کرنے کی کوششوں کو صبر و حوصلے سے جھیلنے والا کمزور اور بے بس نہیں بلکہ اپنے نظریات کیلئے چٹان کی طرح کھڑا ہے جبکہ قوم بھی اپنی قیادت کے پیچھے متحد اور یکسو ہے۔ ہزاروں سال پرانی تہذیب سے ایرانی قوم نے فہم و فراست اور تدبر جبکہ اپنے اسلامی تشخص سے حق کے لیے جیداری سے لڑنا سیکھا۔ قیادت شہادتیں دیتی گئی تو نئی قیادت شہیدوں کی جگہ لیتی رہی یوں سلسلہ وہیں سے شروع ہو جاتا جہاں سے منقطع ہوا ہوتا۔ قوم کو ادراک ہے کہ فردِ واحد نہیں بلکہ مقصد، نظریات، آزادی و خود مختاری اہم ہیں۔پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ در حقیقت ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی ایسا ملک ہی نہیں تھا ما سوائے پاکستان کے جسے فریقین کا اعتماد حاصل ہو۔ چونکہ ہندوستان نے ایران کے خلاف جون 2025 جنگ میں جو گھناؤنا کردار ادا کیا اس کے نتیجے میں ایران کے اعلیٰ سول و عسکری قیادت کی لا تعداد شہادتیں ہوئیں۔ اس پر چاہ بہار بندر گاہ کا یکطرفہ معاہدہ منسوخ کرنا، جنگ سے چند روز قبل "موذی" کا اسرائیل کا دورہ اور "شیطن یاہو " کو ایران کے خلاف تعاون کی یقین دہانیاں دشمنی سے کم نہ تھیں۔ مزید ایران کے نہتے بحری جہاز کی مخبری کر کے اس پر حملہ کروانا اور ڈوبتے جوانوں کی مدد کی پکار پر مجرمانہ خاموشی سے ہندوستان نے ایران کا اعتماد کھو دیا۔ ادھر مئی 2025 کی پاکستان ہندوستان جنگ میں ٹرمپ کی مداخلت پر جنگ بندی کروانے کی ڈھٹائی سے نفی کرنے اور پاکستان کے ہاتھوں بدترین شکست سے بچائے جانے کا اعتراف نہ کر کے ہندوستان امریکہ کا بھی اعتماد کھو چکا ہے۔ پاکستانی قیادت نے اللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ کے فضل و کرم سے اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہتے ہوئے ، حکمت ،دانائی و شجاعت سے دنیا میں اپنی ساکھ بنائی ہے۔ محض چار گھنٹے میں اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن ہندوستان کو شکستِ فاش دے کر ایسی دھاک قائم کی کہ آج بھی "موذی" منہ چھپاتا کسی عالمی فورم پر شامل نہیں ہو سکتا کہ مبادا اس کی بھد اڑائی جائے یا ٹرمپ سے اسکا سامنا نہ ہو جائے ۔ایران امریکہ کی مستقل جنگ بندی کی شرائط ابھی منظرِ عام پر نہیں آئیں۔ قوی امکان ہے کہ ایران اپنی لازوال قربانیوں اور فتح کو ہیچ نہیں کرے گا اور اپنے پر لاگو ناجائز پابندیوں اور قد غنوں کے دیر پا حل پر ہی راضی ہو گا۔ امریکہ کے لیے اس سارے معاملے میں زیادہ سے زیادہ " جان بچی سو لاکھوں پائے" والی بات ہی ہو سکے گی۔ وگرنہ صدر ٹرمپ کو سالہا سال ایران کے خلاف امریکی وار گیمز سے سیکھنے کے بجائے اسرائیلی ایماء پر جنگ میں کودنے کی بھاری قیمت ادا کرنے پڑتی۔ اب تو پاکستان کی اعلیٰ سفارت کاری اور ثالثی کے باعث ہی امریکہ بمشکل اپنی سپر پاور کی شناخت بچا پائے گا۔ مستقل جنگ بندی روکنےکے لئے اسرائیل بہت سے لچ تلنے اور معاہدے میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کرے گا ۔ ٹرمپ بھی میدان جنگ میں شکست کو مذاکرات کی میز پر جیتنے کی کوشش کریں گے۔ جھوٹ، مکر و فریب کو اعلیٰ حکمتِ عملی قرار دینے والوں سے مثبت رویے کی امید زہر ِقاتل ہو گی ۔ ایران کے لئے حتمی جیت سے پہلے ابھی بہت سے مراحل اور امتحان منتظر ہیں۔ اب "شیطن یاہو "نے ایران کے بعد اپنا نیا دشمن ترکیہ کو بتانا شروع کر دیا ہے۔ آہستہ آہستہ وہ ترکیہ کے خلاف اپنا بیانیہ مضبوط کرتا جائے گا۔ اس دوران وہ صدر ٹرمپ کو بھڑکاتا اور ان پر دباؤ ڈالتا رہے گا کہ امریکہ نیٹو سے دستبردار ہو جائے تا کہ ترکیہ پر حملہ کرنے کی صورت میں نیٹو کا آرٹیکل 5 فعال نہ ہو سکے۔ یاد رہے کہ اسرائیل ہر وقت حالتِ جنگ میں نہ رہے تو اس کے وجود کا جواز ہی ختم ہو جائے اور اسے امریکہ سے اس درجے کا تعاون بھی حاصل نہ رہے گا۔ تاہم 7 اکتوبر 2023 سے جس طرح اسرائیلیوں نے غزہ پر بہیمانہ ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے، بے گناہ، معصوم، بے بس، نہتے، لا چاروں پر خوفناک بمباری کی، ان کی بجلی، پانی اور خوراک بند کر کے کھلے عام نسل کشی کی ، دنیا کا ان کے حوالے سے 180 ڈگری کے زاویے سے نظریہ بدل چکا ہے۔ ماضی میں مظلوم، مرگِ انبوہ کے شکار، راندہ ٔدرگاہ، بیچارے صیہونی دراصل خود سب سے زیادہ ظالم، دہشت گرد اور نسل کش ہیں۔ ان کے ظالمانہ و جابرانہ خیالات اور انسانیت سے عاری حرکات پوری دنیا میں انہیں قابلِ نفرت بنا رہی ہیں۔ ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فدان نے بھی" شیطن یاہو" کی صدر اردگان کے خلاف ہر زہ سرائی کی وجہ ترکیہ کا حق کا ساتھ دینا بیان کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اب ترکیہ کو اپنا نیا ہدف بنانا چاہتا ہے۔
پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، مصر اور ایران کو ایک مضبوط دفاعی معاہدے میں شامل ہونے کی ضرورت ہے۔ حالات بدلتے دیر نہیں لگتی اور کسی بھی وقت امریکہ اسرائیلی ایماء پر یکسر پینترا بدل سکتا ہے۔ ٹرمپ ہو یا کوئی دوسرا امریکی صدر، امریکہ کی ریاستی پالیسی اسرائیلی مفادات کے ہاتھوں یرغمال ہے۔ امریکہ کا لابی نظام ایسی قانونی رشوت ہے جس کے ذریعے مالدار صیہونیوں نے امریکی حکومتیں زیر کر لی ہیں۔ آج کے شکست خوردہ امریکہ و اسرائیل زیادہ عرصہ اپنے مذموم ارادوں کی تکمیل سے باز نہ رہ سکیں گے۔ عین ممکن ہے کہ نومبر کے امریکی انتخابات کے بعد ہی بھر پور کارروائی ڈال دی جائے ایران یا ترکیہ پر ! پاکستان کو خطے میں اپنے قائدانہ کردار کا ادراک کرتے ہوئے ممکنہ مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لیے مضبوط و جامع حکمتِ عملی تیار کرنا ہو گی۔
دیکھا ہے ملوکیتِ افرنگ نے جو خواب
ممکن ہے کہ اُس خواب کی تعبیر بدل جائے