• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

غزہ کی بحالی و تعمیرِ نو کیلئے آئندہ 10 برس میں 71 ارب ڈالرز سے زائد درکار

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی مشترکہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ غزہ کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے آئندہ 10 برسوں میں 71 ارب ڈالرز سے زائد درکار ہوں گے۔

غزہ ریپڈ ڈیمیج اینڈ نیڈز اسیسمنٹ (RDNA) کی جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے باعث انسانی ترقی کو تباہ کن نقصان پہنچا ہے اور فوری طور پر بھاری مالی وسائل کی ضرورت ہے۔

رپورٹ کے مطابق ابتدائی 18 ماہ میں بنیادی سہولتوں کی بحالی، اہم انفرااسٹرکچر کی تعمیر اور معیشت کی بحالی کے لیے 26.3 ارب ڈالرز درکار ہوں گے، جبکہ انفرااسٹرکچر کو پہنچنے والا نقصان 35.2 ارب ڈالرز اور معاشی و سماجی نقصانات 22.7 ارب ڈالرز تک پہنچ چکے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی اگرچہ اکتوبر میں طے پائی، تاہم اسرائیلی فوج پر اس کی بار بار خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، یہ تنازع حماس کے 7 اکتوبر 2023ء کے حملوں کے بعد شروع ہوا تھا۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک 72 ہزار 500 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں، جبکہ جنگ بندی کے بعد بھی 777 افراد جان سے جا چکے ہیں، اپریل کے آغاز سے اب تک 32 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔

غزہ کے گورنمنٹ میڈیا آفس کے مطابق اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی 2 ہزار 400 خلاف ورزیاں کی جا چکی ہیں، جن میں ہلاکتیں، گرفتاریاں، محاصرہ اور بھوک کی پالیسی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں غزہ میں 6 کروڑ 10 لاکھ ٹن سے زائد کا ملبہ جمع ہو چکا ہے، جبکہ 3 لاکھ 71 ہزار 888 رہائشی یونٹس تباہ یا متاثر ہوئے ہیں، علاقے کے 50 فیصد سے زائد اسپتال غیر فعال ہو چکے ہیں اور تقریباً تمام تعلیمی ادارے تباہ یا متاثر ہیں۔

مزید بتایا گیا کہ غزہ کی معیشت 84 فیصد تک سکڑ چکی ہے اور 19 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جن میں سے بیشتر کو کئی بار نقل مکانی کرنا پڑی۔

 رپورٹ کے مطابق 60 فیصد سے زائد آبادی اپنے گھروں سے محروم ہو چکی ہے، رہائش، صحت، تعلیم، تجارت اور زراعت کے شعبے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، جبکہ اس تنازع نے غزہ کی انسانی ترقی کو 77 سال پیچھے دھکیل دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین نے زور دیا ہے کہ غزہ کی تعمیرِ نو فلسطینی قیادت کے تحت ہونی چاہیے اور اسے فلسطینی اتھارٹی کو اختیارات کی منتقلی کے ساتھ جوڑا جائے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید