تفہیم المسائل
سوال: سعودی حکومت کی جانب سے سال2026ءکے حج کے انتظامات میں کچھ بنیادی تبدیلیاں کی گئی ہیں، اِن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ حج ٹور آپریٹرز کو اس بات پر پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے حجاج کی قربانی حکومت کے منتخب عاملین کے ذریعے کروائیں گے اور اس قربانی کی تمام تر رقم NUSUK ایپ کے ذریعے پیشگی ادا کی جائے گی۔
اب تک کی ہدایات کے مطابق منتخب عاملین کے علاوہ کسی اور ذریعے سے قربانی کرنا سخت منع اور مُوجب ِجرمانہ ہوگا۔ سعودی حکومت کے زیراہتمام یہ قربانی ایام نحر کے تمام دنوں میں ہوگی۔ حج ٹور آپریٹرز کو رقم کی ادائیگی کے بعد وقت متعین کیا جائے گا کہ آپ کے حجاج کی قربانی فلاں دن فلاں وقت تک ہوجائے گی، لہٰذا اس کے بعد حلق کروالیں۔
اس طریقہ کار پر عمل کرنے میں بعض پیچیدگیاں اور شرعی قباحت کے پید ہونے کا امکان ہے، مثلاً:(1)اگرچہ اب تک کی اطلاع ہے کہ قربان گاہ میں ٹور آپریٹرز کا نمائندہ موجود ہوگا، مگر سابقہ تجربات سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مشکل امر ہوگا۔
پس اگر قربان گاہ میں کوئی نمائندہ موجود نہ ہوا تو قربانی کی تصدیق مشکل ہوگی کہ آیا قربانی کی بھی گئی ہے یا نہیں۔ (2) دئیے گئے وقت تک رمی نہ ہو اور اس سے قبل قربانی کردی گئی تو ترتیب ٹوٹنے پر دم لازم آئے گا۔(3) رَمی تو اول وقت میں کرلی لیکن قربانی کا وقت شام، رات یا دوسرے دن کا کوئی وقت دیا گیا ہو تو حاجی کے لیے احرام کی پابندیوں کے ساتھ انتظار کرنا ایک مشکل امر ہوگا۔
ان تمام ممکنہ صورتوں سے نکلنے کے لیے آپ کی شرعی رہنمائی درکار ہے کہ ایسا کیا طریقہ اختیار کیا جائے کہ تمام مناسک بحسن وخوبی انجام پائیں اور کسی بھی قسم کے شرعی قواعد کی خلاف ورزی کے موجب نا ٹھہریں، (سائلین:مولانا محمد اکرام حسین ، محمد عمران ارشد نقیبی،محمد انعام کرک)
جواب: فقہ حنفی کی رُو سے حج تمتّع اور حج قران کرنے والے حضرات پر رَمی، قربانی اور حلق کرنے میں ترتیب کی رعایت رکھنا واجب ہے، خلاف ترتیب ہونے کی صورت میں دم واجب ہوگا، امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک ترتیب کے خلاف کرنے سے دم لازم آتا ہے۔
علّامہ ابوالحسن مرغینانی حنفی لکھتے ہیں: ترجمہ:’’افعالِ حج کو ایک دوسرے پر مقدم کرنے کے حکم میں اختلاف ہے، جیسے سر منڈوانے کو کنکریاں مارنے سے پہلے یا قربانی کو کنکریاں مارنے سے پہلے یا سر منڈوانے کو قربانی سے پہلے کیا جائے، امام ابو یوسف ؒ اور امام محمدؒ کے نزدیک یہ جائز ہے، ان کی دلیل یہ ہے کہ جو چیز فوت ہوگئی ہے اس کی تلافی قضا سے ہوجاتی ہے اور قضا کیساتھ کوئی اور چیز لازم نہیں ہوتی، امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک ترتیب کے خلاف کرنے سے دم لازم آتا ہے، ان کی دلیل یہ ہے کہ حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا: جس شخص نے حج کے ایک فعل کو دوسرے پر مقدم کردیا اس پر دم لازم ہے،(ہدایہ، جلد2،صـ:287)‘‘۔
