• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ حقیقت تسلیم کہ دنیا کے ہر فورم پر پاکستان کا پرچم لہرا رہاہے،اس امر میں بھی کوئی دوسری رائے نہیںکہ دنیا کے تمام بڑے دارالحکومتوں میں ہماری آواز سنی جا رہی ہے۔امریکہ ہماری بلائیں لے رہا ہے،ایران صدقے واری جا رہا ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے اس جنگ کی آڑ میں غریب عوام کی چمڑی ادھیڑ کر رکھ دی گئی ہے۔عام آدمی کی خاموش چیخیں آسمان ہلا رہی ہیں، بڑھتی ہوئی خودکشیاں، جرائم کی شرح میں ہوشربا اضافے، بتا رہے ہیں کہ ان عالمی سرگرمیوں کی چھتری تلے پاکستان کا غریب آدمی پس کر رہ گیا ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی اور محدود جنگی ماحول نے پورے خطے کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس جنگ کے اثرات صرف خلیج تک محدود نہیں رہے بلکہ جنوبی ایشیا کے ممالک بھی اس کی لپیٹ میں آئے۔ اگر ہم اپنے ہمسایہ ممالک کا جائزہ لیں تو بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا اور حتیٰ کہ خود ایران میں بھی مہنگائی کا دباؤ موجود ہے، مگر پاکستان کی صورتحال ان سب سے مختلف اور کہیں زیادہ تشویشناک نظر آتی ہے۔ بھارت میں اگرچہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، مگر وہاں حکومتی سبسڈی اور مضبوط معاشی ڈھانچے نے عام آدمی کو مکمل تباہی سے بچائے رکھا۔ بنگلہ دیش، جو کبھی پاکستان سے پیچھے سمجھا جاتا تھا، آج مہنگائی کے باوجود صنعتی ترقی کے باعث اپنے شہریوں کو نسبتاً بہتر مواقع فراہم کر رہا ہے۔ سری لنکا شدید معاشی بحران سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے اور وہاں بھی قیمتیں بلند ہیں، مگر حکومتی نظم و ضبط اور عالمی امداد نے کچھ استحکام پیدا کیا ہے۔ ایران، جو براہ راست جنگی دباؤ میں رہا، وہاں بھی مہنگائی بڑھی مگر ریاستی کنٹرول اور سبسڈی کے باعث بنیادی اشیاء عام آدمی کی پہنچ سے مکمل طور پر باہر نہیں ہوئیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں مہنگائی نے ایک طوفان کی شکل اختیار کر لی ہے جہاں نہ صرف قیمتیں بے قابو ہیں بلکہ ریاستی سطح پر کوئی واضح حکمت عملی بھی دکھائی نہیں دیتی۔پاکستانی حکومت کا سارا زور تعلیمی اداروں پر چلتا ہے۔جہاں جنگ ہو رہی ہے وہاں اسکول کھلے ہیں جبکہ پاکستان میں تعلیم پر خود کش حملہ کرتے ہوئے بچت کے نام پر اسکول بند کر دئیے جاتے ہیں۔

پاکستان میں مہنگائی کی سب سے بڑی وجہ توانائی کے شعبے میں بے تحاشا اضافہ ہے۔ بجلی کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور اس میں مختلف ٹیکسز اور لیویز نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ بجلی کے ایک بل میں ٹیکسوں کی تفصیلات ملاحظہ فرمائیں ۔1۔ جنرل سیلز ٹیکس (GST)۔2۔ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ ۔3۔ الیکٹرسٹی ڈیوٹی۔4۔ ٹی وی فیس۔5۔نیلم جہلم سرچارج۔6۔ فنانسنگ کاسٹ سرچارج ۔7۔کوارٹرلی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ ۔8۔فکسڈ چارجز۔9۔انکم ٹیکس / ودہولڈنگ ٹیکس۔10۔ لیٹ پیمنٹ سرچارج اور دیگر ناموں سے وصول کیے جانے والے ٹیکسز نے بجلی کے بل کو ایک خوفناک خواب بنا دیا ہے۔ ایک متوسط طبقے کا فرد جو بمشکل اپنے گھر کا خرچ چلاتا ہے، اب بجلی کا بل دیکھ کر پریشان ہو جاتا ہے۔

تیل کی قیمتوں میں بھی گزشتہ تین ماہ کے دوران مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہر پندرہ دن بعد ہونے والا اضافہ عوام کے لیے ایک نئی آزمائش بن چکا ہے۔ جب تیل مہنگا ہوتا ہے تو اس کا اثر صرف گاڑی چلانے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اشیائے خوردونوش، ٹرانسپورٹ اور ہر شعبے پر پڑتا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے نے کرایوں کو آسمان تک پہنچا دیا ہے۔ گیس کی قیمتوں میں اضافہ بھی عوام کے لیے ایک اور بڑا دھچکا ہے۔ گھریلو صارفین کے لیے گیس کے بل ناقابل برداشت ہو چکے ہیں جبکہ سردیوں میں گیس کی عدم دستیابی نے لوگوں کو متبادل ذرائع استعمال کرنے پر مجبور کیا، جو مزید مہنگے ثابت ہوئے۔ صنعتوں کے لیے گیس کی قیمتوں میں اضافے نے پیداواری لاگت بڑھا دی ہے، جس کے نتیجے میں اشیاء کی قیمتیں مزید بڑھ گئی ہیں۔ اس طرح مہنگائی کا ایک ایسا چکر شروع ہو چکا ہے جو رکنے کا نام نہیں لے رہا۔

مہنگائی اور بے روزگاری کا براہ راست تعلق جرائم کے اضافے سے بھی ہے۔ حالیہ مہینوں میں ڈکیتیوں، چوریوں اور دیگر جرائم میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ لوگ اپنے گھروں میں بھی محفوظ محسوس نہیں کرتے۔ اس صورتحال نے معاشرتی امن کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔

ان تمام مسائل کے باوجود اگر ہم حکومتی طرز عمل کا جائزہ لیں تو ایک عجیب تضاد نظر آتا ہے۔ ایک طرف عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں تو دوسری طرف حکومتی اخراجات اور اللے تللے کم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔ وزراء کے پروٹوکول، غیر ضروری دورے، اور سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ حکومت کی ترجیحات میں عوامی ریلیف کہیں نظر نہیں آتا۔ بجائے اس کے کہ عوام کو سہولت دی جائے، نئے ٹیکسز اور لیویز لگا کر مزید بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ طرز حکمرانی نہ صرف عوامی اعتماد کو مجروح کر رہا ہے بلکہ ملک کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگا رہا ہے۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بدحالی نے عوام کو مایوسی کے اندھیروں میں دھکیل دیا ہے۔لیکن حکمران،عوام کے ساتھ کھڑے نظر نہیں رہے۔حکمرانوں اور عوام کے طرز زندگی میں بڑھتی خلیج، اشرافیہ کے ساتھ نفرت میں اضافہ کر رہی ہے لیکن حکومت ان حقائق سے آنکھیں چرا رہی ہے۔یوں لگ رہا ہے یہ معاشی بحران ایک بڑے سماجی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے جس کے نتائج نہایت خطرناک ہوں گے۔

تازہ ترین