• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تعلیم کا کچی ٹاکی سینما اور تلمیذ الرحمن پاکستانی

قائداعظم محمد علی جناح کی ہدایت پر پاکستان کی پہلی ایجوکیشن کانفرنس 27نومبر تا یکم دسمبر 1947ء کراچی میں منعقد ہوئی۔ وزیر تعلیم فضل الرحمٰن نے کانفرنس کی صدارت کرتے ہوئے تعلیمی پالیسی کے تین بنیادی نکات بیان کیے۔ سماجی، پیشہ ورانہ اور روحانی۔ بتایا گیا کہ قومی تعلیمی نظام کی بنیاد پرائمری اور ثانوی سطح پر مفت اور لازمی تعلیم کی بنیاد پر رکھی جائیگی۔ مزید یہ کہ ملک کی 85فیصد ناخواندہ بالغ آبادی میں خواندگی کی شرح نمو کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک میں سو فیصد شرح خواندگی کیلئے 140 برس درکار ہونگے۔ کانفرنس کی بنیادی سفارشات یہ تھیں۔ تعلیم کو اسلامی اقدارسے ہم آہنگ کیا جائیگا۔ مفت اور لازمی تعلیم فراہم کی جائیگی۔ سائنسی اور پیشہ ورانہ تعلیم پر زور دیا جائیگا۔ اس پالیسی پر عمل درآمد نہ ہو سکا کیونکہ تقسیم کے بعد لاکھوں مہاجرین کی آمد سے نئے ملک میں انتظامی مشکلات پیدا ہوئیں۔ عملی طور پر برطانوی نوآبادیاتی نظام تعلیم ہی جاری رکھا گیا۔

