پاکستان اس وقت ایک نازک معاشی موڑ پر کھڑا ہے، جہاں وقتی استحکام کے نام پر اختیار کی گئی پالیسیاں طویل المدت قومی مفادات، صنعتی ترقی اور سماجی فلاح کیلئے سنگین خطرات پیدا کر چکی ہیں۔ توانائی، ٹیکس اور مالیاتی نظم و ضبط کے موجودہ ڈھانچے نے نہ صرف پیداواری صلاحیت کو کمزور کیا ہے بلکہ ملک کو تیزی سے غیر صنعتی دور کی طرف دھکیل دیا ہے۔ ایسے حالات میں یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ پاکستان اپنی معاشی سمت پر ازسرِنو غور کرے۔
واشنگٹن، امریکا میں واقع بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کیساتھ پاکستان کا طویل المدت تعلق وقتی طور پر دیوالیہ پن (Bankruptcy) سے بچاؤ کا باعث تو بنا ہے، مگرمالیاتی استحکام و نظم وضبط اور نام نہاد اصلاحات کے نام پر پاکستان پر ایسی پالیسیوں کا مجموعہ مسلط کیا گیا، جسکے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا، نہایت غیر منصفانہ ٹیکس نظام نافذ کیا گیا، صنعتی پیداوار کا گلا گھونٹ دیا گیا، غربت میں اضافہ ہوا اور معیشت تیزی سے غیر صنعتی دورکی طرف دھکیل دی گئی۔پاکستان کی سماجی و معاشی ترقی کی حکمتِ عملی کا تقاضا یہ تھا کہ تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کو مضبوط کیا جاتا تاکہ ملک کم قدر والی قدرتی وسائل پر مبنی معیشت سے نکل کر زیادہ قدر رکھنے والی، ٹیکنالوجی پر مبنی علم کی معیشت کی طرف بڑھتا۔ لیکن اس کے بالکل برعکس ہوا، جو اب ایک سنگین خطرے کی صورت اختیار کر چکا ہے۔پاکستان 1958ءسے اب تک 23 مرتبہ IMF کے پروگراموں میں داخل ہو چکا ہے جو تقریباً دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ ہیں اور حالیہ پروگرام نہایت سخت نوعیت کے ہیں۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق، IMF پروگراموں کے دوران پاکستان کی صنعتی ترقی غیر IMF ادوار کے مقابلے میں اوسطاً 27.2 فیصد پوائنٹس کم رہی، جبکہ مجموعی قومی پیداوارکی شرحِ نمو 1.44 فیصد پوائنٹس کم رہی۔
گزشتہ پانچ برسوں میں پاکستان کا صنعتی منظر نامہ شدید کھنچاؤ کا شکار ہوا ہے۔ سینکڑوں مقامی پیداواری صنعتیں توانائی کی مہنگی لاگت، بھاری ٹیکسوں اور طویل المدت غیر یقینی پالیسی کے باعث بند ہو چکی ہیں۔ کاروباری رہنماؤں کے مطابق، بڑے صنعتی علاقوں میں 50فیصد سے زائد فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں، کیونکہ صنعتیں اسمگل شدہ اور کم قیمت درآمدات کا مقابلہ کرنے اور دوہری ٹیکس پالیسی برداشت کرنے سے قاصر ہیں۔علاقائی اور صوبائی سطح کے اعداد و شمار بھی اسی رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ پاکستان کی روایتی برآمدی صنعت، یعنی کپڑا سازی کا شعبہ، خاص طور پر تباہی سے دوچار ہوا ہے۔ صنعتی ذرائع کے مطابق کم از کم 144کپڑاساز صنعتیں ملک بھر میں بند ہو چکی ہیں، جبکہ کپڑوں کی صنعتوںمیں بڑے پیمانے پر بندش کے باعث ہزاروں ملازمتیں ختم ہو گئی ہیں اور برآمدی مسابقت میں شدید کمی آئی ہے۔ پاکستان سے بڑی غیر ملکی کمپنیوں کا انخلا بگڑتے ہوئے سرمایہ کاری ماحول کی ایک نمایاں علامت ہے۔
