• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مشرقِ وسطیٰ... ایک ایسا خطہ جو صدیوں سے طاقت، وسائل اور سیاست کا مرکز رہا ہے۔ مگر آج یہاں کی فضاؤں میں بارود کی بو اور سفارت کاری کی ٹھنڈی لہریں ایک ساتھ محسوس کی جا رہی ہیں۔ امریکہ و اسرائیل کی ایران پرچڑھائی نے پوری دنیا کو ایک بار پھر اضطراب میں مبتلا کر دیا۔ کیا ہم ایک ایسی جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں جس کا راستہ آبنائے ہرمز سے ہو کر گزرتا ہے؟ یا پھر تہران کی جانب سے پیش کی گئی بیک وقت اقدامات کی نئی تجویز کوئی بڑا بریک تھرو ثابت ہوگی؟

یہ کہانی صرف دو ملکوں کی نہیں، بلکہ ایک عالمی معاشی شہ رگ یعنی آبنائے ہرمز کے تحفظ کی ہے۔ حالیہ کشیدگی نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ایک چھوٹی سی غلط فہمی عالمی معیشت کو تباہ کر سکتی ہے۔ماضی کے تجربات نے دونوں فریقین کو ایک دوسرے کے تئیں شدید شکی بنا دیا ہے۔ ہر نئی تجویز کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ لیکن اس بار، تہران نے ایک ایسا کارڈ کھیلا ہے جس نے عالمی ماہرینِ خارجہ کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ یہ ہے’’بیک وقت اقدامات‘‘کا فارمولا۔

ماضی میں مذاکرات اس لیے ناکام ہوتے رہے کہ دونوں فریق ضد پر قائم رہے۔ اب ایران نےبیک وقت اقدامات کانیا راستہ تجویز کیا ہے۔ اس فارمولے کا مطلب یہ ہے کہ دونوں ممالک ایک ساتھ چھوٹے مگر بامعنی قدم اٹھائیں۔ مثلاًامریکہ ایران پر عائد تجارتی پابندیوں میں نرمی کرے، اور ایران یورینیم افزودگی کی شرح کو کم کر دے۔ یہ ایک ایسا ماڈل ہے جو اعتماد سازی (Confidence Building) کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔بیک وقت اقدامات کا فارمولابلا شبہ امید کی کرن ہے اگر یہ موقع ضائع ہو گیا، تو شاید آئندہ بات چیت کیلئے میز میسرنہ ہو۔اس تجویز میں صرف ایٹمی پروگرام شامل نہیں، بلکہ اس میں آبنائے ہرمز کی حفاظت اور فوجی کارروائیوں کے خاتمے کی یقین دہانی بھی شامل ہے۔ ایران کا یہ نرم لہجہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ معاشی دباؤ سے نکلنے کیلئےایک باعزت راستہ چاہتا ہے۔ مگر کیا واشنگٹن، جہاں اسرائیل اور خلیجی ممالک کا دباؤ بہت زیادہ ہے، اس فارمولے کو قبول کرے گا؟ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ایران نے اپنی شرائط میں نرمی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا حملے روکنے اور آبنائے ہرمز کا محاصرہ ختم کرنے کی ضمانت دے تو وہ اگلے ہفتے پاکستان میں مذاکرات کے لیے آمادہ ہے۔

ادھرایرانی نائب وزیرِخارجہ نے ایران کی جانب سے جنگ کے مستقل خاتمے کیلئے پاکستان کو امریکہ کی نو نکاتی تجاویز کے جواب میںچودہ نکات پر مشتمل تجاویز بھیجنے کی تصدیق کردی ہے۔ جس میں بنیادی زورجنگ کے خاتمے پر دیا گیا ہےجبکہ اس سے قبل امریکہ نے اپنی تجویز میں دو ماہ کی جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا، تاہم ایران نے واضح کیا کہ تمام معاملات 30دن کے اندر حل ہونے چاہئیں اور توجہ جنگ بندی میں توسیع کے بجائےجنگ کے خاتمےپرہونی چاہیے۔دیگر چند اہم تجاویزہیں کہ دوبارہ حملے سے دور رہنے کی ضمانت، ایران کے گرد و نواح سے امریکی فوجیوں کا انخلا،بحری ناکہ بندی کا خاتمہ،ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی، جنگ کی وجہ سے ہونیوالے نقصان کے ہرجانے کی ادائیگی، ایران پر ہر قسم کی پابندیوں کا خاتمہ، لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا اختتام، آبنائے ہرمز کیلئے ایک نیا طریقۂ کار جیسے امور شامل ہیں۔

پاکستان نے ایران کی ان تجاویزکو امریکہ تک پہنچادیا ہے اور ٹرمپ نے ایران کی ان تجاویزسے متعلق اپنے حالیہ بیان میں کہاہے کہ’’وہ ایران کی جانب سے پیش کردہ منصوبے کا جائزہ لے رہے ہیں ،تاہم وہ اسے قابلِ قبول نہیں سمجھتے‘‘۔یہ ایک حقیقت ہے کہ آبنائے ہرمز... دنیا کی معاشی شہ رگ ہے،یہاں سے دنیا کے تقریباً ایک تہائی تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ یہاں ایک گولی چلنے کا مطلب ہے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں کا آسمان پر جا پہنچنا۔ ایران جانتا ہے کہ یہ اس کا سب سے بڑا تزویراتی ہتھیار ہے۔ امریکہ کی ہچکچاہٹ کی ایک بڑی وجہ اسکے اتحادیوں، خصوصاً اسرائیل کے خدشات ہیں۔ اسرائیل کسی بھی ایسی ڈیل کا مخالف ہے جو ایران کو مکمل طور پر ایٹمی صلاحیت سے محروم نہ کرے۔

اسی پیچیدہ صورتحال میں، کچھ علاقائی طاقتیں ثالثی کا کردار ادا کرنے میں کوشاں ہیں۔ تاہم امریکہ اور ایران کی جانب سے قابلِ اعتمادثالث صرف پاکستان ہی کو قرار دیا جا رہا ہے جس سے پاکستان کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ پاکستان کے ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات ہیں اور امریکہ کے ساتھ دیرینہ اسٹرٹیجک شراکت داری۔ حال ہی میں مذاکرات کے کچھ دور منسوخ ضرور ہوئے، لیکن سفارتی چینلز اب بھی کھلے ہیں۔

پاکستان کی سفارتی حکمت عملی میں توازن اور بصیرت نمایاں ہے، وہ خطے میں امن کا خواہاں ہے۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان غلط فہمیوں کی دیوار کو گرایا جائے۔ اسلام آباد میں ہونیوالے حالیہ مذاکراتی رابطے اس بات کا ثبوت ہیں کہ دروازے ابھی بند نہیں ہوئے، لیکن وقت تیزی سے نکلا جا رہا ہے۔دنیا آج ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ فیصلے صرف طاقت سے نہیں، بلکہ حکمت اور صبر سے ہونے چاہئیں۔ کیا واشنگٹن اور تہران تاریخ کے اس جبر سے نکل پائیں گے یا مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے بحران کی لپیٹ میں آ جائے گا جس کی آگ پوری دنیا کو جھلسا دے گی؟ جواب آنیوالے دنوں کی سفارت کاری میں چھپا ہے۔

تازہ ترین