بارہ برس بعد 5جنوری 1959ءکو ایوب خان نے ایس ایم شریف کی صدارت میں قومی تعلیمی کمیشن قائم کیا۔ اس کمیشن نے 26اگست 1959ءکو اپنی رپورٹ پیش کر دی جو حکومت نے 30 دسمبر 1959 کو منظور کر لی۔ ناخواندگی کا مکمل خاتمہ اس پالیسی کا بنیادی ہدف تھا۔ کمیشن نے تمام شہریوں کیلئے دس سالہ تعلیم کو لازمی قرار دیا۔ مذہبی تعلیم لازمی دی گئی۔ بچوں اور بچیوں میں تعلیم کے یکساں فروغ پر اتفاق کیا گیا۔ اس پالیسی کے متنازع نکات بی اے کیلئے تین سالہ پروگرام اور اردو کو ذریعہ تعلیم قرار دیا جانا تھا۔ حالانکہ 1956 کے آئین میں اردو اور بنگالی کو قومی زبانیں قرار دیا جا چکا تھا۔ تین سالہ ڈگری پروگرام سے نچلے متوسط طبقے پر تعلیم کا مالی بوجھ بڑھنا تھا چنانچہ ملک بھر میں طلبا نے شدید احتجاج کیا۔ ملک کے دونوں حصوں میں سیاسی کشمکش اور وسائل کی کمی کے باعث یہ تعلیمی پالیسی بھی اپنے اہداف حاصل نہ کر سکی۔ اس منصوبے کے تحت ناخواندگی کا خاتمہ ایک ناقابل عمل ہدف تھا۔ 1969ءمیں اقتدارپر قبضہ کرنے کے بعد یحییٰ خان نے 28 نومبر 1969 کو نئی تعلیمی پالیسی کا اعلان کیا جسے 26 مارچ 1970 کو کابینہ نے منظور کر لیا۔ اس پالیسی کے بنیادی نکات میں ملک کی نو ساختہ نظریاتی اساس پر زور دیا گیا تھا۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم کو ترجیح دینے کے علاوہ تعلیمی انتظامیہ کو مقامی سطح پر تقسیم کیا جانا تھا۔ ناخواندگی کو مکمل ختم کیا جانا تھا۔ یہ پالیسی بھی ناکام ہو گئی کیونکہ بھارت سے جنگ میں مشرقی پاکستان الگ ہو گیا اور فوجی حکومت منہدم ہو گئی۔ ذوالفقار علی بھٹو کی نئی حکومت نے 29مارچ 1972ءکو قومی پالیسی کا اعلان کیا۔ اس کےچاربڑے نکات تھے۔ نظریہ پاکستان کو فروغ دینا، خواندگی کو سو فیصد سطح پر لانا، تعلیمی نظام میں مساوات قائم کرنا۔ نصاب کو ہم عصر تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا، پیشہ ورانہ اور سائنسی تعلیم کو مدغم کرنا، تعلیمی امور میں اساتذہ، طلبا اور والدین کو فعال کردار دینا۔ اہم نکتہ تمام تعلیمی اداروں کو قومیائے جانا تھا۔ یحییٰ حکومت نے نظریہ پاکستان کا جو شوشہ چھوڑا تھا، نئی حکومت نے تبدیل شدہ جغرافیائی حقائق کے پیش نظر اس نظریاتی ڈھونگ کو مزید مضبوط بنا دیا۔ تمام تعلیمی ادارے قومیانے سے معیاری تعلیمی اداروں کو سخت نقصان پہنچا۔ دسویں جماعت تک تمام لڑکے اور لڑکیوں اور مفت تعلیم کی فراہمی کا ہدف 1974ءتک حاصل کیا جانا تھا۔ یہ پالیسی اپنی خوبیوں کے باوجود کامیاب نہ ہو سکی کیونکہ سو فیصد بنیادی تعلیم کا ہدف مکمل نہ ہو سکا۔ نیز نجی تعلیمی ادارے قومیانے سے وہی خرابیاں پیدا ہوئیں جو صنعتی اداروں کو قومیانے سے پیدا ہوئی تھیں۔ 1977 میں حکومت پر قبضہ کرنے کے بعد ضیا آمریت نے اکتوبر 1978 میں نئی قومی تعلیمی پالیسی کا اعلان کیا ۔ 1970 کے انتخابات میں جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر کراچی سے قومی اسمبلی کے رکن محمود اعظم فاروقی وفاقی وزیر تعلیم تھے۔ نئی تعلیمی پالیسی فروری 1979 میں پالیسی نافذ کر دی گئی۔ گزشتہ دو تعلیمی پالیسیوں میں نظریہ پاکستان کی جو جھونپڑ پٹی کھڑی کی گئی تھی وہ 1979 میں اسلام سے وفاداری کو فروغ دینے اور مسلم امہ کے تصور کو تخلیق کرنے تک جا پہنچی۔ اس کے نتیجے میں روشن خیال اساتذہ کی وسیع پیمانے پر نظریاتی تطہیر کی گئی۔ اس تعلیمی پالیسی کی کلیدی حکمت عملیاں یہ تھیں۔ نصاب تعلیم پر نظرثانی کی جائیگی۔ روایتی تعلیمی اداروں کو مذہبی مدرسوں میں ضم کیا جائیگا۔ اردو ذریعہ تعلیم ہو گی۔ لڑکوں اور لڑکیوں کیلئے الگ تعلیمی ادارے بنائے جائینگے۔ یہ تعلیمی پالیسی بھی مناسب منصوبہ بندی کے فقدان اور مالی وسائل نہ ہونے کے باعث ناکام ہو گئی البتہ محمود اعظم فاروقی اپنے چنیدہ مشیروں کی مدد سے نصاب تعلیم کو جماعت اسلامی کا ضمیمہ بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے سے وفاقی اکائیوں میں مقامی زبانوں کے بارے میں عصبیت پھیل گئی۔ مدرسوں اور روایتی تعلیمی اداروں میں انضمام پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔ مخلوط نظام تعلیم کی بجائے صنفی بنیاد پر تعلیمی اداروں کے قیام سے ملکی تمدن کو سخت نقصان پہنچا۔ اپریل1991 میں اسلام آباد میں وفاقی وزیر تعلیم فخر امام کی صدارت میں قومی تعلیمی کانفرنس منعقد ہوئی۔ دسمبر 1992 میں نافذ ہونے والی اس قومی تعلیمی پالیسی کے ذریعے اسلامی اقدار کو فروغ دیا جانا تھا۔ عورتوں میں خواندگی کو فروغ دینا تھا۔ ثانوی سطح سے عمومی اور پیشہ ورانہ تعلیم کو ترجیح دیناتھی۔ نصاب کو قومی ضروریات کے تابع رکھتے ہوئے اعلیٰ تعلیم کا دائرہ بڑھایا جانا تھا۔ خواندگی میں اضافے کیلئے صوتی اور بصری ذرائع استعمال کئےجانے تھے تاکہ نجی شعبے کی پیشہ ورانہ ضروریات پوری ہو سکیں۔ یہ پالیسی بھی ملک کے سیاسی حالات کے باعث کامیاب نہ ہو سکی۔ ایک دہائی بعد جنوری 1998 میں وزیراعظم نواز شریف کی تجویز پر وزیر تعلیم سید غوث علی شاہ نے مارچ 1998 میں نئی تعلیمی پالیسی نافذ کی جس کے بنیادی نکات یہ تھے۔ قرآنی اصولوں اور اسلامی شعائر کو تعلیمی نظام کا لازمی حصہ بنایا جائیگا۔ ملک میں سو فیصدپرائمری خواندگی کا ہدف حاصل کیا جائیگا۔ ہر شہری کی بنیادی تعلیمی ضروریات پوری کی جائیں گی۔ اعلیٰ تعلیم کیلئے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ نظام تعلیم کو متنوع بنایا جائیگا۔ نصاب پر نظرثانی کو ایک مسلسل عمل میں تبدیل کیا جائیگا۔ تعلیم کی بہتری کیلئے دوران ملازمت تربیتی پروگرام مرتب کیے جائیں گے۔ دینی مدارس کا معیار بہتر بنایا جائیگا۔ پاکستان میں یکے بعد دیگرے تعلیمی پالیسیوں کی ناکامی سے ظاہر ہوتا ہے کہ تعلیم سرے سے ریاست کی ترجیح نہیں رہی بلکہ شہریوں کو تلمیذ الرحمن سمجھ کر خانہ غفلت میں اسیر رکھا گیا ہے۔

تازہ ترین