• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میرا آج کا کالم اسلم کولسری کے اس شعر کی تفسیر ہے

کھل کے بیٹھو کہ ملنے آیا ہوں

میں کسی کام سے نہیں آیا

گزشتہ روز میں اپنے ایک دوست سے ملنے اس کے دفتر گیا۔ اچانک میری نظر اس کی میز پر دھری ایک تختی پر پڑی جس پر لکھا تھا ” روزگار کیلئے دفتر روزگار سے رجوع کریں" مجھے یہ عبارت پڑھ کر ہنسی بھی آئی اور حیرت بھی ہوئی۔ میں نے اپنے اس بے تکلف دوست سے جو ایک ملک گیر کارپوریشن میں بہت بڑا افسر ہے، پوچھا " یہ تم نے کیا بے معنی تختی یہاں لگائی ہوئی ہے؟" اس نے کہا " تم آج کا دن میرے ساتھ گزارو، میں کام کرتا رہتا ہوں ، تم چپ چاپ بیٹھے رہو۔ چائے پینی ہو، کھانا کھانے کا موڈ ہو، بیل دو، نائب قاصد آئیگااسے آرڈر کر دینا۔ " اس کے بعد میرا یہ دوست اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔ تھوڑی دیر بعد نائب قاصد کمرے میں داخل ہوا اور اس نے ایک وزیٹنگ کارڈ صاحب کی میز پر رکھ دیا۔ صاحب نے ایک نظر اس پر ڈالی اور نائب قاصد کو اشارے سےاسے اندر بھیجنے کو کہا۔ پھر دفتر کادروازہ کھلا اور ایک صاحب اندر تشریف لائے۔ خاصے معززسے انسان تھے۔ میرے دوست نے بہت خوش دلی سے کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا اوربیٹھنے کو کہا۔ انھوں نے پہلے ادھر اُدھر کی باتیں کیں اور پھر بولے"مجھے جب پتہ چلا کہ آپ اس منصب پر فائز ہوئے ہیں تو ہمارے سارے خاندان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی" ۔ دوست نے کہا"ظاہر ہے آپ سے جتنے پرانے تعلقات ہیں سب اہل خاندان کو خوشی تو ہونا ہی تھی۔ "اس پر ان صاحب نے جیب سے کاغذوں کا ایک پلندہ نکالا اور بولے ان میں سےایک میرے بیٹے اور ایک میرے بھتیجے کی "سی وی" ہے۔ بس آپ انھیں اپنے ادارے میںجگہ دیں۔ تین چار لاکھ روپے کے پیکیج سے کم پیکیج نہیں ہونا چاہئے۔" اتنے میں ان صاحب کی نظر اُس تختی پر پڑی جس پر لکھا تھا " روزگار کیلئے دفتر روزگار سے رجو ع کریں ۔" انھوں نے ہاتھ بڑھا کر وہ تختی اٹھائی اور اسے میز پر الٹا رکھتے ہوئے ہنس کر کہا ’’ظاہر ہے یہ ہدایت نامہ تو غیروں کیلئے ہے، اپنوں کیلئےنہیں!‘‘ اس پر دوست نےمنافقانہ ہنسی ہنستے ہوئے کہا " یہ تو آپ نے ٹھیک کہا اور پھر انکے بیٹے اور بھتیجے کی سی وی اپنی دراز میں رکھ دی۔ ’’یہ دیکھ کر وہ صاحب اپنی نشست سے اٹھے، ڈھیروں شکر یہ ادا کیا اور ہاتھ ملاتے ہوئے کہا‘‘ آپ کے بھتیجے کب آ کر اپنا اپائنٹمنٹ لیٹر لے جائیں؟

