ریٹائرڈ امریکی فوجی افسر اور سابق سفارت کار جوئل ریبرن کا کہنا ہے کہ امریکا کو ایران پر واضح عسکری برتری حاصل ہے، تاہم اس برتری کو سیاسی مقاصد میں تبدیل کرنا ایک مشکل مرحلہ ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ ایران کی فوج اپنی فضائی حدود پر مکمل کنٹرول نہیں رکھتی، جبکہ امریکی اور اسرائیلی فضائیہ ایران کے مختلف حصوں میں باآسانی کارروائیاں کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
جوئل ریبرن نے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز میں کوئی تصادم ہوتا ہے تو وہاں بھی طاقت کا توازن امریکا کے حق میں ہو گا۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سینٹکام آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کا فیصلہ کرے تو ایران کے لیے اسے بند رکھنا انتہائی مشکل ہو گا، اگرچہ انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ ایک غیر آزمودہ صورتِ حال ہے۔
جوئل ریبرن کا کہنا ہے کہ اصل چیلنج عسکری نہیں بلکہ سیاسی ہے، کیونکہ عالمی معیشت، بین الاقوامی دباؤ اور داخلی سیاسی عوامل اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ واضح نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی کابینہ ان عوامل کو مدِنظر رکھتے ہوئے کیا فیصلہ کریں گے۔
جوئل ریبرن نے یہ بھی کہا کہ خالصتاً عسکری نقطۂ نظر سے مذاکرات کی میز پر ایک فریق کو واضح برتری حاصل ہو سکتی ہے، مگر اسے مؤثر سیاسی نتائج میں تبدیل کرنا ایک پیچیدہ عمل ہے۔