ان دنوں بشمول پاکستان پوری دنیا کے میڈیا میں ایک ہی ایشو چھایا ہوا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد ڈائیلاگ کا کیا ہونے جا رہا ہے؟۔ یہ مذاکرات ہوں گے؟ نہیں ہوں گے؟ اگر ہوں گے تو کن امور پر ایکا اور کن پر تنازع ہوگا؟ ڈائیلاگ کے بغیر کیا سیز فائر غیر معینہ مدت تک چل پائےگا؟ کہیں بڑی جنگ کا احتمال تو نہیں؟ کون ہیں جو بڑی جنگ کے متمنی ہیں؟ اور کون معاملے کو یہیں کہیں رفع دفع کروانے کیلئے سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں؟ پاکستانی قیادت کی مخلصانہ کوششوں پر بھی چہ میگوئیاں کرنیوالے موجود ہیں ۔ ان سوالات و اعتراضات کا جواب ضروری ہے مگر پہلے اس امر کا جائزہ کہ ایران امریکا موجودہ شدید کشیدگی میں وہ کون سے عوامل ہیں جن پر اتفاق رائے ہو سکتا ہے؟ اور کون سے ایشوز ہیں جودونوں کیلئے ریڈ لائنز ہیں؟ یہ حقیقت تو سبھی پر واضح ہے کہ اس وقت پاکستان کی وساطت سے اسلام آباد میں وقوع پذیر ہونے والے ڈائیلاگ کے سیکنڈ راؤنڈ سے امریکی نہیں، ایرانی گریزپا دکھائی دیئے، ایرانی فارن منسٹر نے اسلام آباد پہنچ کر پاکستانی قیادت پر یہ واضح کر دیا کہ وہ امریکا سے براہ راست مکالمہ نہیں چاہتے،جسکی مختلف توجیہات کی جا رہی ہیں۔ شنید ہےکہ ایرانی قیادت میں اختلافات پیدا ہو چکے ہیں منتخب ایرانی سیاسی قیادت مہماتی جنگجوئی سے شدید نالاں ہے اسے اپنےعوام کے مسائل و مصائب کا پوری طرح ادراک ہے اس لیے اسکی ہر ممکن کوشش ہے کہ کسی طرح جنگی صورت حال بدلے، حالات پر امن ہوں ،نہ صرف ایران کے منجمد بھاری اثاثے ریلیز ہوں بلکہ ایران پر جو شدید معاشی بندشیں ہیں ان سے بھی ایرانی عوام کو مکتی ملے۔ مگر دوسری طرف انقلابی قیادت کے سامنے کسی کی نہیں چل پا رہی۔ اس وقت اگرچہ اس افسوسناک جنگ کی اصلی چوٹیں اسی طبقے کو لگی ہیں لیکن عوامی ہمدردی بھی یہی لوگ سمیٹ رہے ہیں جن کی پاپولریٹی پھر تازہ دم ہو چکی ہے۔ لیکن ساتھ ہی مسئلہ یہ ہے کہ اس طاقت کی اصل نمائندگی اس وقت کن ہاتھوں میں ہے؟ اگرچہ مذہبی ورثے کی طرح چناو کے بعد کی طاقت تو سید علی خامنہ ای کے فرزند مجتبیٰ خامنہ ای کے حوالے کی جا چکی ہے لیکن وہ خود اس وقت کہاں ہیں؟ان کی ہیلتھ کیسی ہے؟، اس حوالے سے قطعی متضاد اطلاعات ہیں۔ ایک طرف یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ زخمی ہیں،انکے سر اور چہرے پر چوٹوں کی بھی اطلاعات ہیں۔ دوسری طرف بتایا جا رہا ہے کہ ان کا علاج تو ہو رہا ہے لیکن ان سے روابط پر بندش ، سیکورٹی کی وجہ سے وہ الیکٹرونکس سہولیات کا قطعی استعمال نہیں کر پا رہے۔ جو بھی احکامات جاری کرتے ہیں وہ اپنے ہاتھ کی لکھائی کے ذریعے بھیجتے ہیں۔
ان کے نام پر اسلامی پاسداران انقلاب کی قیادت ہی فیصلہ کن اتھارٹی بنی ہوئی ہے۔ اس طرح ختم نبوت اتھارٹی بھی اس نوع کی طاقت استعمال کر رہی ہے۔ دوسرے الفاظ میں پاور کا مرکز آج بھی ولایتِ فقیہ ہے۔ اس صورتحال میں سیاسی قیادت آج بھی مذہبی قیادت کے تابع ہے ۔ پریزیڈنٹ مسعود پزشکیاں اور فارن منسٹر عباس عراقچی کی اپروچ سے تو سبھی کو آگاہی ہے۔ مجلس کے اسپیکر محمد باقر قالیباف جو ماقبل پاسداران انقلاب کی قیادت پر بھی فائز رہ چکے ہیںاسلام آباد مذاکرات میں نرمی دکھانے پر اندرون خانہ ان پر خاصی گرمی نکالی گئی۔یہ معاملہ ایران کے ساتھ ہی نہیں، امریکا میں بھی ٹرمپ انتظامیہ بدترین دباؤ کا شکار ہے،پاپولیریٹی گراوٹ کی نچلی سطح تک پہنچ چکی ہے لاکھوں عوام مخالفانہ ریلیوں میں نکل چکے ، سینیٹ میں ریپبلکن پہلے ہی معمولی اکثریت کے ساتھ کام چلا رہے ہیں مڈ ٹرم الیکشن کی مہم شروع ہو چکی ہے عوامی موڈ سب کو دکھائی دے رہا ہے بہت مشکلات ہیں صدارتی اختیارات کے ساٹھ دن پورے ہونے کو ہیں، کانگریس سے منظوری میں کئی رکاوٹیں درپیش ہیں، یوں ٹرمپ کے لیے بھی کوئی چارہ نہیں کہ کسی بھی صورت مذاکرات کرتے ہوئے امن معاہدہ ہو جائے، آبنائے ہر مز کی بندش اور ٹول ٹیکس کے ذریعے ایرانی رجیم کو جو برتری حاصل تھی ٹرمپ ناکہ بندی کرتے ہوئے اسے پنکچر کر چکے ہیں دوسری طرف اس نوع کی اطلاعات ہیں کہ وائٹ ہاؤس میں ایک اعلیٰ سطحی فنکشن کے دوران کسی طرح ایک شوٹر گھس آیا لیکن خوش قسمتی سے ٹرمپ اور دیگر عہدیداران محفوظ رہے۔ہمیشہ تمنا رہ جاتی ہے کہ اگلے متنازع امور کو زیر بحث لایا جائے مگر تمہید کی طولانی پیچھے ہی روک دیتی ہے درویش کی طرح یہاں ہر کوئی مجبور ہے، اسرائیل کو اپنی بقاء کی مجبوری درپیش ہے۔ ٹرمپ کو عوامی دباؤ کی مجبوری ہے، ایرانیوں کو اپنی ولایت فقیہ کی مجبوری ہے، پاکستان کی اپنی مجبوری ہے عوامی موڈ کو بھی دیکھنا ہے اور مملکت کے دائمی مفادات سے بھی کنارہ کشی نہیں کی جا سکتی ایرانیوں سے محبت بھی ہے سعودیوں سے تاریخ ساز معاہدے کی بندش و پاسداری کا بھی خیال ہے، رہ گئی متنازع امور کی بحث یہ آئندہ۔