امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی ایک نئی تجزیاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکا میں اسرائیل کے لیے عوامی حمایت میں نمایاں کمی آ رہی ہے، جس کی بڑی وجہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نتین یاہو کو قرار دیا جا رہا ہے۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق حالیہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مختلف سیاسی اور سماجی گروہوں میں اسرائیل کے حوالے سے رائے تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔
50 سال سے کم عمر ریپبلکن ووٹرز میں اسرائیل کے حق میں حمایت 4 سال قبل 28 اضافی پوائنٹس سے کم ہو کر 2025ء میں 2 مائنس پوائنٹس ہو گئی اور 2026ء میں مزید گھٹ کر 16 پوائنٹس کی کمی تک پہنچ گئی ہے، جو 40 پوائنٹس سے زائد کی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
اسی طرح معتدل اور لبرل ریپبلکنز میں بھی حمایت میں کمی دیکھی گئی، جہاں 2022ء میں 26 اضافی پوائنٹس سے کم ہو کر 2026ء میں 9 مائنس پوائنٹس رہ گئی۔
رپورٹ کے مطابق ریپبلکن رہنما تھومس ماسی جو اسرائیل پر تنقیدی مؤقف رکھتے ہیں، کینٹکی کے چوتھے ضلع میں ہونے والے پرائمری انتخاب میں مضبوط پوزیشن میں ہیں، حتیٰ کہ انہیں ٹرمپ اور حامی گروپس کی مخالفت کے باوجود تقریباً 71 فیصد کامیابی کے امکانات حاصل ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق نوجوان مرد ووٹرز میں بھی اسرائیل کے لیے حمایت میں واضح کمی آئی ہے، جہاں 2022ء میں 3 مائنس پوائنٹس سے کم ہو کر 2026ء میں 47 مائنس پوائنٹس تک گر گئی۔
ڈیموکریٹک ووٹرز میں بھی یہ رجحان بڑھ رہا ہے، جہاں غیر لبرل افراد میں اسرائیل کے حق میں حمایت 3 اضافی پوائنٹس سے کم ہو کر 55 مائنس پوائنٹس تک پہنچ گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس بڑی تبدیلی کی وجہ جاری اسرائیل اور غزہ جنگ ہے، خاص طور پر 7 اکتوبر کے حملوں اور اس کے بعد اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے باعث عالمی سطح پر ردعمل سامنے آیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ نیتن یاہو کی قیادت بھی امریکی عوام میں کم ہوتی حمایت کی ایک اہم وجہ بن رہی ہے۔
مزید برآں، اسرائیل کے حامی لابنگ گروپ کے حوالے سے عوامی دلچسپی میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں 2026ء میں گوگل سرچز میں 363 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