تعلیم کے عالمی منظرنامے میں Cambridge Assessment International Education ایک ایسا نام ہے جسے برسوں تک معیار، شفافیت اور عالمی قبولیت کی علامت سمجھا جاتا رہا۔ برطانیہ کی علمی روایت سے جڑا یہ امتحانی نظام محض ڈگری کے بجائے ایک منفرد فکر، ایک طرزِ تعلیم اور ایک عالمی شناخت کی حیثیت رکھتا ہے۔ نوآبادیاتی عہد کی باقیات سے جنم لینے والا یہ نظام وقت کے ساتھ ایک بین الاقوامی برانڈ میں ڈھل گیا، جس کے زیرِ نگرانی IGCSE، O Level اور A Level جیسے مراحل نے دنیا بھر کے لاکھوں طلبہ کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ پاکستان میں بھی گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اس نظام کا پھیلاؤ غیر معمولی رہا ہے، یہاں تک کہ متوسط اور اعلیٰ طبقے کے لیے یہ تعلیمی کامیابی کا مترادف بن چکا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ کیمبرج کا امتحانی نظام رٹے کے بجائے فہم، تجزیہ اور تنقیدی شعور کو فروغ دیتا ہے، اور یہی اس کی اصل کشش ہے۔ پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ سے زائد طلبہ اس نظام کے تحت امتحانات دیتے ہیں، اور سینکڑوں اسکول اس عالمی نیٹ ورک کا حصہ بن چکے ہیں۔ اگر ایک محتاط اندازہ لگایا جائے تو صرف امتحانی فیس کی مد میں پاکستانی طلبہ اور ان کے والدین لاکھوں ڈالر سالانہ اس نظام پر خرچ کرتے ہیں، جو بالآخر بیرونِ ملک منتقل ہو جاتے ہیں۔ یوں یہ نظام جہاں علم کی فراہمی کا ذریعہ ہے، وہیں ایک مضبوط معاشی سرگرمی بھی بن چکا ہے۔
مگر حالیہ دنوں میں سامنے آنیوالی خبروں نے اس چمکتے ہوئے نظام پر ایک سوالیہ نشان ثبت کر دیا ہے۔ بعض پیپرز کے لیک ہونے کی خبروں نے نہ صرف طلبہ بلکہ والدین کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ایک یا دو پیپر کیسے لیک ہوئے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایک عالمی سطح پر معتبر ادارہ بھی انہی کمزوریوں کا شکار ہو سکتا ہے جن کا ہم اپنے مقامی نظام میں شکوہ کرتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر اس بین الاقوامی معیارکی کیا حقیقت رہ جاتی ہے جس کے لیے ہم اپنی مقامی تعلیم کو کمتر سمجھتے آئے ہیں؟ مزید برآں، جب تعلیم ایک کاروبار کی شکل اختیار کر لے تو ترجیحات بھی بدلنے لگتی ہیں۔ معیار کے ساتھ ساتھ منافع بھی ایک اہم عنصر بن جاتا ہے، اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں۔
ان حالات میں ایک اور سوال، جو شاید تلخ ہے مگر ناگزیر بھی، ذہن میں ابھرتا ہے کہ کیا یہ سب محض اتفاق ہے یا اس کے پیچھے کوئی وسیع تر تناظر بھی کارفرما ہو سکتا ہے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے طلبہ کو غیر یقینی صورتحال میں رکھ کر عالمی تعلیمی مقابلے میں ان کی پوزیشن کمزور کی جا رہی ہو؟ یہ سوال ابھی قیاس کے دائرے میں ہے اور اس کا کوئی واضح ثبوت موجود نہیں، مگر ایسے واقعات یقیناً اعتماد کو مجروح کرتے ہیں اور بین الاقوامی جامعات میں داخلے کے عمل پر بھی اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
