اقتدار جاوید کل میرے دفتر آئے اور اپنی دو شعری تخلیقات ”میں سانس توڑتا ہوا“ اور ”ایک اور دنیا“ میز پر چھوڑ گئے۔آج تک میں انہیں ایک عالم اور غزل گو کے طور پر ہی لیتا اور سمجھتا تھا اب مگر میری مشکل دوگونہ ہو گئی ہے۔میرے لیے اب یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ وہ غزل کے شاعر ہیں یا وہ میدانِ نظم کے شاہ سوار ۔میری حیرت اور سوا اس وقت ہوئی جب معلوم ہوا کہ ان دو نظمیہ مجموعوں میں پہلی دو ہزار دس اور دوسری دو ہزار چودہ میں منظر عام پر آئی تھی اور یہ کہ انکی نظموں کے دو اور مجموعے بھی ہیں اور زیورِ طباعت سے آراستہ ہو چکے ہیں۔مزید یہ کہ انکی تازہ نظموں کا مجموعہ آرام باغ ان کے کسی دوست کے پاس اشاعت کی غرض سے پڑا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ آرام باغ اسی سال شائع ہو گا۔ یوں انکی آزاد نظموں کی کل پانچ کتب ہو گئیں۔یہ دن انکی تخلیقی جولانی کے دن ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ان کی غزلوں کے تین مجموعے شائع ہو چکے ہیں اور تازہ غزلوں کی کتاب ” سخن کا باغ“ کے نام زیر ِطبع ہے۔وہ اس غزلوں کی کتاب کی نوک پلک درست کرنے میں مصروف ہیں۔یہ تو ان کی اردو کتب کا تذکرہ ہوا،اس کے علاوہ انہیں پنجابی زبان سے خصوصی لگاؤ ہے۔انکی پنجابی زبان میں بھی تین شعری تخلیقات سامنے آ چکی ہیں۔ان دنوں پنجابی زبان کے موقر ترین پرچے پنچم میں ان کا پنجابی ناول ” کمہیل“ اور پنجابی زبان کے اخباربھلیکھا میں ان کا سفر نامہ حج قسط وار شائع ہو رہا ہے۔پچھلے سال انکی دو تخلیقات شائع ہوئیں ان میں ایک” نیل نظمیں“ ہے جو جدید عربی نظم کے تراجم پر مشتمل ہے۔یہ کتاب مشہور شاعر عباس تابش نے مجلس ترقی ادب کے زیر اہتمام شائع کی ہے۔نیل نظمیں کا مقدمہ جدید عربی نظم...فکری جدلیات اور نظریاتی وحدت پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔انور سن رائے نے ان عربی شعرا کو اقتدار جاوید کا پرسنل کیپٹل قرار دیا ہے۔اقتدار جاوید کی خصوصی دلچسپی کا شعبہ ان کے والد قبلہ کی ذات ہے۔اسے اپنے والد سے عشق ہے۔ایسا فرماں بردار بیٹا کم کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔بلکہ فرماں بردار کا لفظ بھی کچھ کم ہی پڑ رہا ہے۔ان کے والد قبلہ پنجابی زبان کے معروف صوفی شاعر تھے۔ اقتدار جاوید نےپچھلے سال ہی انکی انیس بیس کتب کو ایک کلیات میں مدون کیا ہے۔یہ ’کلیات سراج قادری‘ کے نام سے ادارہ پلاک نے شائع کی ہے۔ ایک اور دنیا جو نظموں کی کتاب ہے جس کا دیباچہ ناصر عباس نیر کا تحریر کردہ ہےپڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔میں تنقید کی جناتی زبان کا قائل نہیں ہوں اور عام فہم تنقید کا عاشق ہوں۔عام فہم انداز کی تنقید میں پتہ چل جاتا ہے کہ آخر تنقید نگار کہنا کیا چاہتا ہے۔جو جناتی زبان پر مشتمل تنقید ہوتی ہے اس کا خود سر پیر نہیں ہوتا وہ کسی فن پارے کی کیا توضیح اور تفہیم کرے گی۔