• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کے مسائل اور ان کا حل

سوال: اگر کوئی خاتون کسی ڈاکٹر کے پاس چیک اپ کے لیے جاتی ہے اورچاہتی ہے کہ چیک اپ کے دوران اس کا شوہر بھی ساتھ ہو، مگر ڈاکٹر ناراض ہوتا ہو اور اسے کلینک کے اصولوں کے خلاف کہتا ہو تو شریعت کیا کہتی ہے؟

جواب: اگر علاج مرد ڈاکٹر سے کرائے تو علاج کے وقت مسلمان مریضہ کے ساتھ اس کا محرم موجود ہونا، یہ مریضہ کاحق ہے اور وہ اپنے شرعی حق کے لیے اصرار کرسکتی ہے۔

ڈاکٹر کا ناراض ہونا بے جا اور خلاف شریعت ہے اور کلینک کے اصول شریعت کے اصولوں سے بڑھ کر نہیں ہیں۔ اگر ڈاکٹر عورت ہے تو مریضہ کے ساتھ محرم ہونا ضروری نہیں ہے۔

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

iqra@banuri.edu.pk

اقراء سے مزید