• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا ایک عجیب موڑ پر کھڑی ہے۔ صبح کا تجزیہ کچھ اور ہوتا ہے، شام کی سرخیاں کچھ اور کہانی سناتی ہیں۔ خبریں اب اطلاع نہیں رہیں، اضطراب بن چکی ہیں۔ کہیں جنگ کے بادل ہیں، کہیں معاشی طوفان، کہیں اخلاقی زوال کی دھند ہے۔ انسانی ذہن الجھ رہا ہے، دل تھک رہا ہے، اور روح ایک ایسی پناہ ڈھونڈ رہی ہے جہاں سکون کا ایک لمحہ نصیب ہو۔ ایسے میں ایک صدا دل کے اندر سے اٹھتی ہے: آئیے دعا کریں۔ آج دنیا کا نقشہ دیکھیں تو طاقت کا توازن بگڑتا دکھائی دیتا ہے۔ ایک طاقتور ملک ایک اسلامی ملک کو دبانے، جھکانے، حتیٰ کہ تباہ کرنے کے درپے ہے۔ یہ صرف جغرافیہ کی جنگ نہیں، یہ نظریات، خودمختاری اور وقار کی جنگ ہے۔ کمزور اقوام کی زمینیں آزمائش گاہ بن چکی ہیں۔ کہیں میزائل برس رہے ہیں، کہیں پابندیاں معیشت کا گلا گھونٹ رہی ہیں۔ ایسے میں عقل کہتی ہے تجزیہ کرو، مگر دل کہتا ہے: آئیے دعا کریں کہ ظلم کے یہ بادل چھٹ جائیں، اور امن کی بارش نازل ہو۔

پاکستان کے ہمسائے میں ایک بڑی جنگ دستک دے رہی ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر وزیراعظم شہباز شریف نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار دن رات عالمی امن کے قیام کے لیے متحرک ہیں۔پاکستان کے اندرونی بیرونی دشمن انکی کوششوں کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں سب دعا کریں اللّٰہ انکی کوششوں میں برکت ڈالے پاکستان کو سرخرو کرے اور دنیا امن سے آشنا ہو۔

معاشی میدان بھی کسی جنگ سے کم نہیں۔ مہنگائی عام آدمی کی ہڈیوں تک اتر چکی ہے۔ رزق کی کشادگی سکڑتی جا رہی ہے، محنت کا صلہ کم اور پریشانی زیادہ ہو رہی ہے۔ قرضوں کے بوجھ تلے دبے ممالک خودمختاری کی قیمت چکا رہے ہیں۔ انسان کی بنیادی ضرورتیں بھی خواب بنتی جا رہی ہیں۔ ایسے میں تدبیر کے ساتھ ساتھ تضرع بھی ضروری ہے: آئیے دعا کریں کہ اللّٰہ رزق میں برکت عطا فرمائے، اور معاشی غلامی کی زنجیریں ٹوٹ جائیں۔

اخلاقی زوال ایک خاموش طوفان ہے، جو معاشروں کی بنیادیں ہلا رہا ہے۔ سچ جھوٹ کے درمیان فرق مٹتا جا رہا ہے، حلال و حرام کی تمیز دھندلا رہی ہے۔ خاندان بکھر رہے ہیں، رشتے کمزور ہو رہے ہیں، اور خود غرضی نے اجتماعیت کو نگل لیا ہے۔ علم بڑھا ہے مگر حکمت کم ہو گئی ہے۔ ترقی ہوئی ہے مگر سکون کھو گیا ہے۔ ایسے میں قلم بھی تھک جاتا ہے، مگر دعا کا دروازہ بند نہیں ہوتا: آئیے دعا کریں کہ اللّٰہ ہمارے دلوں کو نورِ ہدایت سے بھر دے، اور ہمیں اخلاقی استقامت عطا فرمائے۔