ملکی ادارہ برائے معاشی ترقی کی تحقیق کے مطابق، 2023ءمیں صرف ایک سال کے دوران بنیادی بجلی نرخ میں دو مرتبہ اضافہ کیا گیا، جسکے نتیجے میں مجموعی طور پر تقریباً 76 فیصد اضافہ ہوا۔ اسکی ایک اور تحقیق کے مطابق، 2022 سے وسط 2023 تک صنعتی بجلی کے نرخ تقریباً 20 روپے فی یونٹ سے بڑھ کر 39 سے 45 روپے فی یونٹ ہو گئے، جبکہ ایندھن کی قیمت میں کی جانے والی تعدیل اور مختلف ٹیکسوں کے باعث مجموعی لاگت 28 روپے سے بڑھ کر تقریباً 50 روپے فی یونٹ تک پہنچ گئی یعنی محض بارہ ماہ میں تقریباً 78 فیصد اضافہ۔پاکستان میں صنعتی بجلی کی اوسط قیمت بڑھ کر تقریباً 0.15 ڈالر فی کلو واٹ گھنٹہ ہو گئی، جو ویتنام کے مقابلے میں تقریباً دگنی اور بھارت و بنگلہ دیش سے کہیں زیادہ ہے۔ توانائی پر انحصار کرنے والے برآمد کنندگان ، جو پہلے ہی زرِ مبادلہ کی غیر یقینی ملکی معاشی صورتحال اور ریکارڈ بلند شرحِ سود کے باعث گردشی سرمایے کی شدید قلت کا شکار ہو گئے، جسکے نتیجے میں وہ عالمی منڈیوں سے باہر ہو گئے۔اس کانتیجہ بجلی کے نظام کی طلب میں کمی اور تیز رفتار غیر صنعتی عمل کی صورت میں نکلا۔ کراچی، فیصل آباد اور سیالکوٹ میں متعدد فیکٹریوں نے شفٹس کم کر دیں یا مکمل طور پر بند ہو گئیں، جبکہ کئی صنعتیں قومی گرڈ چھوڑنے پر مجبور ہو گئیں۔ فارورڈ اسپورٹس، کوکاکولا اور ہنڈائی جیسے بڑے اداروں نے بقا کیلئے شمسی توانائی میں بھاری سرمایہ کاری کی۔ اگرچہ اس سے انفرادی ادارے تو بچ گئے، مگر مجموعی معیشت پر اس کے منفی اثرات پڑےگرڈ کی طلب کم ہوئی، گردشی قرضہ برقرار رہا کیونکہ آئی پی پیز کو مقررہ ادائیگیاں اب بھی کرنا پڑتی ہیں، اور باقی صارفین پر بوجھ مزید بڑھ گیا۔بار بار نرخ بڑھانے کے باوجود گردشی قرضہ تقریباً 2.4 کھرب روپے پر ہی منڈلا رہا ہے۔
IMF کی پالیسی منطق یہ فرض کرتی ہے کہ بلند ٹیرف سے نظام دیوالیہ پن سے نکل آئیگا، مگر پاکستان کا تجربہ اسکے برعکس ہے: زیادہ نرخ طلب کو ختم کرتے ہیں، صنعت کو تباہ کرتے ہیں اور لوڈشیڈنگ کو بڑھاتے ہیں، جس سے وہی آمدنی کی بنیاد کمزور ہو جاتی ہے جو نظام کے مقررہ اخراجات پورے کرنے کیلئے ضروری ہوتی ہے یوٹیلیٹی اکنامکس ( میں اسے ’’ڈیتھ اسپائرل‘‘ (Death Spiral) کہا جاتا ہے۔
IMF کی شرائط کے تحت نافذ کی گئی جارحانہ ٹیکس پالیسی نے مزید نقصان پہنچایا ہے۔ IMF نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ قلیل مدت میں ٹیکس -جی ڈی پی شرح میں تقریباً تین فیصد پوائنٹس اضافہ کیا جائے۔ آمدنی کے اہداف پورے کرنے کیلئے حکومت نے ٹیکس نیٹ وسیع کرنےکے بجائے عمومی ٹیکسوں میں اضافہ کیا۔
اب سمت میں فوری تبدیلی ناگزیر ہے۔ ہمیں ایک واضح اور تیز رفتار سماجی و معاشی ترقی کی حکمت عملی درکار ہے ۔ صنعتی ترقی کو فروغ دینے کیلئے حکومت صنعتی زونز میں 1000 میگاواٹ کے شمسی توانائی کے منصوبے قائم کر کے بجلی 10روپے فی یونٹ فراہم کر سکتی ہے۔اسی طرح منتخب مصنوعات کی تیاری اور برآمد کیلئے 15 سالہ ٹیکس چھوٹ دی جا سکتی ہے۔ یہ سب کچھ تبھی ممکن ہے جب تعلیم، سائنس اور انجینئرنگ میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی جائے اور ایک ایسا جدت پر مبنی ماحولیاتی نظام تشکیل دیا جائے جہاں نئی دریافتوںکو تیزی سے تجارتی مصنوعات اور عمل میں ڈھالا جا سکے ۔