• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

90 دن تک 1 ہی وقت پر کھانا کھانے کے حیران کن فوائد

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

ماہرینِ غذائیت نے انکشاف کیا ہے کہ روزانہ مقررہ اوقات میں کھانا کھانے کی عادت انسانی جسم کے قدرتی نظام کو بہتر بنا سکتی ہے جس سے بھوک، توانائی اور ہاضمے پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ انسانی جسم ایک قدرتی حیاتیاتی گھڑی کے تحت کام کرتا ہے جو نیند، بھوک، ہاضمے اور توانائی کے استعمال کو کنٹرول کرتی ہے۔

جب کھانے کے اوقات روزانہ بدلتے رہیں تو جسم کو بار بار خود کو ایڈجسٹ کرنا پڑتا ہے جس سے توانائی اور بھوک کے نظام میں بے ترتیبی پیدا ہو سکتی ہے تاہم اگر کھانا روزانہ تقریباً ایک ہی وقت پر کھایا جائے تو جسم اس معمول کا عادی ہوجاتا ہے اور خوراک کو بہتر طریقے سے استعمال کرنے لگتا ہے۔

ابتدائی ہفتوں میں تبدیلیاں

طبی ماہرین کے مطابق ایک ہی مقررہ وقت پر روزانہ کھانا کھانے کے نتیجے میں پہلے چند ہفتوں میں بھوک کا نظام متوازن ہونا شروع ہو جاتا ہے، مقررہ اوقات میں بھوک لگتی ہے، غیر ضروری اسنیکنگ کم ہوتی ہے اور رات کے وقت کھانے کی خواہش میں کمی آتی ہے۔

اس دوران بھوک اور تسکین سے متعلق ہارمونز ایک نئے ردھم میں آ جاتے ہیں۔

1 ماہ بعد اثرات

تقریباً 1 ماہ تک مستقل اوقات پر کھانا کھانے سے توانائی کی سطح زیادہ مستحکم ہو جاتی ہے۔ 

بلڈ شوگر میں اچانک اتار چڑھاؤ کم ہوتا ہے جبکہ ہاضمہ بہتر انداز میں کام کرنے لگتا ہے، کچھ افراد میں پیٹ پھولنے کی شکایت کم اور دن بھر چستی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔

2 سے 3 ماہ بعد نمایاں بہتری

ماہرین کے مطابق 90 دن بعد یہ عادت فطری محسوس ہونے لگتی ہے، بھوک بہتر انداز میں کنٹرول ہوتی ہے، دیر رات تک کھانا کھانے کی خواہش کم ہو جاتی ہے، نیند کے معیار میں بہتری آتی ہے اور جسم اضافی توانائی کو چربی کی صورت میں ذخیرہ کرنے کی رفتار کم کر سکتا ہے۔

کھانے کے وقت کی اہمیت کیوں؟

تحقیق بتاتی ہے کہ دن کے وقت جسم خوراک کو توانائی میں زیادہ مؤثر طریقے سے تبدیل کرتا ہے جبکہ رات کے وقت جسم آرام کی طرف مائل ہوتا ہے۔

اسی لیے باقاعدہ ناشتہ، مقررہ وقت پر دوپہر کا کھانا اور نسبتاً جَلد رات کا کھانا جسمانی نظام کے لیے فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین کی رائے

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف کھانے کا وقت درست کرنا کوئی جادوئی حل نہیں لیکن یہ صحت مند طرزِ زندگی، متوازن غذا، مناسب نیند اور جسمانی سرگرمی کے ساتھ مل کر میٹابولزم کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

اگر کوئی شخص مسلسل 90 دن تک ایک ہی وقت پر کھانا کھانے کی عادت اپنائے تو جسم ایک منظم نظام اختیار کر لیتا ہے جس سے ہاضمہ، توانائی اور بھوک کے نظام میں واضح بہتری آتی ہے۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

صحت سے مزید