سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے کراچی سمیت ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی 27 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست دائر کر دی۔
سی پی پی اے کے مطابق مارچ کے دوران مجموعی طور پر 8 ارب 93 کروڑ 90 لاکھ یونٹس بجلی پیدا کی گئی جبکہ ڈسکوز کو 8 ارب 64 کروڑ 40 لاکھ یونٹس فراہم کی گئی۔
دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ مارچ کے لیے فی یونٹ فیول لاگت کا تخمینہ 7 روپے 99 پیسے مقرر کیا گیا تھا تاہم اصل لاگت بڑھ کر 8 روپے 26 پیسے فی یونٹ تک پہنچ گئی۔
سی پی پی اے کے مطابق مارچ میں پانی سے 23.55 فیصد، مقامی کوئلے سے 16.76 فیصد، درآمدی کوئلے سے 13.80 فیصد اور درآمدی ایل این جی سے 5.64 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔
اسی طرح فرنس آئل سے 1.02 فیصد، مقامی گیس سے 11.34 فیصد اور جوہری ایندھن سے 21.95 فیصد بجلی حاصل کی گئی۔
قابلِ تجدید ذرائع میں ہوا سے 3.46 فیصد جبکہ سولر سے 1.18 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔
واضح رہے کہ یہ درخواست مارچ کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں دی گئی ہے جس پر 28 اپریل کو سماعت ہو گی۔