آپ کے مسائل اور ان کا حل
سوال: آج کل جانور میں خوبصورتی کے لیے اس کے سینگ کاٹ دیتے ہیں، بعض اوقات محسوس ہوتا ہے کہ وہ جڑ سے اکھاڑ دیا گیا ہے، لیکن جانور کے سر یا دماغ میں کوئی زخم باقی نہیں رہتا، نہ ہی اس کی صحت متاثر ہوتی ہے۔ ایسے جانور کی قربانی کا کیا حکم ہے؟
جواب: واضح رہے کہ جانور کے سینگ جڑ سے اکھاڑنا ایک غیر ضروری عمل ہے اور اس میں جانور کو سخت اذیت ہوتی ہے، لہٰذا اس سے اجتناب ضروری ہے۔ لیکن اگر کسی جانور کے سینگ کاٹ دیے گئے تو اس میں مندرجہ ذیل تفصیل ہے:
1۔ اگر سینگ جڑ سے نہیں کاٹے گئے تو اس جانور کی قربانی جائز ہے۔
2۔ اگر جانور کے سینگ جڑ سے کاٹ دیے گئے ہوں، اس کی وجہ سے سر کی نرم ہڈی متاثر ہوگئی ہےاور اس کا اثر دماغ تک پہنچ گیا ہے تو اس کی قربانی کرنا جائز نہیں ہے۔ (بدائع الصنائع ج:5، ص:76، ط:دار الکتب العلمیۃ و رد المحتار، کتاب الأضحيۃ، ج:6، ص:325، ط:سعيد)
3۔ اگر جانور کے سینگ جڑ سے کاٹ دیے گئے ہوں، اس کی وجہ سے سر کی نرم ہڈی متاثر نہیں ہوئی، لیکن زخم تازہ ہے تو اس کی قربانی کرنا بھی جائز نہیں ہے۔
4۔ اگر جانور کے سینگ جڑ سے کاٹ دیے گئے ہوں، سر کی ہڈی متاثر نہیں ہوئی اور قربانی سے پہلے پہلے یہ زخم ٹھیک ہوجائے تو اس جانور کی قربانی کرنا بھی جائز ہے۔ (التوضیح فی شرح مختصر ابن حاجب، کتاب الأضحيۃ، ج:3، ص:268، ط:مرکز نجيبويہ للمخطوطات وخدمۃ التراث)
اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
iqra@banuri.edu.pk