• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حالتِ احرام میں الائچی و دیگر خوشبودار چیزیں کھانے کا حکم

آپ کے مسائل اور ان کا حل

سوال: احرام کی حالت میں الائچی، کینو یا کوئی بھی خوشبو دار چیز کھانے کا کیا حکم ہے؟

جواب: الائچی خوشبو نہیں ہے، لیکن اس میں طبعی طور پر خوشبو ہوتی ہے، اس لیے حالتِ احرام میں الائچی کھانا پسندیدہ نہیں ہے، البتہ اگر کسی نے الائچی کھالی، تو اس سے دم یا صدقہ لازم نہیں ہوگا۔ (معلم الحجاج، جنایات یعنی ممنوعات احرام و حرم اور ان کی جزا، ص: 237،ط:مکتبہ تھانوی)

کینو یا کوئی بھی پھل چوں کہ خوشبو نہیں ہے اور اس کا استعمال بھی خوشبو کے طور پر نہیں ہوتا، اس لیے حالتِ احرام میں کینو اور دیگر پھل کھانا جائز ہے۔

اس کے علاوہ کوئی بھی خوشبو دار چیز جو کہ طبعی طور پر خوشبو دار ہے، لیکن اپنی ذات کے اعتبار سے وہ خوشبو نہیں ہے اور نہ ہی اس کا استعمال خوشبو کے لیے ہوتا ہے، اس کے کھانے سے بھی دم یا صدقہ لازم نہیں ہوگا۔ البتہ کوئی ایسی چیز جس میں خوشبو ملا کر اس کو خوشبو دار بنایا گیا ہو، تو اس میں تفصیل یہ ہے کہ اس کا استعمال دو طرح سے ممکن ہے:

1۔ اس چیز کو خوشبو ملا کر پکایا گیا ہو، حالتِ احرام میں اسے کھانا جائز ہے، خواہ جتنی مقدار میں بھی خوشبو ملائی گئی ہو۔

2۔ اسے خوشبو ملا کر پکایا نہ گیا ہو۔ تو دیکھا جائے گا کہ اگر اجزاء کے اعتبار سے خوشبو اس چیز پر غالب ہے تو وہ چیز خوشبو کے حکم میں ہے، اگرچہ اس میں خوشبو محسوس نہ ہورہی ہو۔

اگر خوشبو غالب نہ ہو، بلکہ وہ چیز خوشبو پر غالب ہو، تو وہ خوشبو کے حکم میں نہیں ہے، لہٰذا حالتِ احرام میں اس کا کھانا جائز ہے۔ (الفتاوىٰ الهندية، كتاب المناسك، ج:1، ص:240، ط:دار الفكر - إرشاد الساري ، ص:445، ط:المكتبة الامدادية و رد المحتار، كتاب الحج، ج:2، ص:546، ط:سعيد)

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

iqra@banuri.edu.pk

اقراء سے مزید