اگر خدانخواستہ یہ اعتماد متزلزل ہو جائے تو سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ پھر ہم جائیں تو کدھر جائیں؟ پاکستان کا مقامی تعلیمی نظام پہلے ہی متعدد مسائل کا شکار ہے۔ نصاب کی فرسودگی، رٹہ کلچر، امتحانی بے ضابطگیاں اور یکساں معیار کا فقدان وہ تلخ حقائق ہیں جن سے ہر طالب علم اور استاد واقف ہے۔ ایسے میں جب عالمی نظام بھی سوالات کی زد میں آ جائے تو طلبہ کے سامنے ایک خلا پیدا ہو جاتا ہے، جو نہ صرف تعلیمی بلکہ ذہنی اور نفسیاتی بھی ہے۔اس ساری صورتحال میں حکومت کی خاموشی نے مایوسی میں مزید اضافہ کیا ہے۔کیمبرج کی ڈیٹ شیٹ میں عین عید الاضحی کے دنوں میں بھی امتحان شیڈول کیا گیا۔حکومت نے نہ تو اس نظام الاوقات کو نئے سرے سے ترتیب دینے کے لیے تحرک کیا اور نہ پیپرز لیک ہونے کے واقعات کا نوٹس لیا۔ہونا تو یہ چاہے تھا کہ جس نظام کے ذریعے لاکھوں ڈالر کا زرمبادلہ بیرون ملک منتقل ہو رہا ہے اس پر چیک اینڈ بیلنس ہوتا،بےضا بطگی کا حکومتی سطح پر نوٹس لیا جاتا لاکھوں طلبہ کا مستقبل اور والدین کا زر کثیر ضائع ہونے سے بچایا جاتا،لیکن حکومت نے ان واقعات کا نوٹس تک لینا گوارہ نہیں کیا۔تعلیم کے ساتھ سوتیلا سلوک،ایک پوری جنریشن کے مستقبل پر سوالیہ نشان ثبت کر رہا ہے۔
مزید افسوسناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان میں تعلیم کا شعبہ بتدریج نجی ہاتھوں میں منتقل ہو رہا ہے۔ پہلے پرائمری اسکول ٹھیکے پر دے دیے گئے اب مڈل اور ہائی اسکول سیٹھوں کو بیچے جا رہے ہیں۔پہلے سے موجود تعلیمی نظام کو درست کرنے کے بجائے نت نئے تجربات کیے جا رہے ہیں۔سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کرام سے تعلیم کے علاوہ ہر کام لیا جاتا ہے۔ غیر ضروری تعطیلات نے پاکستان کے تعلیمی نظام کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم کیمبرج پر اندھا اعتماد کرنے کے بجائے اپنے تعلیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے پر توجہ دیں۔ ایک ایسا نظام تشکیل دینا ہوگا جو نہ صرف عالمی معیار کا حامل ہو بلکہ مقامی ضروریات سے بھی ہم آہنگ ہو۔ اگر ہم نے اپنی بنیادیں مضبوط نہ کیں تو ہم ہمیشہ دوسروں کے سہارے پر کھڑے رہیں گے، اور یہ سہارا کب تک قائم رہے گا، اس کی کوئی ضمانت نہیں۔
آج کا طالب علم صرف ایک سرٹیفکیٹ نہیں بلکہ ایک محفوظ، شفاف اور قابلِ اعتماد مستقبل چاہتا ہے۔ اگر یہ اعتماد متزلزل ہو جائے تو سب سے بڑا نقصان کسی ادارے یا حکومت کا نہیں بلکہ اس نسل کا ہوتا ہے جو اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے ان نظاموں پر انحصار کرتی ہے۔ریاست بچوں کے مستقبل کی ضامن ہوتی ہے۔ اگر ریاست کیمبرج سے نہیں پوچھے گی تو کون پوچھے گا؟
اگر ریاست، تعلیم کا شعبہ سیٹھوں کے سپرد کردے گی تو نوجوانوں کے مستقبل کا محافظ کون ہوگا؟ ان سوالات کے جوابات کے لیے نوجوان حکومت کی جانب دیکھ رہے ہیں۔