امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے رہنما 34 برس بعد آج جمعرات کو پہلی بار آپس میں بات چیت کریں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر کہا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہا ہوں، دونوں رہنماؤں کے درمیان آخری بار تقریباً 34 سال قبل رابطہ ہوا تھا اور اب یہ پیش رفت ایک مثبت قدم ہے۔
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب ایک روز قبل دونوں ممالک کے نمائندوں نے واشنگٹن میں براہِ راست مذاکرات کیے، جن میں اسرائیلی حملوں کے خاتمے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
واضح رہے کہ لبنان 2 مارچ کو اس وقت جنگ میں شامل ہوا جب ایران کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللّٰہ نے اسرائیل پر حملے کیے۔
حزب اللّٰہ کے مطابق یہ حملے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کے ردعمل میں کیے گئے، جنہیں اسرائیل نے 28 فروری کو جنگ کے پہلے دن نشانہ بنایا تھا، جبکہ اسرائیل پر نومبر 2024ء میں طے پانے والی جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے لبنان پر جاری حملوں میں اب تک 2 ہزار سے زائد افراد جاں بحق جبکہ 10 لاکھ سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں زمینی کارروائی بھی شروع کر رکھی ہے، جن کا مقصد مزید علاقوں پر قبضہ اور ایک مبینہ بفر زون قائم کرنا بتایا جا رہا ہے۔