• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دولت بنانے کا راز: امیر افراد کن غلطیوں سے ہمیشہ بچتے ہیں؟

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ دولت بنانے کی شروعات سرمایہ کاری سے ہوتی ہے مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل بنیاد مالی نظم و ضبط اور درست فیصلے ہیں، کامیاب اور مالدار افراد کچھ عام غلطیوں سے مسلسل بچتے ہیں جو ان کی مالی مضبوطی کی اصل وجہ بنتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق امیر افراد اپنی آمدن اور اخراجات پر مکمل نظر رکھتے ہیں، وہ بجٹ کو پابندی نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر خرچ کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔

مالی طور پر مستحکم افراد جذبات کی بنیاد پر فیصلے نہیں کرتے اور نہ ہی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے گھبرا کر خرید و فروخت کرتے ہیں، ان کی توجہ طویل مدتی اہداف پر ہوتی ہے۔

سرمایہ کاری بھی بغیر مقصد کے نہیں کی جاتی، ہر رقم کا ایک واضح مقصد ہوتا ہے، جیسے کہ ترقی، استحکام یا دولت میں مزید اضافہ۔

ایک اہم اصول اثاثوں کو درست طور پر تقسیم کرنا بھی ہے، ماہرین کے مطابق کامیاب سرمایہ کار اپنی سرمایہ کاری کو وقتاً فوقتاً متوازن کرتے رہتے ہیں تاکہ خطرات کم رہیں۔

مالی طور پر مستحکم افراد صرف ایک آمدن پر انحصار نہیں کرتے بلکہ کرایہ، منافع یا کاروبار جیسے مختلف ذرائع سے آمدن حاصل کرتے ہیں۔

قرض لینے میں بھی احتیاط برتی جاتی ہے، ایسی چیزوں کے لیے قرض نہیں لیا جاتا جو وقت کے ساتھ اپنی قیمت کھو دیتی ہیں۔

مالی تحفظ کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاتا، مناسب انشورنس، ہنگامی فنڈ اور مستقبل میں بڑھنے والی سرمایہ کاری کو ترجیح دی جاتی ہے۔

مارکیٹ میں مندی کے دوران گھبراہٹ سے فیصلے کرنے کے بجائے کاروباری افراد اپنی حکمتِ عملی پر قائم رہتے ہیں۔

جیسے جیسے دولت بڑھتی ہے، ماہرین سے مشورہ لینا بھی ضروری سمجھا جاتا ہے تاکہ بہتر فیصلے کیے جا سکیں۔

اسی طرح جائیداد اور دولت کی منتقلی کے لیے وصیت اور دیگر قانونی امور پہلے سے طے کیے جاتے ہیں، غیر ضروری اور فوری خریداری سے بھی گریز کیا جاتا ہے اور صرف پائیدار اور مفید چیزوں پر ہی خرچ کیا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دولت مند بننے کے لیے سب سے پہلے نظر اپنی خواہشات اور ضرورتوں پر رکھیں، چاہت کو ضرورت پر کبھی حاوی نہ ہونے دیں، دولت اچانک نہیں بنتی بلکہ چھوٹے مگر درست فیصلوں، مستقل مزاجی اور نظم و ضبط سے وقت کے ساتھ تیار ہوتی ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید