تفہیم المسائل
سوال: ہمارے ہاں تقریباً50فلیٹس ہیں، تمام فلیٹس مالکان سے ماہانہ نگہداشت چارجز لیے جاتے ہیں اور یونین اسے فلیٹس کی دیکھ بھال جیسے دیگر امور میں صرف کرتی ہے۔
عیدالاضحی پر قریب 30رہائشی قربانی کے جانور خرید کر لاتے ہیں اور بقیہ لوگ کہیں نہ کہیں حصہ لیتے ہیں اور کچھ قربانی نہیں کرتے۔ یونین نے قربانی کے جاوروں کی دیکھ بھال اور صفائی کے لیے ایک مناسب رقم مقررکی جو کہ قربانی کا جانور لانے والے رہائشی ادا کریں گے، مگر وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ماہانہ مینٹیننس ادا کرتے ہیں، یونین اسی میں اس کام کو پورا کرے۔
جو لوگ قربانی نہیں کرتے یا فلیٹس سے باہر کسی جگہ حصہ لیتے ہیں، اُن کا کہنا ہے کہ ہم بھی ماہانہ مینٹیننس دیتے ہیں، ہمارے پیسوں کو قربانی کے جانوروں کی دیکھ بھال پر استعمال نہ کیا جائے، اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں، (محمد جاوید، کراچی)
جواب: عموماً نگہداشت کی مَد میں جمع ہونے والی رقم سے فلیٹس کی یونین ہر گھر سے کچرا اٹھانے کا انتظام، روزانہ کمپاؤنڈ کی صفائی، پانی کی سپلائی، چوکیدار اور دیگر اخراجات پورے کرتی ہے، ان تمام سہولیات سے ہر رہائشی مستفید ہوتا ہے، اس لیے ہر رہائشی کے ذمہ اس کی ادائیگی لازم ہوتی ہے، اگر کوئی مکین یہ رقم ادا نہیں کرتا تو وہ دوسروں کی ادا کردہ رقم سے اُن کی بجلی، پانی اور دیگر اشیاء استعمال کرتا ہے، واضح اور ظاہر ہے کہ کسی دوسرے کی مِلک میں تصرُّف ناجائز ہے، شرح المجلّۃ میں ہے: ترجمہ:’’ کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ دوسرے کی اجازت کے بغیر اس کی مِلک میں تصرُّف کرے ،( مادہ:96،جلد:1 ص:262)‘‘۔
فلیٹس میں بندھنے والے جانوروں کے فضلے کی صفائی، ذبح کے بعد اُس جگہ کی صفائی اور دیگر امور میں صرف ہونے والی رقم گیارہ ماہ کے روزمرہ معمولات سے ہٹ کر اضافی ہے، قربانی نہ کرنے والے اور جو لوگ باہر قربانی میں حصہ لیتے ہیں، وہ اگر ان مصارف میں اپنی ماہانہ مینٹیننس کی مد میں دی جانے والی کے استعمال پر راضی نہیں ہیں، تو یونین اپنی مرضی سے اُس رقم کو ان مصارف پر صرف نہیں کرسکتی، حدیث پاک میں اس کی مذمت آئی ہے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ترجمہ:’’سنو! ظلم نہ کرو، سنو! کسی مسلمان کا مال اُس کی خوش دلی کے بغیر لینا حلال نہیں ہے، (شُعَبُ الایمان للبیہقی :5105)‘‘۔
ہماری رائے میں نگہداشت کے لیے ماہانہ مقررہ واجبات یونین والے معمول کے کاموں کے لیے لیتے ہیں، ان میں چوکیدار کی تنخواہ ، صفائی ، پانی کی فراہمی وغیرہ کے مصارف شامل ہیں، ان میں سب کا حق مساوی ہے۔
قربانی کے جانوروں کی نگہداشت، گوبر وغیرہ کی صفائی اضافی مصارف ہیں، ظاہر ہے بروقت صفائی نہ ہونے سے فلیٹس کے پورے ماحول میں آلودگی ہوتی ہے، اسی طرح ذبح کے بعد صفائی اور آلائشیں اٹھا کرمتعلقہ ٹھکانوں تک پہنچانے کا مسئلہ ہے، اس کے لیے قربانی والوں کو مناسب واجبات ادا کرنے میں تردّد نہیں ہونا چاہیے، ویسے بھی قربانی عبادت ہے اور اس سے متعلقہ جملہ مصارف پر اجر ملے گا اور شریعت کا حکم ہے مسلمان کو دوسروں کے لیے اذیت کا سبب نہیں بننا چاہیے۔
اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
darululoomnaeemia508@gmail.com