• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

زیادہ پروٹین اور سپلیمنٹس کا استعمال جگر کی صحت کیلئے خطرہ

---فائل فوٹوز
---فائل فوٹوز

صحت مند جسم کے لیے ورزش اور متوازن غذا ہی کافی ہے جبکہ دورِ حاضر میں پروٹین پاؤڈرز اور سپلیمنٹس کے بڑھتے استعمال سے خبردار کرتے ہوئے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کا استعمال جگر پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق جگر جسم میں پروٹین کو قابلِ استعمال بنانے، نقصان دہ مادوں کو خارج کرنے اور توانائی کے توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اگر جگر پر زیادہ بوجھ پڑے تو یہ عمل متاثر ہو سکتا ہے۔

طبی رپورٹس کے مطابق روزانہ پروٹین کی مناسب مقدار عام افراد کے لیے جسمانی وزن کے حساب سے 1 سے 1.5 گرام فی کلو کافی ہوتی ہے۔

زیادہ جسمانی سرگرمی کرنے والے افراد کو اس سے کچھ زیادہ ضرورت ہو سکتی ہے تاہم ضرورت سے زیادہ پروٹین لینے سے کارکردگی میں اضافہ ضروری نہیں بلکہ جگر اور گردوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پروٹین سپلیمنٹس جیسے وہے پروٹین، کریٹین (3 سے 5 گرام روزانہ) اور بی سی اے اے محدود مقدار میں فائدہ مند ہو سکتے ہیں لیکن غیر معیاری یا جعلی مصنوعات نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں، ایک سے زیادہ سپلیمنٹس کا استعمال بھی زہریلے اثرات اور جگر پر دباؤ بڑھا سکتے ہیں۔

جگر پر دباؤ کی علامات میں تھکن، متلی، بھوک میں کمی، آنکھوں یا جلد کا پیلا ہونا، گہرے رنگ کا پیشاب اور پیٹ میں درد شامل ہے۔

طبی ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ قدرتی غذا انڈے، مچھلی، دالیں، کچی سبزیوں اور پھلوں کا استعمال باقاعدگی سے کریں اور سپلیمنٹس صرف ضرورت کے تحت ماہر ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق ہی ڈائیٹ میں شامل کیے جائیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ متوازن غذا، مناسب پانی کا استعمال اور باقاعدہ طبی معائنہ جگر کو صحت مند رکھنے کے لیے بے حد ضروری ہے۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

صحت سے مزید