• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پانچوں نمازوں میں امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھنے کا حکم

آپ کے مسائل اور ان کا حل

سوال: کیا پانچوں نمازوں میں امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھنی چاہیے ؟

جواب: پانچوں نمازوں میں مقتدی کو قیام کے دوران امام کے پیچھے خاموش کھڑا رہنا چاہیے، اگر امام اونچی آواز سے تلاوت کررہا ہو تو اس کی تلاوت کی طرف توجہ دے اور اگر سری نماز ہے تو دل ہی دل میں سورۂ فاتحہ کے الفاظ کی جانب متوجہ رہے۔

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا اور ہمیں نماز کا طریقہ سکھایا اور فرمایا کہ جب تم نماز پڑھو تو اپنی صفیں درست کرلیا کرو، پھر تم میں سے کوئی امامت کرائے، جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو، جب وہ قرأت کرے تو بالکل خاموش رہو۔(صحیح الامام مسلم، باب التشہد فی الصلاۃ 1/ 304 ط: دار إحياء التراث العربی)

سنن ابن ماجہ، مسند احمد اور شرح معانی الآثار میں حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہو تو امام کی قرأت اس کی قرأت شمار ہوگی۔ (سنن ابن ماجہ، باب إذا قرأ الامام فأنصتوا 1/ 277 ط: دار إحياء الکتب العربيۃ، شرح معاني الآثار، باب القراءۃ خلف الامام 1/ 217 ط: عالم الکتاب، مسند أحمد 12/ 23 ط:مؤسسۃ الرسالۃ)

عبد اللہ بن شداد ؓروایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (ایک مرتبہ) عصر کی نماز پڑھائی، ایک شخص آپ ﷺ کے پیچھے نماز میں تلاوت کرنے لگا، اس شخص کے برابر والے نمازی نے اسے اشارے سے روکا، جب نماز سے فارغ ہوگئے تو تلاوت کرنے والے نے روکنے والے سے پوچھا کہ آپ نے مجھے تلاوت سے کیوں روکا؟

انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ آپ کے آگے تلاوت فرما رہے تھے، اس لیے میں نے پسند نہیں کیا کہ آپ، رسول اللہ ﷺ کے پیچھے تلاوت کریں، رسول اللہ ﷺ نے یہ سن کر فرمایا: جس کا امام ہو، اس کے امام کی قرأت اس کی قرأت ہے۔ ‌‌(موطأ الامام مالک روايۃ محمد بن الحسن الشيبانی، باب: افتتاح الصلاۃ،٦٢،ط : المکتبۃ العلميۃ)

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

iqra@banuri.edu.pk

اقراء سے مزید