’’ میرےدوست نے انکے ہاتھ کو گرم جوشی سے جھٹکے دیتے ہوئے کہا‘‘ بس مجھے کچھ دن دیں۔ میںخود گھر حاضر ہو کر آپ کو صورتحال سے آگاہ کروں گا"۔ یہ سن کر ان صاحب نے قدرے خفگی سے کہا "یہ تو برادرانہ بات نہ ہوئی۔ مجھے دو چار دنوں کے اندر اپائنٹمنٹ لیٹر چاہیے۔"دوست نے کہا " بس آپ دعا کریں جس پر وہ صاحب ناخوش سے نظر آئے اور باہر نکل گئے۔ میں نے دوست سے درخواست کی اور کہا"کھل کے بیٹھو کہ ملنے آیا ہوں...میں کسی کام سے نہیں آیا"صرف ایک کپ چائے کا خواہش مند ہوں۔ مجھے اس کیلئے دفتر روزگار سے تو رجوع نہیں کرنا پڑے گا ۔ " دوست نے ہنستے ہوئے چائے کا آرڈر دیا اور دوبارہ فائلوں میں گم ہو گیا ۔ نائب قاصد میرے لیے چائے کے ساتھ ، ملاقات کے خواہش مند ایک صاحب کی چِٹ بھی لایا تھا۔ صاحب نے اسے بھی اندر بلا لیا۔ یہ ان کا پرانا اسٹینو گرافر تھا جو ریٹائر ہو چکا تھا۔ اس نے کھڑے کھڑے کہا ”سر! میرا بیٹا آپ کے زیر سایہ کام کر رہا ہے۔ آپ نے ہی اسے بھرتی کیا تھا جس کیلئے میں ساری عمر دعا گور ہوں گا۔ وہ پانچ سال تک بغیر تنخواہ رخصت پر تعلیم کیلئے بیرون ملک ہے۔ ابھی اس کی تعلیم رہتی ہے۔ از راہ بندہ پروری اس کی مزید رخصت منظور فرما دیں ۔’’ صاحب نے کہا‘‘ نور محمد ! تم درخواست دے جاؤ، دیکھیں گے ’’ جس پر وہ سلام کر کے رخصت ہو گیا۔ اسکے جانے کے بعد دوست نے مجھے بتایا کہ اس کا بیٹا باہر تعلیم کیلئے نہیں، ڈالر کمانے گیا ہوا ہے۔ اسے گرین کارڈ ملنے والا ہے، اُس وقت تک وہ ملازمت پر قبضہ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔‘‘ بہر حال دفتری اوقات کے دوران لوگ اپنے اور اپنے بیٹوں، بھتیجوں ، بھانجوں اور دوسرے عزیز واقارب کی سی ویاں جمع کراتے رہے۔

اس دوران مجھ پر شدید گھبراہٹ طاری ہوگئی تھی ، مجھے یہ سب کچھ پاگل کردینے والا لگتا تھا۔ دوست نے میری حالت غیر دیکھی تو پوچھا کہ اس تختی کی معنویت سمجھ آئی جس پر تم نے آتے ہی اعتراض کیا تھا؟ میں نے کہا " سمجھ آگئی، مگر دو باتوں کی سمجھ نہیں آئی؛ ایک تو تم ہر ایک کو ملاقات کیلئے اندر بلا لیتے ہو اور دوسرے انکی بات تفصیل سے سنتے ہو مگر کام کا وعدہ نہیں کرتے۔ اسکی کیا وجہ ہے؟" دوست نے جواب دیا "جسے اندر نہیں بلاؤں گا، اسے برا لگے گا اور اس سے زیادہ برا مجھے لگے گا کہ یہ بات میری تربیت کے منافی ہے۔ دوسرے کام ہونے کا وعدہ اس لیے نہیں کرتا کہ یہ شعبہ براہ راست میرے پاس نہیں ہے۔ میں یہ سی ویاں متعلقہ شعبے کو فارورڈ کر دیتا ہوں جو ان پر میرٹ کے مطابق کارروائی کرتا ہے۔ میں شروع میں سائلوں کو یہ بات بتایا کرتا تھا لیکن وہ کہتے تھے کہ اگر کام نہیں کرنا تو سیدھی طرح کہو، ٹرخاتے کیوں ہو؟ چلو دفع کرو، یہ بتاؤ تمھیں آج میری یاد کیسے ستائی؟" میں نے کہا ایک تو تمھیں ملے ہوئے بہت عرصہ ہو گیا تھا اور دوسرے ریٹائرمنٹ کے بعد کے گھر بیٹھے بیٹھے بور ہو جاتا ہوں۔ یار تم مجھے اپنے پاس کوئی نوکری دے دو ۔ذرا دل بہلا رہے گا"۔ یہ سن کر میرے ستم ظریف دوست نے وہ تختی دوبارہ سیدھی کر کے میرے سامنے رکھ دی جس پر لکھا تھا ’’روزگار کیلئے دفتر روزگار سے رجوع کریں!‘‘

تازہ ترین