موسم گرما میں آم اور تربوز کا استعمال عام ہوتا ہے لیکن طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اِن دونوں پھلوں کے بلڈ شوگر پر اثرات مختلف ہوتے ہیں، خاص طور پر ڈائیبٹیز یا پری ڈائیبٹیز کے مریضوں کے لیے احتیاط ضروری ہے۔
بلڈ شوگر اسپائک کیا ہے؟
بلڈ شوگر اسپائک سے مراد خون میں گلوکوز کی سطح کا اچانک بڑھ جانا ہے جو زیادہ میٹھے یا کاربوہائیڈریٹس والی غذاؤں کے استعمال سے ہوتا ہے۔
آم کا اثر
آم کا گلیسیمک انڈیکس معتدل ہوتا ہے، یعنی یہ بلڈ شوگر کو نسبتاً آہستہ بڑھاتا ہے تاہم اس میں مٹھاس اور کاربوہائیڈریٹس زیادہ ہونے کی وجہ سے زیادہ مقدار میں کھانے سے شوگر بڑھ سکتی ہے۔
کچے یا کم پکے ہوئے آم شوگر کو مزید سست رفتاری سے بڑھاتے ہیں، اگر آم کو دہی، خشک میوہ جات یا پروٹین کے ساتھ کھایا جائے تو شوگر کا اثر کم ہو جاتا ہے۔
تربوز کا اثر
تربوز کا گلیسیمک انڈیکس زیادہ ہوتا ہے، یعنی یہ جَلدی بلڈ شوگر بڑھا سکتا ہے لیکن اس میں پانی زیادہ اور کاربوہائیڈریٹس کم ہوتے ہیں، اس لیے محدود مقدار میں استعمال نسبتاً محفوظ سمجھا جاتا ہے۔
گلیسیمک انڈیکس اور گلیسیمک لوڈ
گلیسیمک انڈیکس خوراک کے فوری اثر کو ظاہر کرتا ہے جبکہ گلیسیمک لوڈ مجموعی اثر بتاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق دونوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
کون سا پھل زیادہ بہتر ہے؟
اگر رفتار دیکھی جائے تو آم بلڈ شوگر لیول کو آہستہ بڑھاتا ہے جبکہ تربوز تیزی سے اثر دکھاتا ہے تاہم مجموعی شوگر لوڈ کے لحاظ سے تربوز بہتر ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا مشورہ
ماہر صحت لوک کوٹینہو کے مطابق روزانہ ایک چھوٹا آم یا آدھا بڑا آم مناسب ہے لیکن زیادہ کھانے سے پرہیز کریں۔
احتیاطی تدابیر
ذیابیطس کے مریضوں کو چاہیے کہ وہ پھلوں کی مقدار کم رکھیں، پھل کو پروٹین یا فائبر کے ساتھ کھائیں، جوس سے پرہیز کریں، خالی پیٹ پھل کھانے سے گریز کریں اور رات دیر سے پھل نہ کھائیں۔
کن افراد کو احتیاط کرنی چاہیے؟
ذیابیطس، انسولین ریزسٹنس یا بلڈ شوگر کنٹرول کرنے والے افراد کو خاص احتیاط کی ضرورت ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کوئی بھی پھل مکمل طور پر نقصان دہ نہیں، اصل بات مقدار، وقت اور طریقۂ استعمال کی ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