• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حجِ بیت اللّٰہ: اللّٰہ کے قرب و رضا اور اعترافِ بندگی کا مظہر

حاجی محمد حنیف طیب

ﷲ تعالیٰ نے اپنے بندوں کوقرب اور وصال کی لذتیں عطا فرمانے اورتسلیم ورضا کا پیکر بنانے کے لئے مختلف عبادات کو لازم کیا، جن سے نہ صرف تقویٰ وپرہیز گاری کی منزل حاصل ہوتی ہے، بلکہ گناہوں کے کفارے کاسامان بھی ہوتا ہے۔

بندگان الٰہی اپنی ان عبادات کے ذریعے اظہاربندگی کرتے ہیں اور احکام الٰہی بجالاتے ہیں، ان میں سے بعض عبادات محض بدنی ہیں، جیسے نماز، روزہ، اسی طرح بعض محض مالی ہیں جیسے زکوٰۃ ،عُشر،قربانی وغیرہ مگر حج بدنی ومالی عبادتوں کا مجموعہ ہے۔ حج بیت ﷲسن ۹ہجری میں فرض ہوااور ۱۰ ہجری میں رسول ﷲﷺ نے پہلا اور آخری حج ادا فرمایا۔

’’حج ‘‘لغوی اعتبار سے معظم اور محترم چیز کی طرف ارادہ کرنے کو کہتے ہیں، مگر شرعی اصطلاح کے طور پر مخصوص اوقات، مخصوص شرائط اور مخصوص اندازسے بیت ﷲ، منیٰ ،مزدلفہ،وعرفات کی طرف قصد کرنے سے عبارت ہے ۔نبی اکرم ﷺنے حج کے بہت زیادہ فضائل وبرکات بیان فرمائے اسلام کی پانچ بنیادی چیزوں میں سے ایک حج کو بھی قرار دیا گیا۔(بخاری ومسلم )

حج سے گناہ معاف ہوتے ہیں :۔ حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول ﷲﷺ کو فرماتے سنا ’’جس نے حج کیا اور کوئی جھگڑا یا گناہ نہ کیا تو وہ اپنے گناہوں سے ایسے نکل جائے گا، جیسا اس دن تھا جب اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔(صحیح بخاری)

حضرت سیدنا عبدﷲ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ سرکار مدینہ ﷺنے فرمایا’’حج اور عمرہ یکے بعد دیگرے کرو، کیونکہ یہ دونوں اعمال فقر اور گناہوں کو ایسے دور کر دیتے ہیں۔ جیسے بھٹی لوہے، سونے اور چاندی کے زنگ کو دور کردیتی ہے اور حج مبرور کا ثواب جنت کے سوا کچھ نہیں ‘‘۔(سنن ترمذی )

حج مبرور کسے کہتے ہیں :۔ مبرور کا ایک معنی ہے قبول کیا ہوا یعنی ایسا حج جسے فرائض وواجبات وسنن کے ساتھ ادا کیا جائے اور گناہوں سے محفوظ رہ کر صرف ﷲ کی خوشنو دی کے لئے اگر حج کیا جائے وہ حج،حج مبرور (مقبول )ہوگا۔جس کا بدلہ صرف جنت ہے۔

حضرت سیدنا جابر ؓسے روایت ہے کہ سرور کونین ﷺنے فرمایا’’حج مبرور کا ثواب جنت سے کچھ کم نہیں ‘‘عرض کیا گیا مبرور سے کیا مراد ہے؟ فرمایا ایسا حج جس میں کھانا کھلایاجائے اور اچھی گفتگو کی جائے ۔(المعجم)

حاجی شفاعت کرے گا:۔ حضرت سید نا ابو موسیٰؓ سے روایت ہے کہ رسول عربی ﷺ نے فرمایا ’’حاجی اپنے اہل خانہ کے چار سو افراد کی شفاعت کرے گا ‘‘ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ ’’ اپنے اہل خانہ کے چار سو افراد کی شفاعت کرئے گا اور اپنے گناہوں سے ایسے نکل جائے گا جیسے اس دن تھا جب اس کی ماں نے اسے جنا تھا ۔ (مسنداحمد )