غرض کہ اَحناف کے ہاں اصل حکم یہی ہے کہ دسویں ذوالحجہ کے مناسکِ اربعہ میں قارِن اور مُتمتّع پر شروع کے تین مناسک یعنی رَمی، ذبح اورحلق میں جبکہ مُفرد پر رَمی وحلق میں ترتیب واجب ہے اور قصداً اس ترتیب کی خلاف ورزی کرنا گناہ اور مُوجبِ دَم ہے، جبکہ فقہائے اَحناف میں سے امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہما اللہ سمیت جمہور فقہائےکرام کے نزدیک یہ ترتیب سنّت ہے۔
حدیث پاک میں ہے: ترجمہ:’’ حضرت عبداللہ بن عمر وبن عاصؓ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ حجۃ الوداع کے موقع پر منیٰ میں کھڑے ہوئے لوگوں کے سوالات کے جواب دے رہے تھے کہ ایک شخص نے آکر کہا: مجھے پتانہیں چلا، میں نے ذبح سے پہلے سرمونڈ لیا، آپ ﷺ نے فرمایا: اب ذبح کرلو اور کوئی حرج نہیں، پھر ایک اورشخص آیا اور اس نے کہا: مجھے پتا نہیں تھا اور میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے نحر(ذبح) کرلیا، آپ ﷺ نے فرمایا: تم اب کنکریاں مارلو، کوئی حرج نہیں ہے، پھر نبی اکرم ﷺ سے جس چیز کے متعلق سوال کیا گیا کہ اسے مُقدّم کردیا گیا یا مؤخر کردیا گیاتو آپ ﷺ نے اس کے متعلق یہی فرمایا: اب کرلو ،کوئی حرج نہیں ہے ،(صحیح بخاری :83)‘‘۔
پس اگر سعودی حکومت نے اسے لازمی قانون بنادیا ہے اور اس کی خلاف ورزی پر تعزیر ہے، تو مومن پرلازم ہے کہ عزتِ نفس کا تحفظ کرے، حدیث پاک میں ہے: ترجمہ:’’ مومن کے شایانِ شان نہیں ہے کہ اپنے آپ کو ذلّت سے دوچار کرے، صحابہ ؓ نے عرض کی: وہ کیسے اپنے آپ کو ذلّت سے دوچار کرے گا، آپ ﷺ نے فرمایا: خود کو ایسی آزمائش میں مبتلا کردے، جس کی وہ طاقت نہیں رکھتا ،(سُنن ترمذی:2254)‘‘۔
یہ ایساہی ہے کہ سعودی حکومت کا رؤیتِ ہلال کا اعلان اکثر امکانِ رؤیت کے خلاف ہوتا ہے، مگر وہاں چونکہ اُن کی قضا نافذ ہے ، اس لیے حجاج کرام پر اس کی تعمیل لازم ہے، مزید یہ کہ صاحبین امام محمدؒ وامام ابو یوسفؒ کا مذہب بھی یہی ہے، پس اگر کسی عذر کی وجہ سے ترتیب برقرار رکھنا ممکن نہ ہو یا شدید حرج لازم آتا ہو، تو اَحناف میں سے صاحبین اور جمہور فقہائے کرام کی رائے کے مطابق ترتیب ترک کرنے کی گنجائش ہے اور اس صورت میں دَم بھی لازم نہیں ہوگا۔
علامہ ابن نُجیم حنفی لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ اگر عذر کی وجہ سے واجباتِ حج میں سے کوئی واجب ترک ہوجائے، تو کوئی شے ذمے پر لازم نہیں ہوگی، چنانچہ بدائع الصنائع میں اس بات کی تصریح ہے کہ اگر کسی نے عذر کی وجہ سے صفاومروہ کی سعی کو ترک کردیا تو اس کے ذمے کوئی شے لازم نہیں ہوگی اور اگر بلاعذر ترک کیا ہو تو دَم لازم ہوگا کیونکہ حج کے باب میں واجب کو ترک کرنے کا یہی حکم ہے اور اس مسئلے کی اصل طوافِ صدر ہے کہ اُسے حدیث کی وجہ سے حائضہ کے ذمے سے ساقط کردیا گیا ہے اور ہدایہ میں یہ تصریح ہے کہ بلاعذر وقوفِ مُزدلفہ کو ترکے کرنے کی صورت میں دَم لازم ہوگا لیکن عذر کی صورت میں دَم واجب نہیں ہے۔
الولوالجی نے اپنے فتاویٰ میں یہ تصریح کی ہے کہ کسی نے بلا عذر سوار ہوکر سعی کی تو اعادہ نہ کرنے کی صورت میں اس کے ذمے دَم لازم ہوگا کیونکہ پیدل چل کر طواف کرنا واجب ہے اور بلاعذر واجب کو ترکے کرنے کی صورت میں دَم لازم ہوتا ہے، (البحرالرائق ، جلد3،ص:25)‘‘۔ (جاری ہے)
اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
darululoomnaeemia508@gmail.com