شمالی لندن کے علاقے بارنیٹ میں یہودی کمیونٹی کے دو افراد کو چاقو مار کر زخمی کرنے والے شخص کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ صبح تقریباً سوا 11 بجے، ہائی فیلڈ ایونیو میں لوگوں کو چاقو مارے جانے کی اطلاعات کے بعد پولیس کو طلب کیا گیا تھا۔
مقامی پولیس اہلکار اور مسلح افسران، لندن ایمبولینس سروس کے ساتھ جائے حادثہ پر پہنچے، ملزم نے پولیس افسران پر بھی چاقو سے حملہ کرنے کی کوشش کی، جس کے بعد اسے ٹیزر کے ذریعے قابو میں کر کے گرفتار کر لیا گیا۔
چاقو کے وار سے زخمی ایک شخص کی عمر 70 سال سے زائد اور دوسرے کی عمر 30 سال سے زائد ہے، چاقو کے وار سے زخمی افراد کو علاج کیلئے اسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں دونوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی ہے، پولیس نے 45 سالہ ایک شخص کو اقدامِ قتل کے شبہ میں گرفتار کیا جو اب اس کی قومیت اور پس منظر معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
کاؤنٹر ٹیررازم پولیسنگ کے ماہر افسران اس حملے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور میٹروپولیٹن پولیس کے ساتھ مل کر تمام حالات اور دہشت گردی سے ممکنہ تعلقات کا جائزہ لے رہے ہیں، کاؤنٹر ٹیررازم پولیسنگ کے سربراہ لارنس ٹیلر کا کہنا ہے، اگرچہ تحقیقات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں لیکن ہم تیزی سے یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آخر ہوا کیا تھا؟
ڈیٹیکٹو چیف سپرنٹنڈنٹ لیوک ولیمز، جو اس علاقے میں پولیسنگ کی قیادت کرتے ہیں، نے کہا کہ اس ہولناک حملے کے متاثرین کے ساتھ ہماری ہمدردیاں ہیں، ہم ان افسران کے شکر گزار ہیں کہ انھوں نے مزید نقصان سے قبل فوری طور پر ٹیزر استعمال کر کے مشتبہ شخص کو گرفتار کیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم جانتے ہیں کہ اس علاقے میں حالیہ متعدد واقعات کے باعث یہ واقعہ لوگوں میں شدید پریشانی اور تشویش پیدا کرے گا۔