مسلم دنیا کا حال بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ کہیں داخلی انتشار ہے، کہیں قیادت کا بحران، کہیں بیرونی دباؤ۔ اتحاد کا خواب بکھرا ہوا ہے اور مفادات کی سیاست غالب آ چکی ہے۔ امت ایک جسم کی مانند ہونے کے بجائے منتشر جزیرے بن چکی ہے۔ ایسے میں صرف شکایت کافی نہیں، رجوع ضروری ہے: آئیے دعا کریں کہ اللّٰہ امت کو وحدت عطا فرمائے، قیادت میں اخلاص پیدا کرے، اور ہمیں ایک دوسرے کا سہارا بننے کی توفیق دے۔

تعلیم کے میدان میں بھی ایک خلا محسوس ہوتا ہے۔ ڈگریاں بڑھ رہی ہیں مگر کردار کمزور ہو رہا ہے۔ علم معلومات تک محدود ہو گیا ہے، جبکہ تربیت کا پہلو نظر انداز ہو رہا ہے۔ نوجوان نسل کنفیوژن کا شکار ہے، اسے سمت درکار ہے۔ ایسے میں اساتذہ، والدین اور معاشرہ سب کو اپنی ذمہ داری پہچاننی ہوگی، مگر اس کے ساتھ: آئیے دعا کریں کہ اللّٰہ ہمارے نوجوانوں کو علمِ نافع عطا فرمائے، اور انہیں حق کی پہچان نصیب ہو۔

ماحولیات کا بحران بھی ایک حقیقت ہے۔ موسم بے ترتیب ہو چکے ہیں، زمین تھک چکی ہے، پانی کم ہو رہا ہے۔ انسان کی بے احتیاطی نے قدرتی نظام کو متاثر کیا ہے۔ یہ صرف سائنسی مسئلہ نہیں، اخلاقی بھی ہے۔ ہم نے امانت میں خیانت کی ہے۔ اب وقت ہے کہ ہم سنبھل جائیں: آئیے دعا کریں کہ اللّٰہ ہمیں زمین کا بہتر محافظ بننے کی توفیق دے، اور ہمیں اعتدال کی راہ دکھائے۔

انفرادی سطح پر بھی انسان بے سکونی کا شکار ہے۔ ذہنی دباؤ، بے چینی، مایوسی اور تنہائی عام ہو چکی ہے۔ سوشل میڈیا کی چکاچوند میں دل خالی ہو رہے ہیں۔ خوشی ایک نمائش بن گئی ہے، حقیقت نہیں۔ ایسے میں انسان کو اپنے رب کی طرف لوٹنا ہوگا: آئیے دعا کریں کہ اللّٰہ ہمارے دلوں کو سکون عطا فرمائے، اور ہمیں اپنی قربت نصیب کرے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب حالات حد سے بڑھتے ہیں تو رحمت کے دروازے بھی کھلتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ انسان اپنی عاجزی پہچانے، اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرے، اور خلوص کے ساتھ رب کے حضور جھک جائے۔ دعا صرف الفاظ نہیں، ایک کیفیت ہے؛ ایک تعلق ہے؛ ایک یقین ہے کہ کوئی ہے جو سب کچھ بدل سکتا ہے۔

تو آئیے ، اس شور زدہ دنیا میں ایک لمحہ ٹھہریں، اپنے دل کو سمیٹیں، اور رب کے حضور عرض کریں:

اے کائنات کے مالک! تو ہی اندھیروں کو روشنی میں بدلنے والا ہے،تو ہی کمزوروں کا سہارا اور مظلوموں کا وکیل ہے۔ دنیا کے ہر کونے میں جہاں خوف ہے، وہاں امن نازل فرما۔جہاں بھوک ہے، وہاں رزق کی فراوانی عطا کر۔جہاں نفرت ہے، وہاں محبت کے چراغ جلا دے۔مسلم امت کو اتحاد، حکمت اور وقار عطا فرما۔ہماری خطاؤں کو معاف کر، ہمارے دلوں کو زندہ کر اور ہمیں وہ راستہ دکھا جس میں تیری رضا ہے۔ کیونکہ آخرکار، تدبیریں اپنی جگہ،مگر تقدیریں اسی کے ہاتھ میں ہیں۔آئیے دعا کریں… کہ دنیا سنور جائے۔

تازہ ترین