• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حاجی کے لیے 9 ذوالحجہ کو فجر سے پہلے عرفات جانے کا حکم

آپ کے مسائل اور ان کا حل

سوال: حاجی کے لیے نو ذو الحجہ کو فجر کی نماز کے بعد زوال سے پہلے میدان عرفہ جانا سنّت ہے۔ اگر حکومتی انتظامی مجبوری کی وجہ سے حاجی کو نو ذو الحجہ کی فجر سے پہلے ہی میدان عرفہ میں پہنچا دیا جائے تو کیا سنّت چھوٹنے کی وجہ سے حج کے ثواب میں کمی یا کراہت ہوگی؟

جواب: حاجی کے لیے نو ذوالحجہ کو فجر کی نماز کے بعد زوال سے پہلے میدان ِ عرفات جانا سنّت ہے، لہٰذا جو لوگ نو ذوالحجہ کو فجر کی نماز کے بعد منیٰ سے عرفات روانہ ہوسکتے ہیں، وہ اس کا اہتمام کریں اور اگر بڑی عمر والے، خواتین یا بچے ساتھ ہوں یا گروپ کے ساتھ نہ جانے میں انتشار کا خطرہ ہو یا کھو جانے کا خطرہ یا کوئی دوسری مجبوری ہو تو گروپ کے ساتھ ان کے بتائے ہوئے وقت میں ہی عرفات کی طرف روانہ ہوں، ایسا کرنا مکروہ نہیں، اس کی وجہ سے ثواب میں کمی نہیں آئے گی۔ (البحر الرائق، کتاب الحج، باب الاحرام، ج:2، ص:361، دارالکتاب الاسلامی)

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

iqra@banuri.edu.pk

اقراء سے مزید