ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ انسان کا دماغ مستقبل کے بارے میں سوچنے پر خود کو انعام دیتا ہے جس سے یہ عادت مضبوط ہوتی ہے۔
جرمنی کی روہر یونیورسٹی بوخوم اور فرانس کی سوربون یونیورسٹی سے وابستہ ماہرِ نفسیات اکرم دیرے کی زیرِ نگرانی کی گئی یہ تحقیق 6 اپریل 2026ء کو معروف جریدے ’سائیکولوجیکل ریویو‘ میں شائع ہوئی ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ’مستقبل کی ذہنی تصویر سازی‘ یعنی آنے والے حالات کا تصور کرنا دماغ کے ریوارڈ سسٹم کو متحرک کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جب انسان مستقبل کے کسی مسئلے کا حل ذہن میں لاتا ہے تو دماغ میں خوشی اور تحریک پیدا کرنے والا نظام فعال ہو جاتا ہے جس سے یہ عمل بار بار دہرانے کی خواہش بڑھتی ہے۔
اس عمل کو سائنسی زبان میں ’اوپرینٹ کنڈیشننگ‘ سے جوڑا گیا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جو افراد زیادہ مستقبل کے بارے میں سوچتے ہیں، ان کا دماغ وقت کے ساتھ ساتھ اس عمل کا عادی ہو جاتا ہے جس سے منصوبہ بندی بہتر اور ذہنی دباؤ کم ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ماہرین نے خبردار کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ یہی صلاحیت بعض افراد میں منفی بھی ہو سکتی ہے، ذہنی امراض جیسے بے چینی اور ڈپریشن کے شکار افراد اکثر ماضی کے برے تجربات کو مستقبل پر لاگو کر کے ’کیٹااسٹرافائزنگ‘ (catastrophising) کا شکار ہو جاتے ہیں جس سے منفی خیالات اور رویے مزید بڑھتے چلے جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ماہرِ نفسیات کو چاہیے کہ وہ مریضوں کو مثبت اور تعمیری مستقبل کے بارے میں سوچنے کی تربیت دیں تاکہ منفی سوچ کے تسلسل کو توڑا جا سکے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