امریکا میں ایک سینئر جوہری و کیمیائی سیکیورٹی افسر اینڈریو ہگ کو خفیہ معلومات ایک اجنبی سے شیئر کرنے کے الزام میں عارضی طور پر معطل کر دیا گیا۔
این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ کارروائی ایک خفیہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد کی گئی جس میں اینڈریو ہگ ایک عوامی مقام پر حساس فوجی امور پر گفتگو کرتے نظر آئے۔
یہ ویڈیو جیمز او کیفی نے جاری کی ہے جو ’او کیفی میڈیا گروپ‘ کے سربراہ ہیں۔
ویڈیو میں اینڈریو ہگ نے مبینہ طور پر امریکی فوجی منصوبوں، جوہری ہتھیاروں کی حفاظت اور کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق اہم دعوے کیے ہیں۔
امریکی فوج کے مطابق معاملے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور ابتدائی طور پر افسر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔
ویڈیو میں اینڈریو ہگ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے پاس اب بھی خطرناک اعصاب پر قابو پا لینے والی گیس موجود ہے اور ایک لیب کیمیا دان اس کے اثر سے ہلاک ہو چکی ہے۔
اُنہوں نے ویڈیو میں کہا ہے کہ جنگ کے دوران شہری ہلاکتیں جن میں بچے بھی شامل ہوتے ہیں ’ضمنی نقصان‘ سمجھی جاتی ہیں۔
مزید برآں اُنہوں نے میزائل لانچ کی نگرانی کے جدید نظام اور ہنگامی احکامات پر عمل درآمد کے طریقۂ کار پر بھی بات کی ہے۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکی فوج کی ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ معاملہ سنجیدہ نوعیت کا ہے اور تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