وفاقی وزیر توانائی اویس احمد لغاری کا کہنا ہے کہ اب پن بجلی سے بجلی کی پیداوار 6 ہزار میگا واٹ تک پہنچ چکی ہے، پن بجلی کی پیداوار اس سے پہلے ایک ہزار میگا واٹ تک ہوا کرتی تھی۔
اویس احمد لغاری نے لوڈشیڈنگ سے متعلق اپنے بیان میں کہا کہ کچھ روز سے عوام کو لوڈ مینجمنٹ کا سامنا کرنا پڑا، گزشتہ روز ہمیں ایل این جی گیس موصول ہو چکی ہے، گیس موصول ہوتے ہی اب بجلی کی لوڈ منیجمنٹ کا خاتمہ ہو چکا ہے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ آج سے 13 سے 14 دن پہلے عوام کو لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے ہمیں فرنس اور ایندھن سے چلنے والے پلانٹس کو بھی چلانا پڑا، دعا ہے کہ ٹرانسمیشن لائنز ہر قسم کی خرابی سے محفوظ رہیں، موقع پر ہمیں مہنگی گیس خریدنی پڑی کیونکہ قطری گیس نہیں آرہی تھی۔
اُنہوں نے کہا کہ بجلی کی پیداوار 46 ہزار میگاواٹ نہیں بلکہ 32 ہزار میگاواٹ ہے۔
اویس احمد لغاری نے بتایا کہ سال کے مختلف دورانیوں میں بجلی کی پیداواری صلاحیت میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے، لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے ہمیں مجبوراََ فرنس اور ایندھن سے چلنے والے پلانٹس کو بھی چلانا پڑا۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ ہماری پوری کوشش ہوگی کہ صارفین کو مہنگی بجلی سے محفوظ رکھا جائے، بروقت اقدامات کی وجہ سے عوام کو آئندہ لوڈشیڈنگ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ اگر ہم ڈیزل یا فرنس آئل سے یہ بجلی پیدا کرتے اور لوڈشیڈنگ کی تمام ضروریات کو ختم کرتے ہیں تو یہ بجلی بہت مہنگی پڑتی، مہنگی بجلی کی وجہ سے صارفین پر بوجھ پڑ سکتا تھا۔
اُنہوں نے یہ بھی بتایا کہ ڈیمز کے پانی کو ریلیز کرنا ارسا کی ضرورت ہے اور یہ صوبوں کی ضروریات پر منحصر ہے۔