پیش رفت ہوئی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سفارتکاری کی باریکیاں اپنا رنگ دکھاتی ہیں، ہر معاہدہ ایک دن میں نہیں ہوتا،بلکہ اعتماد سازی کے مراحل سے گزر کر ہی پائیدار نتائج سامنے آتے ہیں۔پاکستان کا کردار اس سارے عمل میں محض ایک میزبان کا نہیں بلکہ ایک فعال ثالث کا تھا۔ اس نے نہ صرف دونوں فریقین کو قریب لانے کی کوشش کی بلکہ انکے درمیان اعتماد سازی کیلئے بھی عملی اقدامات کیے۔
وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی قیادت میں پاکستان نے ایک مربوط حکمت عملی اپنائی، جس کا مقصد صرف مذاکرات کروانا نہیں بلکہ انہیں نتیجہ خیز بنانا بھی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کی ان کوششوں کو غیر معمولی پذیرائی ملی۔اسلام آباد مذاکرات کے بعد عالمی میڈیا نے جس انداز میں پاکستان کی تعریف کی، وہ کسی بھی ملک کیلئے ایک بڑی سفارتی کامیابی تصور کی جا سکتی ہے۔الجزیرہ نے پاکستان کوکلیدی ثالث قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد عالمی سفارتکاری کا مرکز بن چکا ہے۔ سی این این نے پاکستان کی’اسٹرٹیجک اہمیت‘کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ناممکن کو ممکن بنا دیا ۔ رائٹرز نے ان مذاکرات کو عالمی معیشت کیلئےخوش آئند قرار دیا، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں کمی کے تناظر میں۔بی بی سی نے پاکستان کو ایک ریجنل پلیئرکے طور پر پیش کیا جو اب صرف داخلی مسائل تک محدود نہیں رہا بلکہ عالمی سطح پر امن کے قیام میں کردار ادا کر رہا ہے جبکہ نیویارک ٹائمز نے اسے خاموش سفارتی کرشمہ کہا۔
صرف میڈیا ہی نہیں بلکہ عالمی رہنماؤں نے بھی پاکستان کی کاوشوں کو سراہا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستانی قیادت کی تعریف ایک اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کوغیر معمولی لوگ قرار دیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی قیادت کو عالمی سطح پر سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔جے ڈی وینس نے بھی پاکستانی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسکی کوششوں کو سراہا۔اگر مذاکرات کا تفصیل سے جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ کئی اہم نکات پر پیش رفت ہوئی۔ اگرچہ ایران نے جوہری پروگرام کے حوالےسے مکمل یقین دہانی نہیں کروائی، لیکن دیگر معاملات پر مفاہمت کے آثار نظر آئے۔ اطلاعات کے مطابق ایران کے منجمد اثاثوں کے معاملے پر بھی پیش رفت ہوئی، جو ایک بڑی کامیابی تصور کی جا سکتی ہے۔اسی طرح، دونوں فریقین نے مذاکرات جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ عمل ختم نہیں ہوا بلکہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ان مذاکرات کے اثرات صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے اور عالمی معیشت پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں کمی سے تیل کی قیمتوں میں استحکام کی امید پیدا ہوئی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ممکنہ جنگ کے خطرات کم ہوئے ہیں، اور عالمی سطح پر امن کی امید بڑھی ہے۔یہ سب عوامل پاکستان کے مثبت کردار کی وجہ سے ممکن ہوئے، جس نے ایک نازک صورتحال میں توازن برقرار رکھا۔تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ پاکستان اس کامیابی کو مستقل پالیسی میں تبدیل کرے اور وقتی کامیابیوں پر اکتفا نہ کرے۔
اسلام آباد مذاکرات نے ایک بنیاد فراہم کر دی ہے۔ اب اصل امتحان یہ ہے کہ آیا پاکستان اس عمل کو آگے بڑھا سکتا ہے یا نہیں۔ اگلے مذاکراتی دور کی میزبانی، اعتماد سازی کے مزید اقدامات، اور دونوں فریقین کے درمیان فاصلے کم کرنا پاکستان کیلئے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔اگر پاکستان اس عمل کو کامیابی سے جاری رکھتا ہے تو وہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر ایک کلیدی سفارتی طاقت بن سکتا ہے۔اسلام آباد مذاکرات کا اختتام اگرچہ بغیر کسی معاہدے کے ہوا، مگر یہ اختتام نہیں بلکہ ایک آغاز ہے۔ ایک ایسا آغاز جس میں پاکستان نے اپنی سفارتی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، عالمی اعتماد حاصل کیا، اور ایک خطرناک تنازع کو مذاکرات کی میز تک لے آیا۔یہ لمحہ پاکستان کیلئے محض ایک کامیابی نہیں بلکہ ایک ذمہ داری بھی ہے، ایک ایسی ذمہ داری جو اسے عالمی امن کے قیام میں ایک مستقل کردار ادا کرنے کی دعوت دیتی ہے۔اگر تاریخ کا پہیہ اسی سمت میں گھومتا رہا، تو ممکن ہے کہ آنے والے برسوں میں اسلام آباد کو عالمی امن کے مرکز کے طور پر یاد کیا جائے۔