• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لبلبے کے کینسر کے علاج میں بڑی پیشرفت

فوٹو: فائل
فوٹو: فائل

امریکی محققین نے لبلبے کے کینسر کے علاج کے لیے ایک نئی دوا تیار کی ہے جو مریضوں کی بقا کی شرح کو دگنا کر سکتی ہے اور موت کے خطرے کو ایک تہائی سے زیادہ کم کر دیتی ہے۔

یہ دوا ایلراگلسِب (Elraglusib) ہے جسے معیاری کیموتھراپی کے ساتھ آزمایا گیا۔

نیچر میڈیسن میں شائع ہونے والی تحقیق میں شمالی امریکا اور یورپ کے 233 مریضوں کو شامل کیا گیا۔ نتائج کے مطابق نئی دوا لینے والے مریض اوسطاً 10.1 ماہ زندہ رہے جبکہ صرف کیموتھراپی لینے والے مریض 7.2 ماہ تک زندہ رہے۔

ایک سال بعد نئی دوا لینے والے مریضوں میں 44 فیصد زندہ تھے، جبکہ دوسرے گروپ میں یہ شرح صرف 22 فیصد تھی۔

ماہرین کے مطابق یہ دوا لبلبے کے کینسر جیسے مشکل مرض میں امید کی کرن ہے، اگرچہ مزید بڑے کلینیکل ٹرائلز کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ضمنی اثرات عام کیموتھراپی جیسے ہی تھے، جن میں خون کے سفید خلیوں کی کمی، تھکن اور وقتی نظر کی تبدیلی شامل ہیں، لیکن یہ سب قابلِ واپسی تھے۔

لبلبے کا کینسر اکثر خاموشی سے بڑھتا ہے اور علامات ظاہر ہونے تک پھیل چکا ہوتا ہے، اسی لیے اس کا علاج مشکل سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نئی دوا مستقبل میں دیگر اقسام کے ٹیومرز کے علاج میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

صحت سے مزید