• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں 21 گھنٹے تک جاری رہنے والے مذاکرات کوئی اعلامیہ جاری ہوئے بغیر ملتوی ہوئے تو مذاکرات کے مستقبل کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہو گئے لیکن اگلے ہی روز مذاکرات کے دوسرے دور بارے باتیں شروع ہو گئیں جنگ بندی کے ایام کے ’’کاؤنٹ ڈاؤن‘‘ کیساتھ ہی مذاکرات کے دوسرے دور پر صورتحال واضح ہوگئی اسلام آباد میں دوسرے دور کے انعقاد کیلئےجس زور و شور سے انتظامات کئے جا رہے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کوئی اہم مہمان پاکستان آرہا ہے جسکے استقبال کیلئے غیر معمولی تیاریاں کی جا رہی ہیں ،صدر ٹرمپ نے یہ کہہ کر کہ ’’جنگ اختتام کے قریب ہے ڈیل ہو گئی تو وہ خود پاکستان جا سکتے ہیں ‘‘امن مذاکرات میں اپنی شرکت کےبارے میں عندیہ دے دیا ہے۔ حکومت پاکستان نےمذاکرات کے پہلے دور میںکنونشن سینٹر میں پاکستانی و غیر ملکی میڈیا کیلئے نہ صرف بہترین سہولیات کی فراہمی کا انتظام کر رکھا تھا بلکہ صحافی برادری کےقیام و طعام کا بھی عمدہ انتظام کیا تھا اگر کسی چیز کی کمی تھی تو انکی ہوٹل کے وی وی آئی پی بلاک میں ہونیوالے مذاکرات کی میز تک رسائی کا نہ ہونا تھا ۔جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اپنے ساتھ آئے ہوئے امریکی صحافیوں سے مختصرخطاب کے بعد عجلت میں واشنگٹن روانہ ہو گئے تو ایرانی اسپیکر علی باقر قالیباف بھی کوئی بات کئے بغیر تہران چلے گئے۔ ایران اور امریکی وفود کا پرا سرار انداز میں کوئی بات کئے بغیر چلے جانا مذاکرات کے مستقبل پر شکوک و شبہات پیدا کرنے کا باعث بنا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مختصر پریس کانفرنس میں بتایا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کسی ٹھوس نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے ہیں تاہم دونوں جانب سے اشارے مل رہے ہیں کہ بات چیت کا سلسلہ اور سفارت کاری کا دروازہ مکمل طور بند نہیں ہوا۔ جے ڈی وینس کی واشنگٹن واپسی کے بعد اسلام آباد میں موجود نیو یارک پوسٹ کی نمائندہ سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےٹیلی فونک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان امن مذاکرات کا دوسرا دور آئندہ دو دنوں میں پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد میں ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے کہیں اور نہیں ہم پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں امریکہ قابل بھروسہ ملک نہیں۔ انہوں نے پاکستان کو قابل اعتماد اور غیر جانبدار ثالث قرار دیا۔ اس دوران مشرق وسطیٰ میں غیر معمولی سفارتی سطح پر رابطے دیکھنے میں آئے وزیر اعظم شہباز شریف نے وزیر خارجہ کے ہمراہ سعودی عرب ، قطر اور ترکیہ کا دورہ کیا جبکہ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی ایران کا تفصیلی دورہ کیا۔ پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ کا اس وقت تہران کا دورہ کرنا غیر معمولی بات ہے جبکہ پورا ایران اسرائیل کے نشانے پر ہے۔یہ دورہ پوری دنیا کو یہ باور کرانے کیلئے کافی ہے پاکستان طاقتور فوجی طاقت کا حامل ہے فیلڈ مارشل عاصم منیر اس وقت بے خوف خطرتہران میں اترے جب پوری دنیا اسرائیل کے ممکنہ حملے سے ایران جانے سے کترارہی ہے۔ یہ اسرائیل کو پیغام تھا کہ اگر انکی موجودگی میں اسرائیل نے حملہ کرنےکی حماقت کی تو ایٹمی قوت کا حامل پاکستان اسکا بھرپور جواب دے گا۔ متلون مزاج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک سانس میں ایران کو سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دیتے ہیں تو دوسرے سانس میں دنیا کو اس بات کی نوید سناتے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم ہونے کو ہے لہٰذا یہ بات کہی جا سکتی ہے جب یہ سطور شائع ہوں اس وقت اسلام آباد میں ایران اورامریکہ کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہو چکا ہو گا۔ ایران اور امریکہ کے درمیان مختلف ایشوز پر اتفاق رائے ہو چکا ہے صرف ایران کے ایٹمی پروگرام پر پابندی اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول پر اختلاف ہے ۔ایران اپنے ایٹمی پروگرام پرایک خاص حدتک این پی ٹی کی پابندیاں قبول کرنے کے لئے تیار ہے، وہ افزودہ یورینیم کی منتقلی پر بھی رضا مند تھا لیکن ایٹمی پروگرام اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول سے دستبردار ہونے کیلئے تیار نہیں یورپی ممالک نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی پرامن آمدو رفت کو یقینی بنانے کیلئے ’’ وسیع تر اتحاد‘‘ کی تجویز پیش کی ہے امریکہ ایک طرف ایران سے مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کیلئے بے تاب ہے لیکن دوسری طرف ایران پر دباؤ بڑھانے کیلئے مشرق وسطیٰ میں ہزاروں کی تعداد میں فوجیوں کو تعینات کرنا چاہتا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام ایران کے خلاف جاری دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ ایران کو معاہدے پر آمادہ کیا جا سکے۔ نصف صدی کےبعد ایران اور امریکہ کو مذاکرات کی میز پر بٹھا دینا پاکستان کی بہت بڑی سفارتی کا میابی ہے۔ مذاکرات کے پہلے دور میں کوئی نتیجہ نہ نکلنے کی صورت میں پاکستان اپنی کوششوں کے ثمرات ضائع نہیں کرنا چاہتا اس لئے پاکستان نے اپنی سفارتی کوششیں ترک نہیں کیں بلکہ ایران اور امریکہ کا اعتماد حاصل ہونے کی صورت میں مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں منعقد کرانا بھی بڑی سفارتی کامیابی ہے۔ دونوں ممالک کے وفود نے اپنے ممالک واپس جا کر ممکنہ معاہدےپر مشاورت کر لی ہے ممکن ہے دونوں اطراف کے موقف میں کچھ نرمی آئی ہو۔ امریکہ کی جانب سے ایران پر یورینیم افزودہ کرنے پر سخت پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ اس بات کا اعتراف ہے کہ امریکہ 40 روزہ جنگ میں ایران کا ایٹمی پروگرام تباہ کرنے کا ہدف حاصل نہیں کر سکا۔ ایران کے موقف میں بھی بڑا وزن ہے کہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق وہ پرامن مقاصد کے لئے جوہری پروگرام جاری رکھ سکتا ہے۔ جبکہ اسرائیل کو خدشہ ہےکہ ایران کسی بھی وقت اسرائیل کیخلاف جوہری ہتھیار استعمال کر سکتا ہے اگرچہ امریکہ ایران کے خلاف جنگ کے حوالے سے بلند بانگ دعوے کر رہا ہے لیکن اس کو ابھی تک اس بات کا کلی طور یقین نہیں کہ وہ 40 روزہ جنگ میں ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کر چکا ہے کہ نہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں کوئی بڑی پیشرفت نہ ہونے کے باوجود دونوں اطراف نے جنگ ختم ہونے کے بارے میں امید قائم رکھی ہے پاکستان نے اسلام آباد اور گردو نواح میں قائم بس کے اڈوں کو 26 اپریل 2026ء تک کیلئے بند کر دیا ہے لہٰذا آئندہ دو تین روز میں اسلام آباد میں ایک بار پھر’’سفارتی میلہ‘‘ لگنے والا ہےجس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔

تازہ ترین