ناصر عباس کی یہ تحریر نظر انداز کرنے والی نہیں ہے۔ان کے دیباچے کاکچھ حصہ نذر قارئین ہے جس سے ہمارے ممدوح کی نظم کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ناصر کا کہنا ہے کہ اقتدار جاوید کی نظم اپنے خدوخال، جدید نظم کی شعریات کے اندر دریافت کرتی ہے جسکی سب سے اہم قدر اپنے تجربوں کو اپنے دستخطوں سے ظاہر کرنا ہے۔انہیں اس شعریات کی شکست و ریخت کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔اس لیے کہ جدید شعریات شاعر کو اظہار کے ان نئے نئے اسالیب دریافت کرنے کی پوری آزادی دیتی ہے جن کی ضرورت شاعر اپنے تجربے کی شدت کے زیر ِاثر محسوس کرتا ہے۔وہ بیش از بیش اس کوشش میں مصروف نظر آتے ہیں کہ خود انہی کی نظم اپنا بنیادی سیاق بنے۔وہ اپنی نظم کو منفرد شعری تجربوں کا دستخط بنانے کی سعی مشکور کرتے ہیں۔ان کی شعری تخلیقات کو خراج تحسین پیش کرنے والوں میں اس عہد کے سبھی نامور ادبا شامل ہیں۔دو سال قبل انکی غزلوں کا مجموعہ ” ہیکل“ کے نام سے شائع ہوا تھا۔ہیکل کی غزل اتنی تازہ اور دل نشین ہیں کہ زبان سے بے ساختہ سبحان اللّٰہ کے الفاظ ہونٹوں پر آ جاتے ہیں۔انکی غزل میں تازہ کاری کے علاوہ عام ڈگر سے ہٹ کر کچھ کہنے کی کوشش کی گئی ہے اور شاعر اس میں سو فیصد کامیاب بھی ہوا ہے۔ان ساری سرگرمیوں کے علاوہ وہ ایک خوبصورت کالم نگار بھی ہیں۔میرے گھر میں ایک ضیافت پر اس عہد کے بڑے کالم نگار سہیل وڑائچ نے ان کو ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا تھا کہ” وہ اقتدار جاوید کے قاری ہیں“۔ اتنی زیادہ تخلیقیت ہونے کے باوجود ناقدین نےانہیں وہ مقام نہیں دیا جس کے وہ مستحق ہیں۔اسی لیے میں انہیں کہا کرتا ہوں کہ تنقید نگاروں سے اپنے تعلقات پر نظرِ ثانی کریں۔میرا دل کرتا ہے کہ اس کی ایک نظم ضرور قارئین کی نذر کروں کیونکہ ہم غزل تو ہر ایرے غیرے سے سنتے رہتے ہیں۔یہ نظم ان کی کتاب سانس توڑتی ہوا میں شامل ہے۔نظم کا عنوان ہے دریا۔خشک کیکر کے پیڑوں نے/ لو کے تھپیڑوں نے/ دھرتی کے بے تاب سینے سے/ سرسبز و شاداب دریا کی مورت/ ابھرنے نہیں دی/ منوں مٹی کے نیچے/ بے شکل تودوں، / سیہ رنگ پودوں کے ہمراہ/ دن کاٹتا ہوں/ گزرگاہِ صد رنگ / آنکھوں میں بستی ہے/ گیلے کناروں پہ پیڑوں کے نیچے/ دوآبے کی مہکار اڑتی ہے/ میدانی دنیا کی جانب گزرگاہ مڑتی ہے/ دریا کے گیلے کناروں پہ/ تہذیب پلتی ہے/ اپلوں کے پھولوں کے اوپر/ دہکتے توے ہیں/ دہکتے توے پر/ چھنکتے ہوئے سرخ ہاتھوں کی / چمکیلی پوریں ہیں/ تہمد کے پھاٹوں میں/ ابرق سی رانوں کی / رنگت چمکتی ہے/ گہرے، سلونے سمے ہیں/ فلک کے ستارے ہیں / پیڑوں پہ پینگیں ہیں/ پینگوں کے لمبے ہلارے ہیں/ چادر میں ملفوف مدھم نشانوں میں مدہوش رہتا ہوں/ دریا ہوں/ اک سیلِ محبوس ہوں/ اور اندھے بہاؤ کے اندھے تصور میں / بہتا ہوں....