• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران امریکا اسلام آباد امن مذاکرات اگرچہ حسب خدشہ کامیاب نہ ہوئے لیکن ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے مذاکرات اگلے دو دن میں دوبارہ پاکستان میں ہو سکتے ہیں، پاکستان کے آرمی چیف اس حوالے سے شاندار کام کر رہے ہیں، ہم کسی ایسے ملک کیوں جائیں جس کا اس معاملے سے کچھ لینا دینا نہ ہو، ایرانی قیادت کی طرف سے بھی پاکستان کے حوالے سے اسی طرح کے بیانات آئے ہیں، ان دنوں ہمارے ملک کا نام ایران امریکا جنگ بندی اور مکالمے کے حوالے سے پوری دنیا کے میڈیا اور دارالحکومتوں میں گونج رہا ہے۔ اسلام آباد ڈائیلاگ کا جائزہ لینے سے پہلے ایک نظر ہم ان مذاکرات کے مثبت پہلو پر ڈال لیتے ہیں، جس کے کارن مثبت پیش رفت کی ہنوز توقع ہے، ایرانیوں کا دکھ یہ تھا کہ ان کی اول درجے کی قیادت اس جنگ میں کام آ گئی، بارہ ہزار حملوں میں ان کا انفراسٹرکچر بری طرح تباہ ہوا، ایرانی معیشت مزید ابتری کا شکار تھی کرنسی گراوٹ کی یہ حالت کہ ایک کروڑ ایرانی ریال کا نوٹ سات امریکی ڈالرز میں دستیاب ہے۔ دوسری طرف امریکا ہے جہاں کا آئینی و جمہوری سسٹم ٹرمپ جیسے پریزیڈنٹ کو بھی شتر بے مہار ہونے سے روکتا ہے، میڈیا آزاد ہے، سب جانتے ہیں کہ امریکی عوام جنگوں سے نفرت کرتے ہیں اس کے ساتھ یہ بھی واضح رہے کہ نومبر میں مڈٹرم الیکشن آ رہے ہیں، ایسے حالات میں جب عوامی سطح پر رائے عامہ اس قدر خلاف ہوئی ہوگی تو ریپبلکن کو اقتدار بچانے کیلئے جان کے لالے پڑ جائیں گے ایسی صورت حال میں ٹرمپ جنگ کو زیادہ طول دینے کی پوزیشن میں نہیں ۔ریپبلکن کے آئندہ متوقع امیدوار وائس پریزیڈنٹ جے ڈی وینس حالیہ ایران امریکا جنگ کی کھلے بندوں مخالفت کرتے رہے ہیں، شاید اسی لیے خود ایرانی قیادت نے مذاکرات کار کے طور پر ان کا نام لیا جبکہ اسٹیو وٹکوف اور پریزیڈنٹ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے متعلق عمومی رائے ہے کہ وہ ٹرمپ کے قریبی ہونے کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے بھی کافی نزدیک ہیں ۔ پاکستان کےپرائم منسٹر شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیرکارویہ امریکا اور ایرانی قیادتوں کے ساتھ خاصا فرینڈلی رہا ،جسکی تحسین کی گئی جن کی پوری لگن تھی کہ مذاکرات طے پا جائیں ۔ مذاکرات کا عمل بہت نازک اور حساس ہوتا ہے مذاکرات کاروں پر اپنے اپنے ممالک کے عوام کا دیدہ و نا دیدہ دباو قابلِ فہم ہونا چاہیے، اکیس گھنٹے کی مذاکراتی نشستوں میں جے ڈی وینس کو ٹرمپ کی بارہ کالیں اس دباؤ کو واضح کرتی ہیں۔ اب آتے ہیں مذاکرات میں زیرِ بحث ایشوز کی طرف جس طرح امریکی انتظامیہ نے مذاکرات کیلئے اپنے پندرہ پوائنٹس دے رکھےتھے اسی طرح ایرانیوں کی بھی دس شرائط تھیں جنہیں وہ منوانا چاہتے تھے ایرانی اپنی طرف سے امریکا کو یہ رعایت تو دے رہے تھے کہ ہم ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کے عزم پر سختی سے قائم ہیں لیکن ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی کر رہے تھے کہ ایک مخصوص و محدود حد چاہے تین فیصد تک یورینیم انرچمنٹ کے حق کو تسلیم کیا جائے، ہمارے حامی گروہوں کے خلاف ہر قسم کی جارحیت کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے۔ درویش نے اسلام آباد مذاکرات شروع ہونے سے قبل لکھا تھا کہامریکا ایران کے بیشتر پوائنٹس قبول نہیں کرئیگا۔ اوباما دور میں پر امن جوہری توانائی کی جو گنجائش دی گئی تھی اب ایران کی اسرائیل سمیت امریکی اتحادی عرب ریاستوں پر مزائل بازی کے بعدامریکا کم از کم اگلے بیس برس تک نہ صرف یورینیم کی انرچمنٹ پر قطعی کوئی گنجائش نہیں دے گا ۔ ہمارے ایرانی بھائی کہتے ہیں کہ ایران کا یہ بونا فائیڈ رائٹ ہے کہ وہ پر امن مقاصد کیلئے جوہری توانائی حاصل کرے ، جواب میں امریکیوں کا استدلال ہے کہ ایران تیل اور قدرتی گیس سے مالا مال ملک ہے جسے اگلے سو برس تک بھی توانائی کی کوئی محرومی و مجبوری نہیں تو پھرپر امن جوہری توانائی کا مطالبہ کیوں؟جو وقت آنے پر آگے بڑھتے ہوئے ایٹمی ہتھیاروں تک جائے گا۔ اسلام آباد مذاکرات کا دوسراسخت پوائنٹ سٹریٹ آف ہرمز کو کھلا رکھناہے اور یہی وہ خطرناک کارڈ ہے جسے بقول ٹرمپ ایران کھیل رہا ہے لیکن وہ اسے یہ کھیل کسی صورت نہیں کھیلنے دیں گے۔ اب اگر ایران یہاں سے گزرنے پرٹول ٹیکس لگائے تو اسے کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جائیگا ، پوری دنیا میں اس نوع کا استحقاق کسی کو بھی حاصل نہیں، بلاشبہ اس حوالے سے خود پریزیڈنٹ ٹرمپ نے بھی اپنے بدلتے ہیجانی موڈ کے تحت کئی ناروا فقرے بولے ہیں جیسے کہ "ہم ایران کے ساتھ مل کر اس نوع کا عالمی بھتہ وصول کر سکتے ہیں یا سٹریٹ آف ہرمز کو کھلوانے کی تگ و دو وہ کریں جن کی یہ ضرورت ہے یا جن کا یہ ایشو ہے، ٹرمپ نیٹو اور یورپ پر بھی چلاتے رہے کہ وہ آگے بڑھیں اور اسے کھلوائیں" امریکی پریزیڈنٹ کو اس نوع کے مذاق زیب نہیں دیتے سیدھی اور اصولی بات تھی آپ اس وقت عالمی سپر پاور کے مقام پر ہیں یہ آپ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنے اتحادیوں کی دلجوئی کرتے ہوئے انہیں ساتھ ملا کر عالمی معاملات میں کسی کو اجارہ داری یا بے اصولی نہ کرنے دیں بصورت دیگر کمزور اقوام کیلئے ایک سو ایک مسائل پیدا ہو جائیں گے۔ دیگر اختلافی پوائنٹس پر گفتگو پھر سہی۔

تازہ ترین