• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا مصنوعی ذہانت ایئر ٹریفک کنٹرولرز کو تبدیل کر دے گی؟

---اے آئی سے تیار کردہ تصویر
---اے آئی سے تیار کردہ تصویر

امریکی حکومت نے ملک کے پرانے ایئر ٹریفک کنٹرول نظام کو جدید بنانے کے لیے 12.5 ارب ڈالرز کے بڑے منصوبے کی منظوری دے دی، جس میں مصنوعی ذہانت (AI) کو بھی معاون کردار دیا جائے گا۔

امریکی محکمۂ ٹرانسپورٹ کے سیکریٹری شین ڈفی نے ایک انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ اے آئی کو انسانی ایئر ٹریفک کنٹرولرز کی جگہ نہیں دی جائے گی۔

 ان کا کہنا ہے کہ اے آئی ایک ٹول ہے، لیکن فضائی نظام کی نگرانی انسان ہی کریں گے، یہ نہیں ہو سکتا کہ اے آئی انہیں تبدیل کرے۔

انہوں نے کہا کہ ایئر ٹریفک کنٹرول دنیا کے سب سے زیادہ دباؤ والے شعبوں میں سے ایک ہے اور اس میں انسانی نگرانی ناگزیر ہے۔

نئے منصوبے کے تحت اے آئی سافٹ ویئر کو فلائٹ شیڈولز اور فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) کے ڈیٹا کو یکجا کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا تاکہ ممکنہ رش اور مسائل پہلے ہی شناخت کیے جا سکیں۔

 اس نظام کے ذریعے ہفتوں پہلے ہی ممکنہ تاخیر اور ٹریفک جام کی نشاندہی کر کے چھوٹی تبدیلیوں کی سفارش کی جا سکے گی، جیسے پروازوں کے وقت میں چند منٹ کی تبدیلی۔

حکام کے مطابق امریکی کانگریس نے اس اپ گریڈیشن کے لیے 12.5 ارب ڈالرز کی منظوری دی ہے، جس کے تحت اب تک نظام کے بڑے حصے کو جدید بنایا جا چکا ہے، بشمول وائرنگ کی تبدیلی، ریڈیو سسٹمز کی اپ گریڈیشن اور ایئر پورٹس پر نئی ٹیکنالوجی کی تنصیب۔

تاہم اے آئی پر مبنی مکمل سافٹ ویئر ابھی فنڈنگ کا منتظر ہے، جس کی لاگت 6 سے 10 ارب ڈالرز تک بتائی جا رہی ہے۔

حکام کے مطابق اس کا مقصد انسانی غلطیوں کو کم کرنا اور ایئر ٹریفک کنٹرولرز کو بہتر فیصلے کرنے میں مدد دینا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید
سائنس و ٹیکنالوجی سے مزید