جرمنی اور جاپان اپنی دفاعی حکمتِ عملی میں ایسی بڑی تبدیلیاں کر رہے ہیں جو دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم ہونے والی محدود دفاعی پالیسیوں سے واضح انحراف ظاہر کرتی ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق جرمنی نے اپنی فوجی صلاحیتوں کو یورپ میں سب سے مضبوط بنانے کا ہدف مقرر کیا ہے جس کے لیے 2039ء تک جامع منصوبہ بنایا گیا ہے، حکومت نے دفاعی اخراجات کو قانون کا حصہ بنا دیا ہے تاکہ اس میں کسی سیاسی تبدیلی سے رکاوٹ نہ آئے۔
اس کے ساتھ ساتھ جرمنی جدید جنگی ٹیکنالوجی، تیز ردِعمل اور مؤثر حکمتِ عملی پر توجہ دے رہا ہے۔
دوسری جانب جاپان نے بھی اپنی دہائیوں پرانی دفاعی حدود میں نمایاں تبدیلی کرتے ہوئے مہلک ہتھیاروں کی برآمد پر پابندی میں نرمی کر دی ہے۔
جاپان نے دفاعی بجٹ میں اضافہ کیا ہے اور اب وہ صرف دفاع تک محدود رہنے کے بجائے جوابی حملے کی صلاحیت بھی حاصل کر رہا ہے، یہ تبدیلی شمالی کوریا اور چین سے بڑھتے ہوئے خطرات کے تناظر میں کی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کی یہ پالیسی تبدیلیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ عالمی سطح پر سیکیورٹی کا پرانا نظام تبدیل ہو رہا ہے، امریکا کی قیادت میں قائم اتحادی نظام پر انحصار کم ہو رہا ہے اور صنعتی طور پر ترقی یافتہ ممالک زیادہ خود انحصاری اختیار کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ جرمنی اور جاپان کی یہ پیش رفت عالمی طاقت کے توازن میں تبدیلی کی علامت ہے جس کے نتیجے میں دنیا ایک سے زیادہ طاقتور ملکی دفاعی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