کاروباری شخصیت، ٹیسلا، اسپیس ایکس، ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور ایکس اے آئی کے سربراہ ایلون مسک کے کوویڈ 19 ویکسین سے متعلق حالیہ بیانات سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئے ہیں جس کے بعد ویکسین کی افادیت پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
ایلون مسک نے اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر ایک بیان میں کہا تھا کہ کوویڈ 19 سے بچاؤ کے لیے لگوائی گئی ویکسین کی خوراک واضح طور پر بہت زیادہ تھی اور اس کا بار بار لگوانا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ دوسری خوراک کے بعد میں شدید بیمار ہو گیا تھا۔
ان بیانات کے بعد سوشل میڈیا پر ویکسین کے مضر اثرات سے متعلق مختلف دعوے گردش کرنے لگے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق طبی ماہرین اور سائنسی تحقیق نے ایلون مسک کے کوویڈ 19 ویکسین سے متعلق دعوؤں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ویکسین اب بھی شدید بیماری سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ذاتی تجربات کو سائنسی شواہد پر ترجیح نہیں دی جا سکتی، تحقیق کے مطابق کوویڈ ویکسین تقریباً 95 فیصد تک شدید بیماری اور اموات سے بچاؤ میں مؤثر ثابت ہوئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جرمنی میں ویکسین سے مبینہ اموات کے دعوے بھی زیرِ بحث آئے ہیں جن میں 20000 سے 60000 اموات کا ذکر کیا گیا ہے۔
یہ دعوے ایک ریٹائرڈ ٹاکسی کولوجسٹ ڈاکٹر ہیلمٹ اسٹرز سے منسوب ہیں تاہم ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار مستند سائنسی تحقیق سے ثابت نہیں۔
بین الاقوامی فیکٹ چیکرز نے بھی نشاندہی کی ہے کہ وائرل ویڈیوز میں سیاق و سباق کو توڑا مروڑا گیا ہے اور مختلف اعداد و شمار کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کوویڈ ویکسین مکمل تحفظ نہیں دیتی لیکن شدید بیماری سے بچاتی ہے، ویکسین لگوانے سے سنگین مضر اثرات نہایت کم ہوتے ہیں اور ویکسین کے فوائد اس کے خطرات سے کہیں زیادہ ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ مشہور شخصیات کے ذاتی بیانات غلط معلومات کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔
طبی ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے بجائے مستند طبی ذرائع اور ماہر ڈاکٹروں سے رہنمائی حاصل کریں۔