• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مشرقِ وسطیٰ میں ایران امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کو اگر صرف جنگ سمجھا جائے تو یہ غلط فہمی ہوگی بظاہر میزائل چل رہے ہیں، دھمکیاں دی جا رہی ہیں، آبنائے ہرمز پر دباؤ ہے اور عالمی میڈیا اسے ایک ممکنہ بڑی جنگ کا پیش خیمہ قرار دے رہا ہےلیکن اگر اس پورے منظر کو ذرا گہرائی سے دیکھا جائے تو ایک بالکل مختلف تصویر سامنے آتی ہے یہ جنگ نہیں بلکہ ایک ایسا کھیل ہے جسکے قواعد کہیں اور لکھے جا رہے ہیں۔ پہلا سوال یہی بنتا ہے کہ اگر یہ واقعی جنگ ہوتی تو کیا اب تک فیصلہ نہ ہو چکا ہوتا امریکہ جیسی طاقت اسرائیل جیسی عسکری صلاحیت اور ایران جیسی مزاحمتی ریاست اگر مکمل جنگ لڑتے تو نتیجہ سامنے آ چکا ہوتا مگر ایسا نہیں ہو رہا اسکی وجہ یہ نہیں کہ کوئی جیت نہیں سکتا بلکہ یہ ہے کہ شاید کوئی مکمل جیت چاہتا ہی نہیںیہی وہ نکتہ ہے جو اس پوری کہانی کو بدل دیتا ہےیہ جنگ جیتنے کیلئے نہیں چلانے کیلئے لڑی جا رہی ہے۔ایران کے اندر سے آنیوالی آوازیں اسے مزاحمتی کامیابی قرار دیتی ہیں انکے مطابق امریکہ کو مذاکرات کی میز پر لانا خود ایک فتح ہے دوسری طرف امریکہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ ایران کو اس حد تک دباؤ میں لے آیاہے کہ وہ بات چیت پر مجبور ہو گیا ہے۔ دونوں طرف بیانیہ جیت کا ہے مگر حقیقت میں دونوں ایک ایسی پوزیشن میں ہیں جہاں وہ مکمل شکست سے بھی بچنا چاہتے ہیں اور مکمل جنگ سے بھی ۔یہی وہ مقام ہے جہاں یہ تنازع ایک نئی شکل اختیار کرتا ہے اور وہ ہے ثالثی کا میدان، پاکستان ترکیہ اور عمان جیسے ممالک اچانک اس کھیل کے اہم کردار بن جاتے ہیں سوال یہ ہے کہ کیا یہ ثالثی واقعی غیر جانبدار ہے یا یہ بھی اسی کھیل کا حصہ ہےیہاں ایک ایسا زاویہ سامنے آتا ہے جس پر کم بات ہوئی ہےشاید ثالثی خود ایک ہتھیار بن چکی ہےامریکہ براہ راست جنگ کے بجائے سفارتکاری کے ذریعے وہی نتائج حاصل کرنا چاہتا ہے جبکہ ایران اس عمل کو اپنے لیے وقت خریدنے اور اپنی پوزیشن مضبوط کرنےکیلئے استعمال کر رہا ہے۔ یہ ایک ایسا کھیل ہے جہاں میزائلوں سے زیادہ وقت اہم ہوتا ہے جو جتنا وقت خرید لے وہ اتنا ہی مضبوط ہو جاتا ہےاسی دوران ایک اور خاموش محاذ بھی پوری شدت سے چل رہا ہے اور وہ ہے توانائی کی سیاست، تیل کی قیمتیں سپلائی لائنز اور اوپیک کے اندرونی اختلافات یہ سب اس جنگ کا حصہ ہیں مگرواضح نظر نہیں آتے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان پیداوار کے حوالے سے کشیدگی اس بات کا اشارہ ہے کہ خلیجی اتحاد اب پہلے جیسا نہیں رہا اگر یہ اتحاد کمزور ہوتا ہے تو اس کا اثر صرف تیل کی قیمتوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے خطے کے طاقت کے توازن پر بھی پڑئیگا یہی وہ جگہ ہے جہاں ڈونلڈ ٹرمپ جیسے رہنما اس صورتحال کو اپنی کامیابی کے طور پر پیش کرتے ہیں اوپیک کو کمزور کرنا تیل کی سیاست کو اپنے حق میں موڑنا اور مخالفین کو ایک دوسرے سے دور کرنا یہ سب اس بڑے کھیل کا حصہ ہے جو میدان جنگ سے باہر کھیلا جا رہا ہےاگر اس پورے منظرنامے کو ایک قدم اور آگے لے جائیں تو ایک اور چونکانے والا سوال سامنے آتا ہےاگر کل اچانک مکمل امن ہو جائے تو سب سے زیادہ نقصان کس کو ہوگا،یہ وہ سوال ہے جو اس پوری کہانی کو الٹ دیتا ہےکیونکہ حقیقت یہ ہے کہ مکمل امن ہر کسی کے مفاد میں نہیں اسلحہ ساز صنعت، توانائی کی منڈیاں اور بڑی طاقتوں کا عالمی اثر و رسوخ یہ سب ایک خاص سطح کی کشیدگی سے فائدہ اٹھاتے ہیں اگر کشیدگی ختم ہو جائے تو اربوں ڈالر کی منڈیاں سست پڑ جائیں گی، اسلحہ کی طلب کم ہو جائے گی اور وہ سیاسی جواز ختم ہو جائیگاجسکے تحت دنیا کے مختلف خطوں میں موجودگی برقرار رکھی جاتی ہےیہاں ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہےکہ امن اگر آ گیا تو سب سے زیادہ نقصان انہی کو ہوگا جو آج سب سے زیادہ امن کی بات کر رہے ہیںیہی وہ نکتہ ہے جو اس جنگ کو سب سے زیادہ خطرناک بناتا ہے کیونکہ اب یہ صرف ریاستوں کے درمیان نہیں رہی بلکہ مفادات کے نظام کے اندر داخل ہو چکی ہےایران اس کھیل میں مزاحمت کے ذریعے اپنی جگہ بنا رہا ہے وہ مکمل جنگ نہیں چاہتا مگر دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے امریکہ بھی مکمل تصادم سے گریزاںہے اسرائیل خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے تاکہ اپنی پالیسیوں کو جواز دے سکے اور باقی دنیا اس کشیدگی کو دیکھ کر اپنے اپنے مفادات کے مطابق پوزیشن لے رہی ہےیعنی ہر فریق اس کھیل میں شامل ہے مگر کوئی بھی اسے ختم نہیں کرنا چاہتا۔

یہاں ایک اور اہم پہلو سامنے آتاہے اور وہ ہے بیانیے کی طاقت آج کی جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ کہانیوں سے لڑی جاتی ہے کون جیت رہا ہے کون مظلوم ہے اور کون جارح ، یہ سب بیانیے طے کرتے ہیں اور یہی بیانیے عالمی رائے عامہ کو شکل دیتے ہیںآخر میں سوال وہی رہ جاتا ہے کہ یہ سب کہاں جا کر رکے گاشاید کہیں نہیںکیونکہ یہ جنگ ختم ہونے کیلئے نہیں چلنے کیلئےبنائی گئی ہے یہ ایک ایسا کھیل ہے جس میں ہر فریق اپنی چال چلتا ہے مگر کوئی آخری چال نہیں چلتا،ہر بیان سوچ سمجھ کر دیا جاتا ہے اور ہر تصادم ایک خاص حد تک محدود رکھا جاتا ہےیہ وہ جنگ ہے جس میں گولیاں اصلی ہیں مگر قواعد پوشیدہ ہیںیہ وہ کھیل ہے جس میں میدان میں دھواں ہے مگر فیصلے بند کمروں میں ہوتے ہیںاور سب سے خطرناک سچ یہ ہے کہ اس کھیل میں جیتنے والا کوئی نہیں ہوتا مگر ہارنے والے ہمیشہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو اس کھیل کا حصہ ہی نہیں ہوتے۔

تازہ ترین