لبنان اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ بندی نے جہاں امید پیدا کی، وہیں اسرائیلی کارروائیوں اور نئی فوجی حد بندی یلو لائن نے اس معاہدے کو مشکوک بنا دیا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق جنگ بندی کے چند گھنٹوں بعد ہی جنوبی لبنان میں اسرائیلی افواج کی جانب سے گولہ باری، مکانات کی مسماری اور زمینی صفائی کی کارروائیاں جاری رہیں۔
اس تنازع کے مرکز میں اسرائیل کی جانب سے قائم کردہ یلو لائن ہے، جو سرحد سے تقریباً 10 کلو میٹر اندر تک ایک فوجی زون پر مشتمل ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ اسرائیلی افواج اس علاقے میں موجود رہیں گی اور اسے مضبوط سیکیورٹی بفر زون کے طور پر برقرار رکھا جائے گا۔
دوسری جانب لبنان اور حزب اللّٰہ نے اس اقدام کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
ان کا مؤقف ہے کہ جنگ بندی کا مطلب مکمل طور پر فوجی کارروائیوں کا خاتمہ ہوتا ہے، نہ کہ کسی ایک فریق کی جانب سے یکطرفہ کنٹرول حاصل کرنا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یلو لائن کا ماڈل غزہ میں پہلے ہی نافذ کیا جا چکا ہے، جہاں بڑے علاقے اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہیں اور شہریوں کی نقل و حرکت محدود کر دی گئی ہے، اسی طرز پر لبنان کے 55 سے زائد دیہات کے مکینوں کو واپسی سے روکنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
جنگ بندی کے متن میں موجود ابہام بھی تنازع کو بڑھا رہا ہے، جس میں ایک طرف جنگی کارروائیوں کے خاتمے کی بات کی گئی ہے، جبکہ دوسری جانب اسرائیل کو دفاع کے نام پر کسی بھی وقت کارروائی کا حق دیا گیا ہے، مبصرین کے مطابق یہی شق اسرائیل کو وسیع اختیارات فراہم کرتی ہے، جسے وہ اپنے مفاد میں استعمال کر رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی افواج نے جنگ بندی کے باوجود فضائی حملے بھی کیے، جنہیں اسرائیل نے سیکیورٹی خطرات کے خلاف کارروائی قرار دیا، جبکہ زمینی سطح پر بھی مختلف لبنانی علاقوں میں توپ خانے اور مشین گن حملوں کی اطلاعات ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل اس حکمتِ عملی کے ذریعے مستقبل کے مذاکرات میں برتری حاصل کرنا چاہتا ہے، جبکہ لبنانی عوام میں خدشہ بڑھ رہا ہے کہ یہ عارضی فوجی زون مستقل قبضے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