امریکہ ایران سے عارضی جنگ بندی چاہتا ہے لیکن امن نہیں! مستقل جنگ بندی کبھی بھی قائم نہیں رہ سکے گی۔ امریکی منصوبے کے مطابق ایران میں امن تب ہی قائم ہوگا جب مبینہ طور پر اس کے پانچ حصے کر دیے جائیں گے۔ ایک حصہ" ایران" جو فارسی بانوں پر مشتمل ہوگا یعنی تہران، اصفہان اور شیراز وغیرہ، دوسرا حصہ شمال مغرب میں آذربائیجانی ترک نسل ایرانیوں پر مشتمل ہوگا یعنی تبریز اور ملحقہ علاقے وغیرہ، تیسرا مغرب میں عراق و ترکی کی سرحد سے متصل کردش علاقوں پر مبنی" کردستان" ہوگا، چوتھا جنوب مغرب میں خوزستان، احواز اور خلیج فارس کا علاقہ ہوگا جہاں عربی النسل بستے ہیں اور وہ تیل کی دولت سے مالا مال ہے، پانچواں جنوب مشرق میں "نیا بلوچستان " زاہدان، سیستان وغیرہ ہوگا جس کی سرحد پاکستانی بلوچستان سے متصل ہے۔ بعض ناقدین اس مبینہ منصوبے کو تخیلاتی، ذہنی اختراع، ناقابلِ عمل اور مغرب کے خلاف محض پروپیگنڈا کہتے ہیں۔ اس پر ایرانی قوم جو 5 ہزار سال پرانی تہذیب کی وارث ہے اس نسلی تقسیم کو یکسر مسترد کرتی ہے۔ مزید برآں اس منصوبے کے انتہائی سادہ ہونے کے علاوہ ان علاقوں میں دیگر قومیتوں کی آمیزش کے باعث وہاں کبھی امن قائم نہیں ہو سکتا۔ یہ بالکل درست تجزیہ ہے! ناانصافی کی یہی وہ لکیریں ہیں جنہیں کھینچ کر استعماری قوتیں اپنے دیرپا مقاصد کی تکمیل کرتی ہیں۔ ایسی غیر منصفانہ تقسیم سے ان کا مقصد خطے میں دیرپا امن کا قیام نہیں بلکہ آپس میں ہمیشہ کے لیے پھوٹ ڈالنا اور نفاق کا بیج بو کر متحارب فریقین پر حکمرانی قائم رکھنا ہے۔ ایک متحد ایران 47 سال سے پوری دنیا کے نظاموں کے سامنے سینہ سپر ہے لیکن اگر اس کے چار یا پانچ ٹکڑے کر دیے جائیں تو وہ اس قوت، جرأت و شدت سے دنیا کے باطل نظاموں کے سامنے کھڑا نہیں رہ سکتا۔ سلطنتِ عثمانیہ کے ٹوٹنے کے بعد مغرب نے عرب علاقوں کی ایسی غیر منصفانہ تقسیم کی کہ وہ آج تک انہی نفرتوں اور کدورتوں کی بنا پر متحد نہیں ہو سکے۔ برِ صغیر پاک و ہند کی تقسیم بھی ریڈ کلف ایوارڈ میں 17 اگست کو اعلانِ آزادی کے بعد گرداسپور، ہوشیارپور، پٹھان کوٹ، مرشد آباد، فیروزپور جیسے مسلم اکثریتی علاقے پاکستان کے بجائے ناانصافی کرکے ہندوستان کو دے دیے گئے تھے۔ بعینی جموں کشمیر، جونا گڑھ اور دیگر کئی ریاستوں کو ہندوستان نے انگریز سرکار کی مدد اور ایماء سے زبردستی اپنے ساتھ شامل کر لیا۔ یہ وہ ناانصافی ہے جو آج بھی ہندوستان اور ہمارے درمیان مسلسل چپقلش کا باعث ہے۔ استعمار کبھی بھی امن، آشتی اور بہتر گورننس کے لیے اپنے زیرِ تسلط علاقوں کی مبنی بر انصاف تقسیم نہیں کرتا بلکہ مسلسل اختلاف، جھگڑے، بدگمانی، بدمزگی، حسد و نفرت کے ہتھیاروں کا بھرپور استعمال کر کے ایسی ناقابلِ یقین تقسیم کرتا ہے جو فریقین کے درمیان کبھی نہ ختم ہونے والی لڑائی کی بنیاد بنتا ہے۔
پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کروا رہا ہے! جس کمال تدبر، حکمت و فراست سے پاکستان نے ثالث کا مشکل کردار نبھایا، پوری دنیا اس کا اعتراف کر رہی ہے ماسوائے اسرائیل و ہندوستان کے۔ ان دونوں کی پاکستان کے ثالث کے کردار کے حوالے سے تمام مذموم چالیں ناکام ہوچکیں ہیں لیکن ہمارے چند ناعاقبت اندیش ابھی بھی ان کے آلۂ کار بنے بد گمانیاں پھیلانے میں پیش پیش ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان ایسے متلون مزاج امریکی صدر سے معاملات کر رہا ہے جو پارے کی طرح ایک مقام پر ٹکتے نہیں، من مرضی کے فیصلے کرتے اور انہیں بدلتے رہتے ہیں۔ جبکہ ایرانی اپنے مؤقف پر استقامت سے ڈٹے ہوئے اور سنجیدہ ہیں۔ وہ حالیہ جنگ میں فاتح اور اپنے حقوق کے حوالے سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ ان کی قیادت بھی ایک صفحے پر اور اپنے مقاصد میں یکسو ہے۔ تاہم دنیا میں جمہوریت کی علمبردار امریکی حکومت کے صدر نے تمام امریکی قوانین بالائے طاق رکھ کر ایک دوسرے ملک کے وزیر اعظم کی ایماء پر ایک تیسرے ملک پر حملہ کیا ہے۔ اپنی کانگریس سے جنگ کی منظوری نہیں ملنی تھی اسی لیے جنگ کے بجائے اسے آپریشن کا نام دے دیا۔ 28 فروری کو امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تھا لہٰذا قانوناً 60 روز یعنی پہلی مئی تک صدر ٹرمپ کو "وار پاور ریزولیوشن آف 1973" کے تحت اپنی فوج کا اس آپریشن (جنگ) میں استعمال ختم کرنا ہوگا۔ اس مدت میں صرف کانگریس توسیع کرنے کی مجاز ہے وہ بھی اگر اعلان جنگ یا جنگ کرنے کا اعادہ کرے۔ یہ قانون در اصل ویتنام جنگ کے تناظر میں متعارف کرایا گیا تھا تاکہ کانگریس کی اجازت کے بنا امریکی صدور لامحدود عرصے تک جنگیں جاری نہ رکھ سکیں۔ آپریشن کی صورت میں اس 60 روزہ مدت میں مزید 30 روز کی توسیع کی جا سکتی ہے۔ جو صرف فوجوں کے انخلاء، اسلحہ، ہتھیاروں اور جنگی ساز و سامان کی واپسی سے مشروط ہوگی لیکن اس عرصے میں جنگ لڑنے کی اجازت نہیں۔ صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم ایک دوسرے ملک پر کھلی جارحیت کے مرتکب ہوئے ہیں جبکہ گزشتہ 60 روز سے امریکہ کو حالت جنگ میں رکھ کر اسے آپریشن کہہ کر کانگریس کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔ اب امریکی جنگی وزیر نے ایران جنگ کے لیے اضافی 200 ارب ڈالر کی بجٹ میں درخواست کی ہے کیونکہ اب تک امریکہ روزانہ ایک ارب ڈالر سے زیادہ اس جنگ میں خرچ کر چکا ہے۔ بلفرض کانگریس آپریشن کے نام پر جاری جنگ کی توسیع کرتی ہے تو اسے 200 ارب ڈالر کے فنڈ بھی منظور کرنا ہوں گے۔ عین ممکن ہے کہ اسلام آباد مذاکرات اس لیے کامیاب ہوتے ہوتے اچانک پلٹ دیے گئے اور آبنائے ہرمز پر بھی بلا جواز امریکی ناکہ بندی کا اصل مقصد کانگریس پر دباؤ ڈالنا ہو۔ تاکہ کانگریس پہلی مئی کو ایران کے خلاف اعلان جنگ کرے اور 200 ارب ڈالر کے فنڈ مزید لوٹ مار کے لیے منظور بھی کرلے۔ امریکی وزیر جنگ کے حالیہ بیان میں جب وہ کہتے ہیں کہ ہمیں جلدی نہیں بلکہ ہمارے پاس لامحدود وقت ہے، یہ اشارہ ملتا ہے کہ اسرائیلی لابی نے کانگریسی ارکان پر ایران جنگ کی منظوری کے لیے لابنگ کا کام مکمل کر لیا ہے۔
اسی لیے امریکی صدر نے دھیمی آنچ پر ایران سے مذاکرات کا ڈھونگ رچا رکھا ہے تاکہ کانگریس کو کہا جا سکے کہ مذاکرات ناکام ہو گئے اور ہمیں زور و شور سے جنگ میں جانا پڑے گا۔ جب بھی معاملات سلجھنے، طے ہونے یا کسی نہج پر پہنچنے کے قریب ہوتے ہیں تو صدر ٹرمپ سوشل میڈیا پر ایک عجیب و غریب پیغام داغ کر ایرانی مذاکرات کاروں کو متنفر کر دیتے ہیں۔ وہ باعزت، باحمیت، باغیرت قوم ہیں، فاتح بھی ہیں تو کیونکر یہ سب کچھ برداشت کریں گے۔ اس پر صدر ٹرمپ، ان کی ٹیم، حواری اور خاندان سب اس غیر یقینی صورتحال جو جان بوجھ کر ان کی اپنی بنائی ہوئی ہے سے دونوں ہاتھوں سے بھرپور مالی مفاد سمیٹ رہے ہیں۔ تاہم پاکستان نے جس خلوصِ نیت سے فریقین کے درمیان معاملات سلجھانے کی کوشش کی ہے اس سے پاکستان کا قد اقوامِ عالم میں بلند ہوا ہے۔ ہمارے فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم نے اپنی انتھک کاوشوں سے پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔ الحمد للہ! اقبال کہتے ہیں جب دشمن تجھے خوفزدہ دیکھتا ہے تو ایسے توڑ لیتا ہے جیسے کیاری سے پھول۔
؎دشمنت ترساں اگر بیند ترا
از خیابانت چُو گُل چیند ترا