آپ کے مسائل اور ان کا حل
سوال: قربانی کس پر فرض ہے؟ سونا، چاندی پر یا نقدی پر؟ اور یہ چیزیں کتنی ہوں تو قربانی فرض ہے؟
جواب: فقہی اصطلاح کے اعتبار سے قربانی فرض نہیں،بلکہ واجب ہے۔ فرض اور واجب میں عملی اعتبار سے فرق نہیں ہے، ہر ایک پر عمل کرنا ضروری ہے، تاہم دونوں میں فرق یہ ہے کہ فرض قطعی دلیل سے ثابت ہوتا ہے، جب کہ واجب ظنی دلیل سے ثابت ہوتا ہے، نیز تاویل کے بغیر فرض کا انکار کرنے والا کافر ہوجاتا ہے، جب کہ واجب کا منکر کافر نہیں ہوتا۔
قربانی ہر اُس عاقل ، بالغ ، مقیم، مسلمان، مرد اور عورت پر واجب ہے جو عید الاضحٰی کے دنوں (10، 11 اور 12 ذوالحجہ) میں نصاب کا مالک ہو۔ قربانی کے نصاب کے مالک ہونے کی چند صورتیں یہ ہیں:
1- ساڑھے سات تولہ (87.4875گرام ) یا اس سے زائد سونا ہو۔
2- ساڑھے باون تولہ (612.4125گرام ) یا اس سے زائد چاندی ہو۔
3- ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زائد نقدی ہو۔
4- تجارت کا مال جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زائد ہو۔
5- استعمال سے زائد اتنا سامان ہو جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زائد ہو، مثلاً رہائش کے مکان سے زائد مکان یا جائیداد وغیرہ ۔
6- مذکورہ چیزوں میں سے کوئی سی دو یا زیادہ قسم کی اشیاء کا مجموعہ ہو جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر یا اس سے زائد ہو۔
قربانی واجب ہونے کے لیے نصاب پر سال کا گزرنا شرط نہیں ہے، بلکہ صرف عید الاضحیٰ کے دن نصاب کے برابر مال ملکیت میں موجود ہونا کافی ہے، حتیٰ کہ اسی دن ہی اس کا مالک بنا ہو، تب بھی قربانی واجب ہوجائے گی۔ (رد المحتار، کتاب الاضحیۃ، ج:6، ص:312، سعید - الفتاویٰ الھنديۃ، کتاب الاضحیۃ، الباب الأول،ج:5، ص:292، دارالفکر)
اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
iqra@banuri.edu.pk