ایک روایت میں نبی محترم ﷺنے فرمایا’’یاﷲ !حاجی اور جس کے لئے حاجی استغفار کرے دونوں کی مغفرت فرما دے‘‘(ابن خزیمہ) حضرت سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺنے فرمایا’’حج اور عمرہ کرنے والے ﷲ کے مہمان ہیں اگر دعا کریں تو ﷲ ان کی دعا قبول فرمائے گا اور اگر طلب مغفرت کریں تو ﷲ عزوجل انہیں بخش دے گا‘‘(ابن ماجہ )

حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے کہ نبی سیدنا داؤد علیہ السلام نے عرض کیا یاالٰہی عزو جل تیرے پاس اپنے ان بندوں کے لئے کیاہے جوتیرے گھر کی زیارت کرنے آتے ہیں؟ فرمایا ہر مہمان کامیزبان پہ حق ہوتاہے اور، اے داؤد (علیہ السلام )میرے مہمان کا مجھ پہ حق ہے کہ میں دنیا میں انہیں عافیت عطا فرما دوں اور جب آخرت میں ان سے ملوں توان کی مغفرت فرمادوں‘‘(المعجم)

ایک اور حدیث مبارکہ حضر ت سہل بن سعد ؓسے مروی ہے کہ رسول ہاشمی ﷺنے فرمایا ’’جو مسلمان ﷲ کی راہ میں کلمہ طیبہ کاورد کرتے ہوئے یا تلبیہ کہتے ہوئے جہاد کرنے یاحج کرنے کے لئے چلے تو سورج غروب ہوتے وقت اس کے گناہوں کو اپنے ساتھ لے جائے گا اور وہ گناہوں سے پاک ہوجائے گا۔(المعجم )

پیدل حج کرنے کاثواب :۔ حضرت سیدنا زاذانؓ فرماتے ہیں کہ حضرت سید نا ابن عباسؓ شدید بیمارہوئے توانہوں نے اپنے بیٹوں کو بلایا اور فرمایا میں نے رسول ﷲﷺ سے سنا ہے ’’جومکہ مکرمہ سے حج کے لئے پیدل ہی چل کرجائے اور مکہ لوٹنے تک پیدل ہی چلے تو ﷲ تعالیٰ اس کے ہر قدم کے بدلے سات سونیکیاں لکھتا ہے اور ان میں ہر نیکی حرم میں کی گئی نیکیوں کی طرح ہے، ان سے پوچھا گیا حرم کی نیکیاں کیاہیں؟ فرمایا ان میں سے ہر ایک نیکی ایک لاکھ نیکیوں کے برابر ہے۔‘‘(المستدرک)

حج کے دوران انتقال ہوجائے تو اس پر اجر عظیم ہے :۔ حضرت سیدنا جابر ؓسے روایت ہے کہ سرورِ کونین ﷺنے فرمایا’’جو حج کے لیے مکہ کے راستے میں آتے یا جاتے ہوئے مرگیا اس سے نہ تو کوئی سوال ہوگا اور نہ ہی اس سے حساب لیاجائے گا اور اس کی مغفرت کردی جائے گی ۔(الترغیب والترھیب )

حضرت عبدﷲ بن عمر ؓروایت فرماتے ہیں کہ رسول ﷲﷺنے فرمایا ’’جب تو حاجی سے ملے تو اس کو سلام کراس سے مصافحہ کر اور اس سے کہہ کہ اپنے گھر میں داخل ہونے سے پہلے تیرے لیے مغفرت کی دعاکرے کیونکہ وہ بخشا ہواہے‘‘ (مشکوٰۃ )

حج کرنے میں جلدی کیجیے، لہٰذا ہر بندۂ مومن جو صاحبِ استطاعت ہو، زندگی میں اسےکم ازکم ایک مرتبہ ضرور حج کا قصد کرنا چاہیے۔ حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: حج یعنی فرض حج میں جلدی کرو، کیوں کہ تم میں کوئی یہ نہیں جانتا کہ کل اسے کیا عذر پیش آنے والاہے۔(مسنداحمد،:۲۸۶۷)

اقراء سے مزید