• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جاپان کی دفاعی پالیسی میں تاریخی تبدیلی: مہلک ہتھیاروں کی برآمد پر پابندی ختم

جاپانی وزیرِاعظم سانائے تاکائچی---فائل فوٹو
جاپانی وزیرِاعظم سانائے تاکائچی---فائل فوٹو

جاپان نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد اپنائی گئی امن پسند پالیسی میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے مہلک ہتھیاروں کی برآمد پر عائد پابندی ختم کر دی، اس فیصلے کے بعد جاپان اب جنگی طیارے، میزائل اور جنگی بحری جہاز دیگر ممالک کو فروخت کر سکے گا۔

عرب میڈیا کے مطابق جاپانی وزیرِاعظم سانائے تاکائچی کی کابینہ نے اعلان کیا ہے کہ اب دفاعی ساز و سامان کی منتقلی اصولی طور پر ممکن ہو گی تاہم یہ شرط رکھی گئی ہے کہ خریدار ممالک ان ہتھیاروں کا استعمال اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق کریں گے۔

جاپانی میڈیا کے مطابق اس پالیسی کے بعد کم از کم 17 ممالک جاپانی ہتھیار خریدنے کے اہل ہوں گے اور مستقبل میں یہ فہرست مزید بڑھ سکتی ہے۔

پرانے قوانین کے تحت صرف غیر مہلک فوجی سامان جیسے نگرانی اور بارودی سرنگوں کی صفائی کا سامان برآمد کیا جا سکتا تھا تاہم اب ان پابندیوں میں بڑی نرمی کر دی گئی ہے۔

نئی پالیسی کے باوجود جاپان نے واضح کیا ہے کہ جاری جنگوں میں شامل ممالک کو ہتھیاروں کی فروخت عام طور پر نہیں کی جائے گی تاہم قومی سلامتی کے تقاضوں کے تحت خصوصی حالات میں استثنیٰ دیا جا سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، فلپائن اور انڈونیشیا جیسے ممالک جاپانی ہتھیار خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، جاپان اور آسٹریلیا پہلے ہی ایک بڑے دفاعی معاہدے کے تحت اربوں ڈالرز کے جنگی جہازوں کی تیاری پر اتفاق کر چکے ہیں۔

دوسری جانب جاپانی وزیرِاعظم تاکائچی کی جانب سے ٹوکیو کے ایک متنازع جنگی یادگار مقام پر مذہبی نوعیت کا نذرانہ بھیجے جانے کی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں جس پر چین اور جنوبی کوریا جیسے ممالک میں حساسیت پائی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ جاپان نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد اپنے آئین میں جنگ سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا تاہم حالیہ برسوں میں بڑھتے ہوئے علاقائی خطرات کے باعث جاپان اپنی دفاعی حکمتِ عملی میں مسلسل تبدیلیاں کر رہا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید